Quantcast
Ads by Muslim Ad Network









as-Saffat Farsi:: Ghodratollah Bakhtiari Nejad 

Ayat
37:1قسم ہے قطار در قطار صف بستہ جماعتوں کی،
37:2پھر بادلوں کو کھینچ کر لے جانے والی یا برائیوں پر سختی سے جھڑکنے والی جماعتوں کی،
37:3پھر ذکرِ الٰہی (یا قرآن مجید) کی تلاوت کرنے والی جماعتوں کی،
37:4بے شک تمہارا معبود ایک ہی ہے،
37:5(جو) آسمانوں اور زمین کا اور جو (مخلوق) اِن دونوں کے درمیان ہے اس کا رب ہے، اور طلوعِ آفتاب کے تمام مقامات کا رب ہے،
37:6بے شک ہم نے آسمانِ دنیا (یعنی پہلے کرّۂ سماوی) کو ستاروں اور سیاروں کی زینت سے آراستہ کر دیا،
37:7اور (انہیں) ہر سرکش شیطان سے محفوظ بنایا،
37:8وہ (شیاطین) عالمِ بالا کی طرف کان نہیں لگا سکتے اور اُن پر ہر طرف سے (انگارے) پھینکے جاتے ہیں،
37:9اُن کو بھگانے کے لئے اور اُن کے لئے دائمی عذاب ہے،
37:10مگر جو (شیطان) ایک بار جھپٹ کر (فرشتوں کی کوئی بات) اُچک لے تو چمکتا ہوا انگارہ اُس کے پیچھے لگ جاتا ہے،
37:11اِن سے پوچھئے کہ کیا یہ لوگ تخلیق کئے جانے میں زیادہ سخت (اور مشکل) ہیں یا وہ چیزیں جنہیں ہم نے (آسمانی کائنات میں) تخلیق فرمایا ہے، بیشک ہم نے اِن لوگوں کو چپکنے والے گارے سے پیدا کیا ہے،
37:12بلکہ آپ تعجب فرماتے ہیں اور وہ مذاق اڑاتے ہیں،
37:13اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو نصیحت قبول نہیں کرتے،
37:14اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو تمسخر کرتے ہیں،
37:15اور کہتے ہیں کہ یہ تو صرف کھلا جادو ہے،
37:16کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو ہم یقینی طور پر (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے،
37:17اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (اٹھائے جائیں گے)،
37:18فرما دیجئے: ہاں اور (بلکہ) تم ذلیل و رسوا (بھی) ہو گے،
37:19پس وہ تو محض ایک (زور دار آواز کی) سخت جھڑک ہوگی سو سب اچانک (اٹھ کر) دیکھنے لگ جائیں گے،
37:20اور کہیں گے: ہائے ہماری شامت! یہ تو جزا کا دن ہے،
37:21(کہا جائے گا: ہاں) یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے،
37:22اُن (سب) لوگوں کو جمع کرو جنہوں نے ظلم کیا اور ان کے ساتھیوں اور پیروکاروں کو (بھی) اور اُن (معبودانِ باطلہ) کو (بھی) جنہیں وہ پوجا کرتے تھے،
37:23اللہ کو چھوڑ کر، پھر ان سب کو دوزخ کی راہ پر لے چلو،
37:24اور انہیں (صراط کے پاس) روکو، اُن سے پوچھ گچھ ہوگی،
37:25(اُن سے کہا جائے گا:) تمہیں کیا ہوا تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟،
37:26(وہ مدد کیا کریں گے) بلکہ آج تو وہ خود گردنیں جھکائے کھڑے ہوں گے،
37:27اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوکر باہم سوال کریں گے،
37:28وہ کہیں گے: بے شک تم ہی تو ہمارے پاس دائیں طرف سے (یعنی اپنے حق پر ہونے کی قَسمیں کھاتے ہوئے) آیا کرتے تھے،
37:29(انہیں گمراہ کرنے والے پیشوا) کہیں گے: بلکہ تم خود ہی ایمان لانے والے نہ تھے،
37:30اور ہمارا تم پر کچھ زور (اور دباؤ) نہ تھا بلکہ تم خود سرکش لوگ تھے،
37:31پس ہم پر ہمارے رب کا فرمان ثابت ہوگیا۔ (اب) ہم ذائقۂ (عذاب) چکھنے والے ہیں،
37:32سو ہم نے تمہیں گمراہ کر دیا بے شک ہم خود گمراہ تھے،
37:33پس اس دن عذاب میں وہ (سب) باہم شریک ہوں گے،
37:34بے شک ہم مُجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں،
