Quantcast
Ads by Muslim Ad Network









al-Ma`idah Farsi:: Ghodratollah Bakhtiari Nejad 

Ayat
5:1اے ایمان والو! اپنے قول پورے کرو (ف۲) تمہارے لئے حلال ہوئے بے زبان مویشی مگر وہ جو آگے سنایا جائے گا تم کو (ف۳) لیکن شکار حلال نہ سمجھو جب تم احرام میں ہو (ف۴) بیشک اللہ حکم فرماتا ہے جو چاہے،
5:2اے ایمان والو! حلال نہ ٹھہرالو اللہ کے نشان (ف۵) اور نہ ادب والے مہینے (ف۶) اور نہ حرم کو بھیجی ہوئی قربانیاں اور نہ (ف۷) جن کے گلے میں علامتیں آویزاں (ف۸) اور نہ ان کا مال و آبرو جو عزت والے گھر کا قصد کرکے آئیں (ف۹) اپنے رب کا فضل اوراس کی خوشی چاہتے اور جب احرام سے نکلو تو شکار کرسکتے ہو (ف۱۰) اور تمہیں کسی قوم کی عداوت کہ انہوں نے تم کو مسجد حرام سے روکا تھا، زیادتی کرنے پر نہ ابھارے (ف۱۱) اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو (ف۱۲) اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،
5:3تم پر حرام ہے (ف۱۳) مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا اور جو گلا گھونٹنے سے مرے اور بے دھار کی چیز سے مارا ہوا اور جو گر کر مرا اور جسے کسی جانور نے سینگ مارا اور جسے کوئی درندہ کھا گیا مگر جنہیں تم ذبح کرلو، اور جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا اور پانسے ڈال کر بانٹا کرنا یہ گناہ کا کا م ہے، آج تمہارے دین کی طرف سے کافروں کی آس نوٹ گئی (ف۱۴) تو اُن سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو آج میں نے تمہارے لئے دین کامل کردیا (ف۱۵) اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی (ف۱۶) اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا (ف۱۷) تو جو بھوک پیاس کی شدت میں ناچار ہو یوں کہ گناہ کی طرف نہ جھکے (ف۱۸) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
5:4اے محبوب! تم سے پوچھتے ہیں کہ اُن کے لئے کیا حلال ہوا تم فرمادو کہ حلال کی گئیں تمہارے لئے پاک چیزیں (ف۱۹) اور جو شکاری جانور تم نے سدھالیے (ف۲۰) انہیں شکار پر دوڑاتے جو علم تمہیں خدا نے دیا اس سے انہیں سکھاتے تو کھاؤ اس میں سے جو وہ مار کر تمہارے لیے رہنے دیں (ف۲۱) اور اس پر اللہ کا نام لو (ف۲۲) اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کو حساب کرتے دیر نہیں لگتی،
5:5آج تمہارے لئے پاک چیزیں حلال ہوئیں، اور کتابیوں کا کھانا (ف۲۳) تمہارے لیے حلال ہوا، اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے، اور پارسا عورتیں مسلمان (ف۲۴) اور پارسا عورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی جب تم انہیں ان کے مہر دو قید میں لاتے ہوئے (ف۲۵) نہ مستی نکالتے اور نہ ناآشنا بناتے (ف۲۶) اور جو مسلمان سے کافر ہو اس کا کیا دھرا سب اکارت گیا اور وہ آخرت میں زیاں کار ہے(ف۲۷)
5:6اے ایمان والو جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو (ف۲۸) تو اپنا منہ دھوؤ اور کہنیوں تک ہاتھ (ف۲۹) اور سروں کا مسح کرو (ف۳۰) اور گٹوں تک پاؤ ں دھوؤ (ف۳۱) اور اگر تمہیں نہانے کی حاجت ہو تو خوب ستھرے ہولو (ف۳۲) اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا یا تم نے عورتوں سے صحبت کی اور ان صورتوں میں پانی نہ پایا مٹی سے تیمم کرو تو اپنے منہ اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرو، اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کچھ تنگی رکھے ہاں یہ چاہتا ہے کہ تمہیں خوب ستھرا کردے اور اپنی نعمت تم پر پوری کردے کہ کہیں تم احسان مانو،
5:7اور یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر (ف۳۳) اور وہ عہد جو اس نے تم سے لیا (ف۳۴) جبکہ تم نے کہا ہم نے سنا اور مانا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے،
5:8اے ایمان والوں اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ انصاف کے ساتھ گواہی دیتے (ف۳۶) اور تم کو کسی قوم کی عداوت اس پر نہ اُبھارے کہ انصاف نہ کرو، انصاف کرو، وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ کو تمہارے کامو ں کی خبر ہے،
5:9ایمان والے نیکو کاروں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے،
5:10اور وہ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وحی دوزخ والے ہیں(ف۳۷)
