Quantcast
Ads by Muslim Ad Network









Ya Sin Farsi:: Ghodratollah Bakhtiari Nejad 

Ayat
36:1یا، سین (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،
36:2حکمت سے معمور قرآن کی قَسم،
36:3بیشک آپ ضرور رسولوں میں سے ہیں،
36:4سیدھی راہ پر (قائم ہیں)،
36:5(یہ) بڑی عزت والے، بڑے رحم والے (رب) کا نازل کردہ ہے،
36:6تاکہ آپ اس قوم کو ڈر سنائیں جن کے باپ دادا کو (بھی) نہیں ڈرایا گیا سو وہ غافل ہیں،
36:7درحقیقت اُن کے اکثر لوگوں پر ہمارا فرمان (سچ) ثابت ہو چکا ہے سو وہ ایمان نہیں لائیں گے،
36:8بیشک ہم نے اُن کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں تو وہ اُن کی ٹھوڑیوں تک ہیں، پس وہ سر اوپر اٹھائے ہوئے ہیں،
36:9اور ہم نے اُن کے آگے سے (بھی) ایک دیوار اور اُن کے پیچھے سے (بھی) ایک دیوار بنا دی ہے، پھر ہم نے اُن (کی آنکھوں) پر پردہ ڈال دیا ہے سو وہ کچھ نہیں دیکھتے،
36:10اور اُن پر برابر ہے خواہ آپ انہیں ڈرائیں یا انہیں نہ ڈرائیں وہ ایمان نہ لائیں گے،
36:11آپ تو صرف اسی شخص کو ڈر سناتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرتا ہے اور خدائے رحمان سے بن دیکھے ڈرتا ہے، سو آپ اسے بخشش اور بڑی عزت والے اجر کی خوشخبری سنا دیں،
36:12بیشک ہم ہی تو مُردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم وہ سب کچھ لکھ رہے ہیں جو (اَعمال) وہ آگے بھیج چکے ہیں، اور اُن کے اثرات (جو پیچھے رہ گئے ہیں)، اور ہر چیز کو ہم نے روشن کتاب (لوحِ محفوظ) میں احاطہ کر رکھا ہے،
36:13اور آپ اُن کے لئے ایک بستی (انطاکیہ) کے باشندوں کی مثال (حکایۃً) بیان کریں، جب اُن کے پاس کچھ پیغمبر آئے،
36:14جبکہ ہم نے اُن کی طرف (پہلے) دو (پیغمبر) بھیجے تو انہوں نے ان دونوں کو جھٹلا دیا پھر ہم نے (ان کو) تیسرے (پیغمبر) کے ذریعے قوت دی، پھر اُن تینوں نے کہا: بیشک ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں،
36:15(بستی والوں نے) کہا: تم تو محض ہماری طرح بشر ہو اور خدائے رحمان نے کچھ بھی نازل نہیں کیا، تم فقط جھوٹ بول رہے ہو،
36:16(پیغمبروں نے) کہا: ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم یقیناً تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں،
36:17اور واضح طور پر پیغام پہنچا دینے کے سوا ہم پر کچھ لازم نہیں ہے،
36:18(بستی والوں نے) کہا: ہمیں تم سے نحوست پہنچی ہے اگر تم واقعی باز نہ آئے تو ہم تمہیں یقیناً سنگ سار کر دیں گے اور ہماری طرف سے تمہیں ضرور دردناک عذاب پہنچے گا،
36:19(پیغمبروں نے) کہا: تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے، کیا یہ نحوست ہے کہ تمہیں نصیحت کی گئی، بلکہ تم لوگ حد سے گزر جانے والے ہو،
36:20اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا: اے میری قوم! تم پیغمبروں کی پیروی کرو،
36:21ایسے لوگوں کی پیروی کرو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں،
36:22اور مجھے کیا ہے کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے اور تم (سب) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے،
36:23کیا میں اس (اللہ) کو چھوڑ کر ایسے معبود بنا لوں کہ اگر خدائے رحمان مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو نہ مجھے اُن کی سفارش کچھ نفع پہنچا سکے اور نہ وہ مجھے چھڑا ہی سکیں،
36:24بے شک تب تو میں کھلی گمراہی میں ہوں گا،
36:25بے شک میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں، سو تم مجھے (غور سے) سنو،
36:26(اسے کافروں نے شہید کر دیا تو اسے) کہا گیا: (آ) بہشت میں داخل ہوجا، اس نے کہا: اے کاش! میری قوم کو معلوم ہو جاتا،
36:27کہ میرے رب نے میری مغفرت فرما دی ہے اور مجھے عزت و قربت والوں میں شامل فرما دیا ہے،
36:28اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے (فرشتوں کا) کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہی ہم (ان کی ہلاکت کے لئے فرشتوں کو) اتارنے والے تھے،
36:29(ان کا عذاب) ایک سخت چنگھاڑ کے سوا اور کچھ نہ تھا، بس وہ اُسی دم (مر کر کوئلے کی طرح) بُجھ گئے،
36:30ہائے (اُن) بندوں پر افسوس! اُن کے پاس کوئی رسول نہ آتا تھا مگر یہ کہ وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے،
36:31کیا اِنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اِن سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک کر ڈالیں، کہ اب وہ لوگ ان کی طرف پلٹ کر نہیں آئیں گے،
36:32مگر یہ کہ وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر کیے جائیں گے،
36:33اور اُن کے لئے ایک نشانی مُردہ زمین ہے، جِسے ہم نے زندہ کیا اور ہم نے اس سے (اناج کے) دانے نکالے، پھر وہ اس میں سے کھاتے ہیں،
