Quantcast
Ads by Muslim Ad Network









al-Ahqaf Farsi:: Ghodratollah Bakhtiari Nejad 

Ayat
46:1حا، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،
46:2اس کتاب کا نازل کیا جانا اللہ کی جانب سے ہے جو غالب حکمت والا ہے،
46:3اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس (مخلوقات) کو جو ان کے درمیان ہے پیدا نہیں کیا مگر حکمت اور مقررہ مدّت (کے تعیّن) کے ساتھ، اور جنہوں نے کفر کیا ہے انہیں جس چیز سے ڈرایا گیا اسی سے رُوگردانی کرنے والے ہیں،
46:4آپ فرما دیں کہ مجھے بتاؤ تو کہ جن (بتوں) کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کیا چیز تخلیق کی ہے یا (یہ دکھا دو کہ) آسمانوں (کی تخلیق) میں ان کی کوئی شراکت ہے۔ تم میرے پاس اس (قرآن) سے پہلے کی کوئی کتاب یا (اگلوں کے) علم کا کوئی بقیہ حصہ (جو منقول چلا آرہا ہو ثبوت کے طور پر) پیش کرو اگر تم سچے ہو،
46:5اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا ایسے (بتوں) کی عبادت کرتا ہے جو قیامت کے دن تک اسے (سوال کا) جواب نہ دے سکیں اور وہ (بت) ان کی دعاء و عبادت سے (ہی) بے خبر ہیں،
46:6اور جب لوگ (قیامت کے دن) جمع کئے جائیں گے تو وہ (معبودانِ باطلہ) ان کے دشمن ہوں گے اور (اپنی برات کی خاطر) ان کی عبادت سے ہی منکر ہو جائیں گے،
46:7اور جب ان پر ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں (تو) جو لوگ کفر کر رہے ہیں حق (یعنی قرآن) کے بارے میں، جبکہ وہ ان کے پاس آچکا، کہتے ہیں: یہ کھلا جادو ہے،
46:8کیا وہ لوگ (یہ) کہتے ہیں کہ اس (قرآن) کو (پیغمبر نے) گھڑ لیا ہے۔ آپ فرما دیں: اگر اسے میں نے گھڑا ہے تو تم مجھے اللہ (کے عذاب) سے (بچانے کا) کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے، اور وہ ان (باتوں) کو خوب جانتا ہے جو تم اس (قرآن) کے بارے میں طعنہ زنی کے طور پر کر رہے ہو۔ وہی (اللہ) میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے، اور وہ بڑا بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے،
46:9آپ فرما دیں کہ میں (انسانوں کی طرف) کوئی پہلا رسول نہیں آیا (کہ مجھ سے قبل رسالت کی کوئی مثال ہی نہ ہو) اور میں اَزخود (یعنی محض اپنی عقل و درایت سے) نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور نہ وہ جو تمہارے ساتھ کیا جائے گا، (میرا علم تو یہ ہے کہ) میں صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے (وہی مجھے ہر شے کا علم عطا کرتی ہے) اور میں تو صرف (اس علم بالوحی کی بنا پر) واضح ڈر سنانے والا ہوں،
46:10فرما دیجئے: ذرا بتاؤ تو اگر یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کر دیا ہو اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ (بھی پہلی آسمانی کتابوں سے) اس جیسی کتاب (کے اترنے کے ذکر) پر گواہی دے پھر وہ (اس پر) ایمان (بھی) لایا ہو اور تم (اس کے باوجود) غرور کرتے رہے (تو تمہارا انجام کیا ہوگا؟)، بیشک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا،
46:11اور کافروں نے مومنوں سے کہا: اگر یہ (دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے پہلے نہ بڑھتے (ہم خود ہی سب سے پہلے اسے قبول کر لیتے)، اور جب ان (کفار) نے (خود) اس سے ہدایت نہ پائی تو اب کہتے ہیں کہ یہ تو پرانا جھوٹ (اور بہتان) ہے،
46:12اور اس سے پہلے موسٰی (علیہ السلام) کی کتاب (تورات) پیشوا اور رحمت تھی، اور یہ کتاب (اس کی) تصدیق کرنے والی ہے، عربی زبان میں ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جنہوں نے ظلم کیا ہے اور نیکوکاروں کے لئے خوشخبری ہو،
46:13بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر انہوں نے استقامت اختیار کی تو ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے،