5:11اے ایمان والو! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب ایک قوم نے چاہا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ تم پر سے روک دیئے (ف۳۸) اور اللہ سے ڈرو اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے،
5:12اور بیشک اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد کیا (ف۳۹) اور ہم نے ان میں بارہ سردار قائم کیے (ف۴۰) اور اللہ نے فرمایا بیشک میں (ف۴۱) تمہارے ساتھ ہوں ضرور اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور میرے سوالوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو اور اللہ کو قرض حسن دو (ف۴۲) بیشک میں تمہارے گناہ اتار دوں گا اور ضرور تمہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں، پھر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے وہ ضرور سیدھی راہ سے بہکا (ف۴۳)
5:13تو ان کی کیسی بد عہدیوں (ف۴۴) پر ہم نے انہیں لعنت کی اور ان کے دل سخت کردیئے اللہ کی باتوں کو (ف۴۵) ان کے ٹھکانوں سے بدلتے ہیں اور بُھلا بیٹھے بڑا حصہ ان نصیحتوں کا جو انہیں دی گئیں (ف۴۶) اور تم ہمیشہ ان کی ایک نہ ایک دغا پر مطلع ہوتے رہو گے (ف۴۷) سوا تھوڑوں کے (ف۴۸) تو انہیں معاف کردو اور ان سے درگزرو (ف۴۹) بیشک احسان والے ا لله کو محبوب ہیں،
5:14اور وہ جنہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے عہد لیا (ف۵۰) تو وہ بھلا بیٹھے بڑا حصہ ان نصیحتوں کا جو انہیں دی گئیں (ف۵۱) تو ہم نے ان کے آپس میں قیامت کے دن تک بَیر اور بغض ڈال دیا (ف۵۲) اور عنقریب اللہ انہیں بتادے گا جو کچھ کرتے تھے (ف۵۳)
5:15اے کتاب والو (ف۵۴) بیشک تمہارے پاس ہمارے یہ رسول (ف۵۵) تشریف لائے کہ تم پر ظاہر فرماتے ہیں بہت سی وہ چیزیں جو تم نے کتاب میں چھپا ڈالی تھیں (ف۵۶) اور بہت سی معاف فرماتے ہیں (ف۵۷) بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا (ف۵۸) اور روشن کتاب(ف۵۹)
5:16اللہ اس سے ہدایت دیتا ہے اسے جو اللہ کی مرضی پر چلا سلامتی کے ساتھ اور انہیں اندھیریوں سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے اپنے حکم سے اور انہیں سیدھی راہ دکھاتا ہے،
5:17بیشک کافر ہوئے وہ جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح بن مریم ہی ہے (ف۶۰) تم فرما دو پھر اللہ کا کوئی کیا کرسکتا ہے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کردے مسیح بن مریم اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو (ف۶۱) اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی جو چاہے پیدا کرتا ہے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
5:18اور یہودی اور نصرانی بولے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں (ف۶۲) تم فرما دو پھر تمہیں کیوں تمہارے گناہوں پر عذاب فرماتا ہے (ف۶۳) بلکہ تم آدمی ہو اس کی مخلوقات سے جسے چاہے بخشتا ہے اور جسے چاہے سزا دیتا ہے، اور اللہ ہی کے لئے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین اور اس کے درمیان کی، اور اسی کی طرف پھرنا ہے،
5:19اے کتاب والو! بیشک تمہارے پاس ہمارے یہ رسول (ف۶۴) تشریف لائے کہ تم پر ہمارے احکام ظاہر فرماتے ہیں بعد اس کے کہ رسولوں کا آنا مدتوں بند رہا تھا (ف۶۵) کہ کبھی کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشی اور ڈر سنانے والا نہ آیا تو یہ خوشی اور ڈر سنانے والے تمہارے پاس تشریف لائے ہیں، اور اللہ کو سب قدرت ہے،
5:20اور جب موسیٰ نے کہا اپنی قوم سے اے میری قوم اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو کہ تم میں سے پیغمبر کیے اور تمہیں بادشاہ کیا (ف۶۷) اور تمہیں وہ دیا جو آج سارے جہان میں کسی کو نہ دیا (ف۶۸)
5:21اے قوم اس پاک زمین میں داخل ہو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھی ہے اور پیچھے نہ پلٹو (ف۶۹) کہ نقصان پر پلٹو گے،
5:22بولے اے موسیٰ اس میں تو بڑے زبردست لوگ ہیں، اور ہم اس میں ہرگز داخل نہ ہوں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ہاں وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم وہاں جائیں،
5:23دو مرد کہ اللہ سے ڈرنے والوں میں سے تھے (ف۷۰) ا لله نے انہیں نوازا (ف۷۱) بولے کہ زبردستی دروازے میں (ف۷۲) ان پر داخل ہو اگر تم دروازے میں داخل ہوگئے تو تمہارا ہی غلبہ ہے (ف۷۳) اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تمہیں ایمان ہے،