37:35یقیناً وہ ایسے لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں تو وہ تکبّر کرتے تھے،
37:36اور کہتے تھے: کیا ہم ایک دیوانے شاعر کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں،
37:37(وہ نہ مجنوں ہے نہ شاعر) بلکہ وہ (دینِ) حق لے کر آئے ہیں اور انہوں نے (اللہ کے) پیغمبروں کی تصدیق کی ہے،
37:38بے شک تم دردناک عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو،
37:39اور تمہیں (کوئی) بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر صرف اسی کا جو تم کیا کرتے تھے،
37:40(ہاں) مگر اللہ کے وہ (برگزیدہ و منتخب) بندے جنہیں (نفس اور نفسانیت سے) رہائی مل چکی ہے،
37:41یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے (صبح و شام) رزقِ خاص مقرّر ہے،
37:42(ہر قسم کے) میوے ہوں گے، اور ان کی تعظیم و تکریم ہوگی،
37:43نعمتوں اور راحتوں کے باغات میں (مقیم ہوں گے)،
37:44تختوں پر مسند لگائے آمنے سامنے (جلوہ افروز ہوں گے)،
37:45اُن پر چھلکتی ہوئی شرابِ (طہور) کے جام کا دور چل رہا ہوگا،
37:46جو نہایت سفید ہوگی، پینے والوں کے لئے سراسر لذّت ہوگی،
37:47نہ اس میں کوئی ضرر یا سَر کا چکرانا ہوگا اور نہ وہ اس (کے پینے) سے بہک سکیں گے،
37:48اور ان کے پہلو میں نگاہیں نیچی رکھنے والی، بڑی خوبصورت آنکھوں والی (حوریں بیٹھی) ہوں گی،
37:49(وہ سفید و دلکش رنگت میں ایسے لگیں گی) گویا گرد و غبار سے محفوظ انڈے (رکھے) ہوں،
37:50پھر وہ (جنّتی) آپس میں متوجہ ہو کر ایک دوسرے سے (حال و احوال) دریافت کریں گے،
37:51ان میں سے ایک کہنے والا (دوسرے سے) کہے گا کہ میرا ایک ملنے والا تھا (جو آخرت کا منکِر تھا)،
37:52وہ (مجھے) کہتا تھا: کیا تم بھی (ان باتوں کا) یقین اور تصدیق کرنے والوں میں سے ہو،
37:53کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہمیں (اس حال میں) بدلہ دیا جائے گا،
37:54پھر وہ (جنّتی) کہے گا: کیا تم (اُسے) جھانک کر دیکھو گے (کہ وہ کس حال میں ہے)،
37:55پھر وہ جھانکے گا تو اسے دوزخ کے (بالکل) وسط میں پائے گا،
37:56(اس سے) کہے گا: خدا کی قسم! تو اس کے قریب تھا کہ مجھے بھی ہلاک کر ڈالے،
37:57اور اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو میں (بھی تمہارے ساتھ عذاب میں) حاضر کئے جانے والوں میں شامل ہو جاتا،
37:58سو (جنّتی خوشی سے پوچھیں گے:) کیا اب ہم مریں گے تو نہیں،
37:59اپنی پہلی موت کے سوا (جس سے گزر کر ہم یہاں آچکے) اور نہ ہم پر کبھی عذاب کیا جائے گا،
37:60بیشک یہی تو عظیم کامیابی ہے،
37:61ایسی (کامیابی) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے،
37:62بھلا یہ (خُلد کی) مہمانی بہتر ہے یا زقّوم کا درخت،
37:63بیشک ہم نے اس (درخت) کو ظالموں کے لئے عذاب بنایا ہے،
37:64بیشک یہ ایک درخت ہے جو دوزخ کے سب سے نچلے حصہ سے نکلتا ہے،
37:65اس کے خوشے ایسے ہیں گویا (بدنما) شیطانوں کے سَر ہوں،
37:66پس وہ (دوزخی) اسی میں سے کھانے والے ہیں اور اسی سے پیٹ بھرنے والے ہیں،
37:67پھر یقیناً اُن کے لئے اس (کھانے) پر (پیپ کا) ملا ہوا نہایت گرم پانی ہوگا (جو انتڑیوں کو کاٹ دے گا)،
37:68(کھانے کے بعد) پھر یقیناً ان کا دوزخ ہی کی طرف (دوبارہ) پلٹنا ہوگا،
37:69بے شک انہوں نے اپنے باپ دادا کوگمراہ پایا،
37:70سو وہ انہی کے نقشِ قدم پر دوڑائے جا رہے ہیں،
37:71اور درحقیقت اُن سے قبل پہلے لوگوں میں (بھی) اکثر گمراہ ہوگئے تھے،
37:72اور یقیناً ہم نے ان میں بھی ڈر سنانے والے بھیجے،