46:14یہی لوگ اہلِ جنت ہیں جو اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ یہ ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے،
46:15اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کاحکم فرمایا۔ اس کی ماں نے اس کو تکلیف سے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا اور اسے تکلیف کے ساتھ جنا، اور اس کا (پیٹ میں) اٹھانا اور اس کا دودھ چھڑانا (یعنی زمانۂ حمل و رضاعت) تیس ماہ (پر مشتمل) ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جاتا ہے اور (پھر) چالیس سال (کی پختہ عمر) کو پہنچتا ہے، تو کہتا ہے: اے میرے رب: مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمایا ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک اعمال کروں جن سے تو راضی ہو اور میرے لئے میری اولاد میں نیکی اور خیر رکھ دے۔ بیشک میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں یقیناً فرمانبرداروں میں سے ہوں،
46:16یہی وہ لوگ ہیں ہم جن کے نیک اعمال قبول کرتے ہیں اوران کی کوتاہیوں سے درگزر فرماتے ہیں، (یہی) اہلِ جنت ہیں۔ یہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جا رہا ہے،
46:17اور جس نے اپنے والدین سے کہا: تم سے بیزاری ہے، تم مجھے (یہ) وعدہ دیتے ہو کہ میں (قبر سے دوبارہ زندہ کر کے) نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکیں۔ اب وہ دونوں (ماں باپ) اللہ سے فریاد کرنے لگے (اور لڑکے سے کہا:) تو ہلاک ہوگا۔ (اے لڑکے!) ایمان لے آ، بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے۔ تو وہ (جواب میں) کہتا ہے: یہ (باتیں) اگلے لوگوں کے جھوٹے افسانوں کے سوا (کچھ) نہیں ہیں،
46:18یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں فرمانِ (عذاب) ثابت ہو چکا ہے بہت سی امتوں میں جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں جنّات کی (بھی) اور انسانوں کی (بھی)، بیشک وہ (سب) نقصان اٹھانے والے تھے،
46:19اور سب کے لئے ان (نیک و بد) اعمال کی وجہ سے جو انہوں نے کئے (جنت و دوزخ میں الگ الگ) درجات مقرر ہیں تاکہ (اﷲ) ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا،
46:20اور جس دن کافر لوگ آتشِ دوزخ کے سامنے پیش کئے جائیں گے (تو ان سے کہا جائے گا:) تم اپنی لذیذ و مرغوب چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں ہی حاصل کر چکے اور ان سے (خوب) نفع اندوز بھی ہو چکے۔ پس آج کے دن تمہیں ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی اس وجہ سے کہ تم زمین میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اس وجہ سے (بھی) کہ تم نافرمانی کیا کرتے تھے،
46:21اور (اے حبیب!) آپ قومِ عاد کے بھائی (ہود علیہ السلام) کا ذکر کیجئے، جب انہوں نے (عُمان اور مَہرہ کے درمیان یمن کی ایک وادی) اَحقاف میں اپنی قوم کو (اَعمالِ بد کے نتائج سے) ڈرایا حالانکہ اس سے پہلے اور اس کے بعد (بھی کئی) ڈرانے والے (پیغمبر) گزر چکے تھے کہ تم اﷲ کے سوا کسی اور کی پرستش نہ کرنا، مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم پر بڑے (ہولناک) دن کا عذاب (نہ) آجائے،
46:22وہ کہنے لگے کہ کیا آپ ہمارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دیں، پس وہ (عذاب) لے آئیں جس سے ہمیں ڈرا رہے ہیں اگر آپ سچوں میں سے ہیں،
46:23انہوں نے کہا کہ (اس عذاب کے وقت کا) علم تو اﷲ ہی کے پاس ہے اور میں تمہیں وہی احکام پہنچا رہا ہوں جو میں دے کر بھیجا گیا ہوں لیکن میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم جاہل لوگ ہو،
46:24پھر جب انہوں نے اس (عذاب) کو بادل کی طرح اپنی وادیوں کے سامنے آتا ہوا دیکھا تو کہنے لگے: یہ (تو) بادل ہے جو ہم پر برسنے والا ہے، (ایسا نہیں) وہ (بادل) تو وہ (عذاب) ہے جس کی تم نے جلدی مچا رکھی تھی۔ (یہ) آندھی ہے جس میں دردناک عذاب (آرہا) ہے،