5:24بولے (ف۷۴) اے موسیٰ ہم تو وہاں (ف۷۵) کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں ہیں تو آپ جائیے اور آپ کا رب تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں،
5:25موسیٰ نے عرض کی کہ اے رب! میرے مجھے اختیار نہیں مگر اپنا اور اپنے بھائی کا تو تو ہم کو ان بے حکموں سے جدا رکھ (ف۷۶)
5:26فرمایا تو وہ زمین ان پر حرام ہے (ف۷۷) چالیس برس تک بھٹکتے پھریں زمین میں (ف۷۸) تو تم ان بے حکموں کا افسوس نہ کھاؤ،
5:27اور انہیں پڑھ کر سناؤ آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر (ف۷۹) جب دونوں نے ایک ایک نیاز پیش کی تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی نہ قبول ہوئی بولا قسم ہے میں تجھے قتل کردوں گا (ف۸۰) کہا اللہ اسی سے قبول کرتا ہے، سے ڈر ہے (ف۸۱)
5:28بیشک اگر تو اپنا ہاتھ مجھ پر بڑھائے گا کہ مجھے قتل کرے تو میں اپنا ہاتھ تجھ پر نہ بڑھاؤں گا کہ تجھے قتل کروں (ف۸۲) میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو مالک ہے سارے جہاں کا،
5:29میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میرا (ف۷۳) اور تیرا گناہ (ف۸۴) دونوں تیرے ہی پلہ پڑے تو تو دوز خی ہوجائے، اور بے انصافوں کی یہی سزا ہے،
5:30تو اسکے نفس نے اسے بھائی کے قتل کا چاؤ دلایا تو اسے قتل کردیا تو رہ گیا نقصان میں(ف۸۵)
5:31تو اللہ نے ایک کوا بھیجا زمین کریدتا کہ اسے دکھائے کیونکر اپنے بھائی کی لاش چھپائے (ف۸۶) بولا ہائے خرابی میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ میں اپنے بھائی کی لاش چھپاتا تو پچتاتا رہ گیا(ف۸۷)
5:32اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کیے (ف۸۸) تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا (ف۸۹) اور جس نے ایک جان کو جِلا لیا (ف۹۰) اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا، اور بیشک ان کے (ف۹۱) پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے (ف۹۲) پھر بیشک ان میں بہت اس کے بعد زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں(ف۹۳)
5:33وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے (ف۹۴) اور ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دیے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردیے جائیں، یہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے، اور آخرت میں ان کے لیے بڑا غداب،
5:34مگر وہ جنہوں نے توبہ کرلی اس سے پہلے کہ تم ان پر قابو پاؤ (ف۹۵) تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
5:35اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو (ف۶۶) اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ،
5:36بیشک وہ جو کافر ہوئے جو کچھ زمین میں ہے سب اور اس کی برابر اور اگر ان کی ملک ہو کہ اسے دے کر قیامت کے عذاب سے اپنی جان چھڑائیں تو ان سے نہ لیا جائے گا اور ان کے لئے دکھ کا عذاب ہے(ف۹۷)
5:37دوزخ سے نکلنا چاہیں گے اور وہ اس سے نہ نکلیں گے اور ان کو دوامی سزا ہے،
5:38اور جو مرد یا عورت چور ہو (ف۹۸) تو ان کا ہاتھ کاٹو (ف۹۹) ان کے کیے کا بدلہ اللہ کی طرف سے سزا، اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
5:39تو جو اپنے ظلم کے بعد توبہ کرے اور سنور جائے تو اللہ اپنی مہر سے اس پر رجوع فرمائے گا (ف۱۰۰) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
5:40کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، سزا دیتا ہے جسے چاہے اور بخشتا ہے جسے چاہے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے، (ف۱۰۱)
5:41اے رسول! تمہیں غمگین نہ کریں وہ جو کفر پڑ دوڑتے ہیں (ف۱۰۲) جو کچھ وہ اپنے منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور ان کے دل مسلمان نہیں (ف۱۰۳) اور کچھ یہودی جھوٹ خوب سنتے ہیں (ف۱۰۴) اور لوگوں کی خوب سنتے ہیں (ف۱۰۵) جو تمہارے پاس حاضر نہ ہوئے اللہ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں کے بعد بدل دیتے ہیں، کہتے ہیں یہ حکم تمہیں ملے تو مانو اور یہ نہ ملے تو بچو (ف۱۰۶) اور جسے اللہ گمراہ کرنا چاہے تو ہرگز تو اللہ سے اس کا کچھ بنا نہ سکے گا، وہ ہیں کہ اللہ نے ان کا دل پاک کرنا نہ چاہا، انہیں دنیا میں رسوائی ہے، اور انہیں آخرت میں بڑا عذاب،