37:73سو آپ دیکھئے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ڈرائے گئے تھے،
37:74سوائے اﷲ کے چنیدہ و برگزیدہ بندوں کے،
37:75اور بیشک ہمیں نوح (علیہ السلام) نے پکارا تو ہم کتنے اچھے فریاد رَس ہیں،
37:76اور ہم نے اُنہیں اور اُن کے گھر والوں کو سخت تکلیف سے بچا لیا،
37:77اور ہم نے فقط اُن ہی کی نسل کو باقی رہنے والا بنایا،
37:78اور پیچھے آنے والوں (یعنی انبیاء و اُمم) میں ہم نے ان کا ذکرِ خیر باقی رکھا،
37:79سلام ہو نوح پر سب جہانوں میں،
37:80بیشک ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں،
37:81بے شک وہ ہمارے (کامل) ایمان والے بندوں میں سے تھے،
37:82پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیا،
37:83بے شک اُن کے گروہ میں سے ابراہیم (علیہ السلام) (بھی) تھے،
37:84جب وہ اپنے رب کی بارگاہ میں قلبِ سلیم کے ساتھ حاضر ہوئے،
37:85جبکہ انہوں نے اپنے باپ (جو حقیقت میں چچا تھا، آپ بوجہ پرورش اسے باپ کہتے تھے) اور اپنی قوم سے کہا: تم کن چیزوں کی پرستش کرتے ہو؟،
37:86کیا تم بہتان باندھ کر اﷲ کے سوا (جھوٹے) معبودوں کا ارادہ کرتے ہو؟،
37:87بھلا تمام جہانوں کے رب کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟،
37:88پھر (ابراہیم علیہ السلام نے اُنہیں وہم میں ڈالنے کے لئے) ایک نظر ستاروں کی طرف کی،
37:89اور کہا: میری طبیعت مُضمحِل ہے (تمہارے ساتھ میلے پر نہیں جاسکتا)،
37:90سو وہ اُن سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے،
37:91پھر (ابراہیم علیہ السلام) ان کے معبودوں (یعنی بتوں) کے پاس خاموشی سے گئے اور اُن سے کہا: کیا تم کھاتے نہیں ہو؟،
37:92تمہیں کیا ہے کہ تم بولتے نہیں ہو؟،
37:93پھر (ابراہیم علیہ السلام) پوری قوّت کے ساتھ انہیں مارنے (اور توڑنے) لگے،
37:94پھر لوگ (میلے سے واپسی پر) دوڑتے ہوئے ان کی طرف آئے،
37:95ابراہیم (علیہ السلام) نے (اُن سے) کہا: کیا تم اِن (ہی بے جان پتھروں) کو پوجتے ہو جنہیں خود تراشتے ہو؟،
37:96حالانکہ اﷲ نے تمہیں اور تمہارے (سارے) کاموں کو خَلق فرمایا ہے،
37:97وہ کہنے لگے: ان کے (جلانے کے) لئے ایک عمارت بناؤ پھر ان کو (اس کے اندر) سخت بھڑکتی آگ میں ڈال دو،
37:98غرض انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ایک چال چلنا چاہی سو ہم نے اُن ہی کو نیچا دکھا دیا (نتیجۃً آگ گلزار بن گئی)،
37:99پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: میں (ہجرت کر کے) اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا (وہ ملکِ شام کی طرف ہجرت فرما گئے)،
37:100(پھر اَرضِ مقدّس میں پہنچ کر دعا کی:) اے میرے رب! صالحین میں سے مجھے ایک (فرزند) عطا فرما،
37:101پس ہم نے انہیں بڑے بُرد بار بیٹے (اسماعیل علیہ السلام) کی بشارت دی،
37:102پھر جب وہ (اسماعیل علیہ السلام) ان کے ساتھ دوڑ کر چل سکنے (کی عمر) کو پہنچ گیا تو (ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں سو غور کرو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ (اسماعیل علیہ السلام نے) کہا: ابّاجان! وہ کام (فوراً) کر ڈالیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے۔ اگر اﷲ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے،
37:103پھر جب دونوں (رضائے الٰہی کے سامنے) جھک گئے (یعنی دونوں نے مولا کے حکم کو تسلیم کرلیا) اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے پیشانی کے بل لِٹا دیا (اگلا منظر بیان نہیں فرمایا)،