46:25(جو) اپنے پروردگار کے حکم سے ہر شے کو تباہ و برباد کر دے گی پس وہ ایسے (تباہ) ہو گئے کہ ان کے (مِسمار) گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا۔ ہم مجرم لوگوں کو اِس طرح سزا دیا کرتے ہیں،
46:26(اے اہلِ مکہّ!) درحقیقت ہم نے ان کو ان امور میں طاقت و قدرت دے رکھی تھی جن میں ہم نے تم کو قدرت نہیں دی اور ہم نے انہیں سماعت اور بصارت اور دل و دماغ (کی بے بہا صلاحیتوں) سے نوازا تھا مگر نہ تو ان کے کان ہی ان کے کچھ کام آسکے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ (ہی) ان کے دل و دماغ جبکہ وہ اﷲ کی نشانیوں کا انکار ہی کرتے رہے اور (بالآخر) اس (عذاب) نے انہیں آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے،
46:27اور (اے اہلِ مکہّ!) بیشک ہم نے کتنی ہی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جو تمہارے اردگرد تھیں اور ہم نے اپنی نشانیاں بار بار ظاہر کیں تاکہ وہ (کفر سے) رجوع کر لیں،
46:28پھر ان (بتوں) نے ان کی مدد کیوں نہ کی جن کو انہوں نے تقرّبِ (الٰہی) کے لئے اﷲ کے سوا معبود بنا رکھا تھا، بلکہ وہ (معبودانِ باطلہ) ان سے گم ہو گئے، اور یہ (بتوں کو معبود بنانا) ان کا جھوٹ تھا اور یہی وہ بہتان (تھا) جو وہ باندھا کرتے تھے،
46:29اور (اے حبیب!) جب ہم نے جنّات کی ایک جماعت کو آپ کی طرف متوجہ کیا جو قرآن غور سے سنتے تھے۔ پھر جب وہ وہاں (یعنی بارگاہِ نبوت میں) حاضر ہوئے تو انہوں نے (آپس میں) کہا: خاموش رہو، پھر جب (پڑھنا) ختم ہو گیا تو وہ اپنی قوم کی طرف ڈر سنانے والے (یعنی داعی الی الحق) بن کر واپس گئے،
46:30انہوں نے کہا: اے ہماری قوم (یعنی اے قومِ جنّات)! بیشک ہم نے ایک (ایسی) کتاب سنی ہے جو موسٰی (علیہ السلام کی تورات) کے بعد اتاری گئی ہے (جو) اپنے سے پہلے (کی کتابوں) کی تصدیق کرنے والی ہے (وہ) سچّے (دین) اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتی ہے،
46:31اے ہماری قوم! تم اﷲ کی طرف بلانے والے (یعنی محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات قبول کر لو اور ان پر ایمان لے آؤ (تو) اﷲ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے پناہ دے گا،
46:32اور جو شخص اﷲ کی طرف بلانے والے (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات قبول نہیں کرے گا تو وہ زمین میں (بھاگ کر اﷲ کو) عاجز نہیں کر سکے گا اور نہ ہی اس کے لئے اﷲ کے سوا کوئی مددگار ہوں گے۔ یہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں،
46:33کیا وہ نہیں جانتے کہ اﷲ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں اس بات پر (بھی) قادر ہے کہ وہ مُردوں کو (دوبارہ) زندہ فرما دے۔ کیوں نہیں! بیشک وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے،
46:34اور جس دن وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا آتشِ دوزخ کے سامنے پیش کئے جائیں گے (تو ان سے کہا جائے گا:) کیا یہ (عذاب) برحق نہیں ہے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں! ہمارے رب کی قسم (برحق ہے)، ارشاد ہوگا: پھر عذاب کا مزہ چکھو جس کا تم انکار کیا کرتے تھے،
46:35(اے حبیب!) پس آپ صبر کئے جائیں جس طرح (دوسرے) عالی ہمّت پیغمبروں نے صبر کیا تھا اور آپ ان (منکروں) کے لئے (طلبِ عذاب میں) جلدی نہ فرمائیں، جس دن وہ اس (عذابِ آخرت) کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو (خیال کریں گے) گویا وہ (دنیا میں) دن کی ایک گھڑی کے سوا ٹھہرے ہی نہیں تھے، (یہ اﷲ کی طرف سے) پیغام کا پہنچایا جانا ہے، نافرمان قوم کے سوا دیگر لوگ ہلاک نہیں کئے جائیں گے،



Share this Surah Translation on Facebook...