5:42بڑے جھوٹ سننے والے بڑے حرام خور (ف۱۰۷) تو اگر تمہارے حضور حاضر ہوں (ف۱۰۸) تو ان میں فیصلہ فرماؤ یا ان سے منہ پھیرلو (ف۱۰۹) اور اگر تم ان سے منہ پھیرلو گے تو وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے (ف۱۱۰) اور اگر ان میں فیصلہ فرماؤ تو انصاف سے فیصلہ کرو، بیشک انصاف والے اللہ کو پسند ہیں،
5:43اور وہ تم سے کیونکر فیصلہ چاہیں گے، حالانکہ ان کے پاس توریت ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے (ف۱۱۱) بایں ہمہ اسی سے منہ پھیرتے ہیں (ف۱۱۲) اور وہ ایمان لانے والے نہیں،
5:44بیشک ہم نے توریت اتاری اس میں ہدایت اور نور ہے، اس کے مطابق یہود کو حکم دیتے تھے ہمارے فرمانبردار نبی اور عالم اور فقیہہ کہ ان سے کتاب اللہ کی حفاظت چاہی گئی تھی (ف۱۱۳) اور وہ اس پر گواہ تھے تو (ف۱۱۴) لوگوں سے خوف نہ کرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کے بدلے ذلیل قیمت نہ لو (ف۱۱۵) اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے (ف۱۱۶) وہی لوگ کافر ہیں،
5:45اور ہم نے توریت میں ان پر واجب کیا (ف۱۱۷) کہ جان کے بدلے جان (ف۱۱۸) اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے (ف۱۱۹) پھر جو دل کی خوشی سے بدلہ کراوے تو وہ اس کا گناہ اتار دے گا (ف۱۲۰) اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں،
5:46اور ہم ان نبیوں کے پیچھے ان کے نشانِ قدم پر عیسیٰ بن مریم کو لائے تصدیق کرتا ہوا توریت کی جو اس سے پہلے تھی (ف۱۲۱) اور ہم نے اسے انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تصدیق فرماتی ہے توریت کی کہ اس سے پہلی تھی اور ہدایت (ف۱۲۲) اور نصیحت پرہیزگاروں کو،
5:47اور چاہئے کہ انجیل والے حکم کریں اس پر جو اللہ نے اس میں اتارا (ف۱۲۳) اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کریں تو وہی لوگ فاسق ہیں،
5:48اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی (ف۱۲۴) اور ان پر محافظ و گواہ تو ان میں فیصلہ کرو اللہ کے اتارے سے (ف۱۲۵) اور اسے سننے والے ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اپنے پاس آیا ہوا حق چھوڑ کر، ہم نے تم سب کے لیے ایک ایک شریعت اور راستہ رکھا (ف۱۲۶) اور اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت کردیتا مگر منظور یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں دیا اس میں تمہیں آزمائے (ف۱۲۷) تو بھلائیوں کی طرف سبقت چاہو، تم سب کا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے تو وہ تمہیں بتادے گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے
5:49اور یہ کہ اے مسلمان! اللہ کے اتارے پر حکم کر اور ان کی خواہشوں پر نہ چل اور ان سے بچتا رہ کہ کہیں تجھے لغزش نہ دے دیں کسی حکم میں جو تیری طرف اترا پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۲۸) تو جان لو کہ اللہ ان کے بعض گناہوں کی (ف۱۲۹) سزا ان کو پہنچایا چاہتا ہے (ف۱۳۰) اور بیشک بہت آدمی بے حکم ہیں،
5:50تو کیا جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں (ف۱۳۱) اور اللہ سے بہتر کس کا حکم یقین والوں کے لیے،
5:51اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ (ف۱۳۲) وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں (ف۱۳۳) اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے (ف۱۳۴) بیشک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا (ف۱۳۵)
5:52اب تم انہیں دیکھو گے جن کے دلوں میں آزار ہے (ف۱۳۶) کہ یہود و نصاریٰ کی طرف دوڑتے ہیں کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ ہم پر کوئی گردش آجائے (ف۱۳۷) تو نزدیک ہے کہ اللہ فتح لائے (ف۱۳۸) یا اپنی طرف سے کوئی حکم (ف۱۳۹) پھر اس پر جو اپنے دلوں میں چھپایا تھا (ف۱۴۰) پچھتائے رہ جائیں
5:53اور (ف۱۴۱) ایمان والے کہتے ہیں کیا یہی ہیں جنہوں نے اللہ کی قسم کھائی تھی اپنے حلف میں پوری کوشش سے کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں ان کا کیا دھرا سب اکارت گیا تو رہ گئے نقصان میں (ف۱۴۲)