37:104اور ہم نے اسے ندا دی کہ اے ابراہیم!،
37:105واقعی تم نے اپنا خواب (کیاخوب) سچا کر دکھایا۔ بے شک ہم محسنوں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں (سو تمہیں مقامِ خلّت سے نواز دیا گیا ہے)،
37:106بے شک یہ بہت بڑی کھلی آزمائش تھی،
37:107اور ہم نے ایک بہت بڑی قربانی کے ساتھ اِس کا فدیہ کر دیا،
37:108اور ہم نے پیچھے آنے والوں میں اس کا ذکرِ خیر برقرار رکھا،
37:109سلام ہو ابراہیم پر،
37:110ہم اسی طرح محسنوں کو صلہ دیا کرتے ہیں،
37:111بے شک وہ ہمارے (کامل) ایمان والے بندوں میں سے تھے،
37:112اور ہم نے (اِسما عیل علیہ السلام کے بعد) انہیں اِسحاق (علیہ السلام) کی بشارت دی (وہ بھی) صالحین میں سے نبی تھے،
37:113اور ہم نے اُن پر اور اسحاق (علیہ السلام) پر برکتیں نازل فرمائیں، اور ان دونوں کی نسل میں نیکو کار بھی ہیں اور اپنی جان پر کھلے ظلم شِعار بھی،
37:114اور بے شک ہم نے موسٰی اور ہارون (علیھما السلام) پر بھی احسان کئے،
37:115اور ہم نے خود ان دونوں کو اور دونوں کی قوم کو سخت تکلیف سے نجات بخشی،
37:116اور ہم نے اُن کی مدد فرمائی تو وہی غالب ہوگئے،
37:117اور ہم نے ان دونوں کو واضح اور بیّن کتاب (تورات) عطا فرمائی،
37:118اور ہم نے ان دونوں کو سیدھی راہ پر چلایا،
37:119اور ہم نے ان دونوں کے حق میں (بھی) پیچھے آنے والوں میں ذکرِ خیر باقی رکھا،
37:120سلام ہو موسٰی اور ہارون پر،
37:121بے شک ہم نیکو کاروں کو اسی طرح صِلہ دیا کرتے ہیں،
37:122بے شک وہ دونوں ہمارے (کامل) ایمان والے بندوں میں سے تھے،
37:123اور یقیناً الیاس (علیہ السلام بھی) رسولوں میں سے تھے،
37:124جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم (اﷲ سے) نہیں ڈرتے ہو؟،
37:125کیا تم بَعل (نامی بُت) کو پوجتے ہو اور سب سے بہتر خالق کو چھوڑ دیتے ہو؟،
37:126(یعنی) اﷲ جو تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا (بھی) رب ہے،
37:127تو ان لوگوں نے (یعنی قومِ بعلبک نے) الیاس (علیہ السلام) کو جھٹلایا پس وہ (بھی عذابِ جہنم میں) حاضر کردیے جائیں گے،
37:128سوائے اﷲ کے چُنے ہوئے بندوں کے،
37:129اور ہم نے ان کا ذکرِ خیر (بھی) پیچھے آنے والوں میں برقرار رکھا،
37:130سلام ہو الیاس پر،
37:131بے شک ہم نیکو کاروں کو اسی طرح صِلہ دیا کرتے ہیں،
37:132بے شک وہ ہمارے (کامل) ایمان والے بندوں میں سے تھے،
37:133اور بے شک لوط (علیہ السلام بھی) رسولوں میں سے تھے،
37:134جب ہم نے اُن کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات بخشی،
37:135سوائے اس بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی،
37:136پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر ڈالا،
37:137اور بے شک تم لوگ اُن (کی اُجڑی بستیوں) پر (مَکّہ سے ملکِ شام کی طرف جاتے ہوئے) صبح کے وقت بھی گزرتے ہو،
37:138اور رات کو بھی، کیا پھر بھی تم عقل نہیں رکھتے،
37:139اور یونس (علیہ السلام بھی) واقعی رسولوں میں سے تھے،
37:140جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف دوڑے،
37:141پھر (کشتی بھنور میں پھنس گئی تو) انہوں نے قرعہ ڈالا تو وہ (قرعہ میں) مغلوب ہوگئے (یعنی ان کا نام نکل آیا اور کشتی والوں نے انہیں دریا میں پھینک دیا)،
37:142پھر مچھلی نے ان کو نگل لیا اور وہ (اپنے آپ پر) نادم رہنے والے تھے،