5:54اے ایمان والو! تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا (ف۱۴۳) تو عنقریب اللہ ایسے لوگ لائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت اللہ کی راہ میں لڑیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے (ف۱۴۴) یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،
5:55تمہارے دوست نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے (ف۱۴۵) کہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں (ف۱۴۶)
5:56اور جو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کو اپنا دوست بنائے تو بیشک اللہ ہی کا گروہ غالب ہے،
5:57اے ایمان والو! جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنالیا ہے (ف۱۴۷) وہ جو تم سے پہلے کتاب دیے گئے اور کافر (ف۱۴۸) ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر ایمان رکھتے ہو(ف۱۴۹)
5:58اور جب تم نماز کے لئے اذان دو تو اسے ہنسی کھیل بناتے ہیں (ف۱۵۰) یہ اس لئے کہ وہ نرے بے عقل لوگ ہیں (ف۱۵۱)
5:59تم فرماؤ اے کتابیوں تمہیں ہمارا کیا برا لگا یہی نہ کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور اس پر جو پہلے اترا (ف۱۵۲) اور یہ کہ تم میں اکثر بے حکم ہیں،
5:60تم فرماؤ کیا میں بتادوں جو اللہ کے یہاں اس سے بدتر درجہ میں ہیں (ف۱۵۳) وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر غضب فرمایا اور ان میں سے کردیے بندر اور سور (ف۱۵۴) اور شیطان کے پجاری ان کا ٹھکانا زیادہ برا ہے (ف۱۵۵) اور یہ سیدھی راہ سے زیادہ بہکے،
5:61اور جب تمہارے پاس آئیں (ف۱۵۶) ہم مسلمان ہیں اور وہ آتے وقت بھی کافر تھے اور جاتے وقت بھی کافر، اور اللہ خوب جانتا ہے جو چھپا رہے ہیں
5:62اور ان (ف۱۵۷) میں تم بہتوں کو دیکھو گے کہ گناہ اور زیادتی اور حرام خوری پر دوڑتے ہیں (ف۱۵۸) بیشک بہت ہی برے کام کرتے ہیں،
5:63انہیں کیوں نہیں منع کرتے ان کے پادری اور درویش گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے، بیشک بہت ہی برے کام کررہے ہیں (ف۱۵۹)
5:64اور یہودی بولے اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے (ف۱۶۰) ان کے ہاتھ باندھے جائیں (ف۱۶۱) اور ان پر اس کہنے سے لعنت ہے بلکہ اس کے ہاتھ کشادہ ہیں (ف۱۶۲) عطا فرماتا ہے جیسے چاہے (ف۱۶۳) اور اے محبوب! یہ (ف۱۶۴) جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اس سے ان میں بہتوں کو شرارت اور کفر میں ترقی ہوگی (ف۱۶۵) اور ان میں ہم نے قیامت تک آپس میں دشمنی اور بیر ڈال دیا (ف۱۶۶) جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے (ف۱۶۷) اور زمین میں فساد کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں، اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا،
5:65اور اگر کتاب والے ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ضرور ہم ان کے گناہ اتار دیتے اور ضرور انہیں چین کے باغوں میں لے جاتے
5:66اور اگر وہ قائم رکھتے توریت اور انجیل (ف۱۶۸) اور جو کچھ ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے اترا (ف۱۶۹) تو انہیں رزق ملتا اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے (ف۱۷۰) ان میں کوئی گروہ اگر اعتدال پر ہے (ف۱۷۱) اور ان میں اکثر بہت ہی برے کام کررہے ہیں(ف۱۷۲)
5:67اے رسول پہنچا دو جو کچھ اترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے (ف۱۷۳) اور ایسا نہ ہو تو تم نے اس کا کوئی پیام نہ پہنچایا اور اللہ تمہاری نگہبانی کرے گا لوگوں سے (ف۱۷۴) بیشک اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا،
5:68تم فرمادو، اے کتابیو! تم کچھ بھی نہیں ہو (ف۱۷۵) جب تک نہ قائم کرو توریت اور انجیل اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا (ف۱۷۶) اور بیشک اے محبوب! وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اس میں بہتوں کو شرارت اور کفر کی اور ترقی ہوگی (ف۱۷۷) تو تم کافروں کا کچھ غم نہ کھاؤ،
5:69بیشک وہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں (ف۱۷۸) اور اسی طرح یہودی اور ستارہ پرت اور نصرانی ان میں جو کوئی سچے دل سے اللہ اور قیامت پر ایمان لائے اور اچھے کام کرے توان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم،
5:70بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا (ف۱۷۹) اور ان کی طرف رسول بھیجے، جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول وہ بات لے کر آیا جو ان کے نفس کی خواہش نہ تھی (ف۱۸۰) ایک گروہ کو جھٹلایا اور ایک گروہ کو شہید کرتے ہیں(ف۱۸۱)
5:71اور اس گمان میں ہیں کہ کوئی سزا نہ ہوگی (ف۱۸۲) تو اندھے اور بہرے ہوگئے (ف۱۸۳) پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی (ف۱۸۴) پھر ان میں بہتیرے اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے،
5:72بیشک کافر ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ اللہ وہی مسیح مریم کا بیٹا ہے (ف۱۸۵) اور مسیح نے تو یہ کہا تھا، اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب (ف۱۸۶) اور تمہارا رب، بیشک جو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،
5:73بیشک کافر ہیں وہ جو کہتے ہیں اللہ تین خداؤں میں کا تیسرا ہے (ف۱۸۷) اور خدا تو نہیں مگر ایک خدا (ف۱۸۸) اور اگر اپنی بات سے باز نہ آئے (ف۱۸۹) تو جو ان میں کافر مریں گے ان کو ضرور دردناک عذاب پہنچے گا،
5:74تو کیوں نہیں رجوع کرتے اللہ کی طرف اور اس سے بخشش مانگتے، اور اللہ بخشنے والا مہربان،
5:75مسیح بن مریم نہیں مگر ایک رسول (ف۱۹۰) اس سے پہلے بہت رسول ہو گزرے (ف۱۹۱) اور اس کی ماں صدیقہ ہے (ف۱۹۲) دونوں کھانا کھاتے تھے (ف۱۹۳) دیکھو تو ہم کیسی صاف نشانیاں ان کے لئے بیان کرتے ہیں پھر دیکھو وہ کیسے اوندھے جاتے ہیں،
5:76تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہو جو تمہارے نقصان کا مالک نہ نفع کا (ف۱۹۴) اور اللہ ہی سنتا جانتا ہے،
5:77تم فرماؤ اے کتاب والو! اپنے دین میں ناحق زیادتی نہ کرو (ف۱۹۵) اور ایسے لوگوں کی خواہش پر نہ چلو (ف۱۹۶) جو پہلے گمراہ ہوچکے اور بہتوں کو گمراہ کیا اور سیدھی راہ سے بہک گئے
5:78لعنت کیے گئے وہ جنہوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان پر (ف۱۹۷)یہ بدلہ ان کی نافرمانی اور سرکشی کا،
5:79جو بری بات کرتے آپس میں ایک دوسرے کو نہ روکتے ضرور بہت ہی برے کام کرتے تھے(ف۱۹۹)
5:80ان میں تم بہت کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں، کیا ہی بری چیز اپنے لیے خود آگے بھیجی یہ کہ اللہ کا ان پر غضب ہوا اور وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے (ف۲۰۰)
5:81اور اگر وہ ایمان لاتے (ف۲۰۱) اللہ اور ان نبی پر اور اس پر جو ان کی طرف اترا تو کافروں سے دوستی نہ کرتے (ف۲۰۲) مگر ان میں تو بہتیرے فاسق ہیں،
5:82ضرور تم مسلمانوں کا سب سے بڑھ کر دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے اور ضرور تم مسلمانوں کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان کو پاؤ گے جو کہتے تھے ہم نصاریٰ ہیں (ف۲۰۳) یہ اس لئے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں اور یہ غرور نہیں کرتے -(ف۲۰۴)
5:83اور جب سنتے ہیں وہ جو رسول کی طرف اترا (ف۲۰۵) تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوؤں سے ابل رہی ہیں (ف۲۰۶) اس لیے کہ وہ حق کو پہچان گئے، کہتے ہیں اے رب ہمارے! ہم ایمان لائے (ف۲۰۷) تو ہمیں حق کے گواہوں میں لکھ لے (ف۲۰۸)
5:84اور ہمیں کیا ہوا کہ ہم ایمان نہ لائیں اللہ پر اور اس حق پر کہ ہمارے پاس آیا اور ہم طمع کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارا رب نیک لوگوں کے ساتھ داخل کرے(ف۲۰۹)
5:85تو اللہ نے ان کے اس کہنے کے بدلے انہیں باغ دیے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہ بدلہ ہے نیکوں کا (ف ۲۱۰)
5:86اور وہ جنہوں کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ ہیں دوزخ والے،
5:87اے ایمان والو! (ف۲۱۱) حرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لیے حلال کیں (ف۲۱۲) اور حد سے نہ بڑھو، بیشک حد سے بڑھنے والے اللہ کو ناپسند ہیں،
5:88اور کھاؤ جو کچھ تمہیں اللہ نے روزی دی حلال پاکیزہ او ر ڈرو اللہ سے جس پر تمہیں ایمان ہے،