37:143پھر اگر وہ (اﷲ کی) تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے،
37:144تو اس (مچھلی) کے پیٹ میں اُس دن تک رہتے جب لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے،
37:145پھر ہم نے انہیں (ساحلِ دریا پر) کھلے میدان میں ڈال دیا حالانکہ وہ بیمار تھے،
37:146اور ہم نے ان پر (کدّو کا) بیل دار درخت اُگا دیا،
37:147اور ہم نے انہیں (اَرضِ موصل میں قومِ نینوٰی کے) ایک لاکھ یا اس سے زیادہ افراد کی طرف بھیجا تھا،
37:148سو (آثارِ عذاب کو دیکھ کر) وہ لوگ ایمان لائے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ پہنچایا،
37:149پس آپ اِن (کفّارِ مکّہ) سے پوچھئے کیا آپ کے رب کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے ہیں،
37:150کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنا کر پیدا کیا تو وہ اس وقت (موقع پر) حاضر تھے،
37:151سن لو! وہ لوگ یقیناً اپنی بہتان تراشی سے (یہ) بات کرتے ہیں،
37:152کہ اﷲ نے اولاد جنی، اور بیشک یہ لوگ جھوٹے ہیں،
37:153کیا اس نے بیٹوں کے مقابلہ میں بیٹیوں کو پسند فرمایا ہے (کفّارِ مکّہ کی ذہنیت کی زبان میں انہی کے عقیدے کا ردّ کیا جا رہا ہے)،
37:154تمہیں کیا ہوا ہے؟ تم کیسا انصاف کرتے ہو؟،
37:155کیا تم غور نہیں کرتے؟،
37:156کیا تمہارے پاس (اپنے فکر و نظریہ پر) کوئی واضح دلیل ہے،
37:157تم اپنی کتاب پیش کرو اگر تم سچے ہو،
37:158اور انہوں نے (تو) اﷲ اور جِنّات کے درمیان (بھی) نسبی رشتہ مقرر کر رکھا ہے، حالانکہ جنّات کو معلوم ہے کہ وہ (بھی اﷲ کے حضور) یقیناً پیش کیے جائیں گے،
37:159اﷲ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں،
37:160مگر اﷲ کے چُنیدہ و برگزیدہ بندے (اِن باتوں سے مستثنٰی ہیں)،
37:161پس تم اور جن (بتوں) کی تم پرستش کرتے ہو،
37:162تم سب اﷲ کے خلاف کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے،
37:163سوائے اس شخص کے جو دوزخ میں جا گرنے والا ہے،
37:164اور (فرشتے کہتے ہیں:) ہم میں سے بھی ہر ایک کا مقام مقرر ہے،
37:165اور یقیناً ہم تو خود صف بستہ رہنے والے ہیں،
37:166اور یقیناً ہم تو خود (اﷲ کی) تسبیح کرنے والے ہیں،
37:167اور یہ لوگ یقیناً کہا کرتے تھے،
37:168کہ اگر ہمارے پاس (بھی) پہلے لوگوں کی کوئی (کتابِ) نصیحت ہوتی،
37:169تو ہم (بھی) ضرور اﷲ کے برگزیدہ بندے ہوتے،
37:170پھر (اب) وہ اس (قرآن) کے منکِر ہوگئے سو وہ عنقریب (اپنا انجام) جان لیں گے،
37:171اور بے شک ہمارا فرمان ہمارے بھیجے ہوئے بندوں (یعنی رسولوں) کے حق میں پہلے صادر ہوچکا ہے،
37:172کہ بے شک وہی مدد یافتہ لوگ ہیں،
37:173اور بے شک ہمارا لشکر ہی غالب ہونے والا ہے،
37:174پس ایک وقت تک آپ ان سے توجّہ ہٹا لیجئے،
37:175اور انہیں (برابر) دیکھتے رہئیے سو وہ عنقریب (اپنا انجام) دیکھ لیں گے،
37:176اور کیا یہ ہمارے عذاب میں جلدی کے خواہش مند ہیں،
37:177پھر جب وہ (عذاب) ان کے سامنے اترے گا تو اِن کی صبح کیا ہی بُری ہوگی جنہیں ڈرایا گیا تھا،
37:178پس آپ اُن سے تھوڑی مدّت تک توجّہ ہٹا ئے رکھئے،
37:179اور انہیں (برابر) دیکھتے رہئیے، سو وہ عنقریب (اپنا انجام) دیکھ لیں گے،
37:180آپ کا رب، جو عزت کا مالک ہے اُن (باتوں) سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں،
37:181اور (تمام) رسولوں پر سلام ہو،
37:182اور سب تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے،



Share this Surah Translation on Facebook...