5:89اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر (ف۲۱۳) ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتے ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا (ف۲۱۴) تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا (ف۲۱۵) اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے (ف۲۱۶) یا انہیں کپڑے دینا (ف۲۱۷) یا ایک بردہ آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے (ف۲۱۸) یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا، جب قسم کھاؤ (ف۲۱۹) اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو (ف۲۲۰) اسی طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم احسان مانو،
5:90اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ،
5:91شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے (ف۲۲۱) تو کیا تم باز آئے،
5:92اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ہوشیار رہو، پھر اگر تم پھر جاؤ (ف۲۲۲) تو جان لو کہ ہمارے رسول کا ذمہ صرف واضح طور پر حکم پہنچادینا ہے (ف۲۲۳)
5:93جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان پر کچھ گناہ نہیں (ف۲۲۴) جو کچھ انہوں نے چکھا جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیک رہیں، اور اللہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے (ف۲۲۵)
5:94اے ایمان والوں ضرور اللہ تمہیں آزمائے گا ایسے بعض شکار سے جس تک تمہارا ہاتھ اور نیزے پہنچیں (ف۲۲۶) کہ اللہ پہچان کرادے ان کی جو اس سے بن دیکھے ڈرتے ہیں، پھر اس کے بعد جو حد سے بڑھے (ف۲۲۷) اس کے لئے دردناک عذاب ہے،
5:95اے ایمان والو! شکار نہ مارو جب تم احرام میں ہو (ف۲۲۸) اور تم میں جو اسے قصداً قتل کرے (ف۲۲۹) تو اس کا بدلہ یہ ہے کہ ویسا ہی جانور مویشی سے دے (ف۲۳۰) تم میں کہ دو ثقہ آدمی اس کا حکم کریں (ف۲۳۱) یہ قربانی ہو کہ کعبہ کو پہنچتی (ف۲۳۲) یا کفار ہ دے چند مسکینوں کا کھانا (ف۲۳۳) یا اس کے برابر روزے کہ اپنے کام کا وبال چکھے اللہ نے معاف کیا جو ہو گزرا (ف۲۳۴) اور جو اب کرے گا اس سے بدلہ لے گا، اور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا،
5:96حلال ہے تمہارے لیے دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے اور مسافروں کے فائدے کو اور تم پرحرام ہے خشکی کا شکار (ف۲۳۵) جب تک تم احرام میں ہو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تمہیں اٹھنا ہے،
5:97اللہ نے ادب والے گھر کعبہ کو لوگوں کے قیام کا باعث کیا (ف۲۳۶) اور حرمت والے مہینہ (ف۲۳۷) اور حرم کی قربانی اور گلے میں علامت آویزاں جانوروں کو (ف۲۳۸) یہ اس لیے کہ تم یقین کرو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور یہ کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے،
5:98جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے (ف۲۳۹) اور اللہ بخشنے والا مہربان،
5:99رسول پر نہیں مگر حکم پہنچانا (ف۲۴۰) اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو(ف۲۴۱)
5:100تم فرمادو کہ گندہ اور ستھرا برابر نہیں (ف۲۴۲) اگرچہ تجھے گندے کی کثرت بھائے، تو اللہ سے ڈرتے رہو اے عقل والو! کہ تم فلاح پاؤ،
5:101اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں (ف۲۴۳) اور اگر انہیں اس وقت پوچھو گے کہ قرآن اتر رہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی، اللہ انہیں معاف کرچکا ہے (ف۲۴۴) اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے،
5:102تم سے اگلی ایک قوم نے انہیں پوچھا (ف ۲۴۵) پھر ان سے منکر ہو بیٹھے،
5:103اللہ نے مقرر نہیں کیا ہے کان چِرا ہوا اور نہ بجار اور نہ وصیلہ اور نہ حامی (ف۲۴۶) ہاں کافر لوگ اللہ پر جھوٹا افترا باندھتے ہیں (ف۲۴۷) اور ان میں اکثر نرے بے عقل ہیں(ف۲۴۸)
5:104اور جب ان سے کہا جائے آؤ اس طرف جو اللہ نے اُتارا اور رسول کی طرف (ف۲۴۹) کہیں ہمیں وہ بہت ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ جانیں نہ راہ پر ہوں (ف۲۵۰)
5:105اے ایمان والو! تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو (ف۲۵۱) تم سب کی رجوع اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو تم کرتے تھے،
5:106اے ایمان والوں (ف۲۵۲) تمہاری آپس کی گواہی جب تم میں کسی کو موت آئے (ف۲۵۳) وصیت کرتے وقت تم میں کے دو معتبر شخص ہیں یا غیروں میں کے دو جب تم ملک میں سفر کو جاؤ پھر تمہیں موت کا حادثہ پہنچے، ان دونوں کو نماز کے بعد روکو (ف۲۵۴) وہ اللہ کی قسم کھائیں اگر تمہیں کچھ شک پڑے (ف۲۵۵) ہم حلف کے بدلے کچھ مال نہ خریدیں گے (ف۲۵۶) اگرچہ قریب کا رشتہ دار ہو اور اللہ کی گواہی نہ چھپائیں گے ایسا کریں تو ہم ضرور گنہگاروں میں ہیں،
5:107پھر اگر پتہ چلے کہ وہ کسی گناہ کے سزاوار ہوئے (ف۲۵۷) تو ان کی جگہ دو اور کھڑے ہوں ان میں سے کہ اس گناہ یعنی جھوٹی گواہی نے ان کا حق لے کر ان کو نقصان پہنچایا (ف۲۵۸) جو میت سے زیادہ قریب ہوں تو اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی زیادہ ٹھیک ہے ان دو کی گواہی سے اور ہم حد سے نہ بڑھے (ف۲۵۹) ایسا ہو تو ہم ظالموں میں ہوں،
5:108یہ قریب تر ہے اس سے کہ گواہی جیسی چاہیے ادا کریں یا ڈریں کہ کچھ قسمیں رد کردی جائیں ان کی قسموں کے بعد (ف۲۶۰) اور اللہ سے ڈرو اور حکم سنو، اور اللہ بے حکموں کو راہ نہیں دیتا،
5:109جس دن اللہ جمع فرمائے گا رسولوں کو (ف۲۶۱) پھر فرمائے گا تمہیں کیا جواب ملا (ف۲۶۲) عرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں، بیشک تو ہی ہے سب غیبوں کا جاننے والا(ف۲۶۳)
5:110جب اللہ فرمائے گا اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! یاد کر میرا احسان اپنے اوپر اور اپنی ماں پر (ف۲۶۴) جب میں نے پاک روح سے تیری مدد کی (ف۲۶۵) تو لوگوں سے باتیں کرتا پالنے میں (ف۲۶۶) اور پکی عمر ہوکر (ف۲۶۷) اور جب میں نے تجھے سکھائی کتاب اور حکمت (ف۲۶۸) اور توریت اور انجیل اور جب تو مٹی سے پرند کی سی مورت میرے حکم سے بناتا پھر اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتی (ف۲۶۹) اور تو مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے شفا دیتا اور جب تو مُردوں کو میرے حکم سے زندہ نکالتا (ف۲۷۰) اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روکا (ف۲۷۱) جب تو ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آیا تو ان میں کے کافر بولے کہ یہ (ف۲۷۲) تو نہیں مگر کھلا جادو،
5:111اور جب میں نے حواریوں (ف۲۷۳) کے دل میں ڈالا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر (ف۲۷۴) ایمان لاؤ بولے ہم ایمان لائے اور گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں(ف۲۷۵)
5:112جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتارے (ف۲۷۶) کہا اللہ سے ڈرو ! اگر ایمان رکھتے ہو(ف۲۷۷)
5:113بولے ہم چاہتے ہیں (ف۲۷۸) کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل ٹھہریں (ف۲۷۹) اور ہم آنکھوں دیکھ لیں کہ آپ نے ہم سے سچ فرمایا (ف۲۸۰) اور ہم اس پر گواہ ہوجائیں(ف۲۸۱)
5:114عیسیٰ بن مریم نے عرض کی، اے اللہ! اے رب ہمارے! ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو (ف۲۸۲) ہمارے اگلے پچھلوں کی (ف۲۸۳) اور تیری طرف سے نشانی (ف۲۸۴) اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے،
5:115اللہ نے فرمایا کہ میں اسے تم پر اُتارتا ہوں، پھر اب جو تم میں کفر کرے گا (ف۲۸۵) تو بیشک میں اسے وہ عذاب دوں گا کہ سارے جہان میں کسی پر نہ کروں گا(ف۲۸۶)
5:116اور جب اللہ فرمائے گا (ف۲۸۷) اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا تو نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو خدا بنالو اللہ کے سوا (ف۲۸۸) عرض کرے گا، پاکی ہے تجھے (ف۲۸۹) مجھے روا نہیں کہ وہ بات کہوں جو مجھے نہیں پہنچتی (ف۲۹۰) اگر میں نے ایسا کہا ہو تو ضرور تجھے معلوم ہوگا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے، بیشک تو ہی ہے سب غیبوں کا خوب جاننے والا (ف۲۹۱)
5:117میں نے تو ان سے نہ کہا مگر وہی جو تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ ا لله کو پوجو جو میرا بھی رب اور تمھا ر ا بھی رب اور میں ان پر مطلع تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا (ف۲۹۲) تو تُو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھا، اور ہر چیز تیرے سامنے حاضر ہے(ف۲۹۳)
5:118اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا (ف۲۹۴)
5:119اللہ نے فرمایا کہ یہ (ف۲۹۵) ہے وہ دن جس میں سچوں کو (ف۲۹۶) ان کا سچ کام آئے گا، ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی، یہ ہے بڑی کامیابی،
5:120اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کی سلطنت، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے(ف۲۹۷)



Share this Surah Translation on Facebook...