36:34اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات بنائے اور اس میں ہم نے کچھ چشمے بھی جاری کردیئے،
36:35تاکہ وہ اس کے پھل کھائیں اور اسے اُن کے ہاتھوں نے نہیں بنایا، پھر (بھی) کیا وہ شکر نہیں کرتے،
36:36پاک ہے وہ ذات جس نے سب چیزوں کے جوڑے پیدا کئے، ان سے (بھی) جنہیں زمین اگاتی ہے اور خود اُن کی جانوں سے بھی اور (مزید) ان چیزوں سے بھی جنہیں وہ نہیں جانتے،
36:37اور ایک نشانی اُن کے لئے رات (بھی) ہے، ہم اس میں سے (کیسے) دن کو کھینچ لیتے ہیں سو وہ اس وقت اندھیرے میں پڑے رہ جاتے ہیں،
36:38اور سورج ہمیشہ اپنی مقررہ منزل کے لئے (بغیر رکے) چلتا رہتا، ہے یہ بڑے غالب بہت علم والے (رب) کی تقدیر ہے،
36:39اور ہم نے چاند کی (حرکت و گردش کی) بھی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں یہاں تک کہ (اس کا اہلِ زمین کو دکھائی دینا گھٹتے گھٹتے) کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہے،
36:40نہ سورج کی یہ مجال کہ وہ (اپنا مدار چھوڑ کر) چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے نمودار ہوسکتی ہے، اور سب (ستارے اور سیارے) اپنے (اپنے) مدار میں حرکت پذیر ہیں،
36:41اور ایک نشانی اُن کے لئے یہ (بھی) ہے کہ ہم نے ان کے آباء و اجداد کو (جو ذُریّت آدم تھے) بھری کشتیِ (نوح) میں سوار کر (کے بچا) لیا تھا،
36:42اور ہم نے اُن کے لئے اس (کشتی) کے مانند ان (بہت سی اور سواریوں) کو بنایا جن پر یہ لوگ سوار ہوتے ہیں،
36:43اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر دیں تو نہ ان کے لئے کوئی فریاد رَس ہوگا اور نہ وہ بچائے جاسکیں گے،
36:44سوائے ہماری رحمت کے اور (یہ) ایک مقررہ مدّت تک کا فائدہ ہے،
36:45اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ تم اس (عذاب) سے ڈرو جو تمہارے سامنے ہے اور جو تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائے،
36:46اور اُن کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی (بھی) نشانی اُن کے پاس نہیں آتی مگر وہ اس سے رُوگردانی کرتے ہیں،
36:47اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ تم اس میں سے (راہِ خدا میں) خرچ کرو جو تمہیں اللہ نے عطا کیا ہے تو کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں: کیا ہم اس (غریب) شخص کو کھلائیں جسے اگر اللہ چاہتا تو (خود ہی) کھلا دیتا۔ تم تو کھلی گمراہی میں ہی (مبتلا) ہوگئے ہو،
36:48اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدۂ (قیامت) کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو،
36:49وہ لوگ صرِف ایک سخت چنگھاڑ کے ہی منتظر ہیں جو انہیں (اچانک) پکڑے گی اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے،
36:50پھر وہ نہ تو وصیّت کرنے کے ہی قابل رہیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس پلٹ سکیں گے،
36:51اور (جس وقت دوبارہ) صُور پھونکا جائے گا تو وہ فوراً قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے،
36:52(روزِ محشر کی ہولناکیاں دیکھ کر) کہیں گے: ہائے ہماری کم بختی! ہمیں کس نے ہماری خواب گاہوں سے اٹھا دیا، (یہ زندہ ہونا) وہی تو ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ فرمایا تھا،
36:53یہ محض ایک بہت سخت چنگھاڑ ہوگی تو وہ سب کے سب یکایک ہمارے حضور لا کر حاضر کر دیئے جائیں گے،
36:54پھر آج کے دن کسی جان پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور نہ تمہیں کوئی بدلہ دیا جائے گا سوائے اُن کاموں کے جو تم کیا کرتے تھے،
36:55بے شک اہلِ جنت آج (اپنے) دل پسند مشاغل (مثلاً زیارتوں، ضیافتوں، سماع اور دیگر نعمتوں) میں لطف اندوز ہو رہے ہوں گے،
36:56وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے،
36:57اُن کے لئے اس میں (ہر قسم کا) میوہ ہوگا اور ان کے لئے ہر وہ چیز (میسر) ہوگی جو وہ طلب کریں گے،
36:58(تم پر) سلام ہو، (یہ) ربِّ رحیم کی طرف سے فرمایا جائے گا،
36:59اور اے مجرمو! تم آج (نیکو کاروں سے) الگ ہوجاؤ،
36:60اے بنی آدم! کیا میں نے تم سے اس بات کا عہد نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی پرستش نہ کرنا، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،
36:61اور یہ کہ میری عبادت کرتے رہنا، یہی سیدھا راستہ ہے،
36:62اور بے شک اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کر ڈالا، پھر کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے،
36:63یہ وہی دوزخ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے،
36:64آج اس دوزخ میں داخل ہو جاؤ اس وجہ سے کہ تم کفر کرتے رہے تھے،
36:65آج ہم اُن کے مونہوں پر مُہر لگا دیں گے اور اُن کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور اُن کے پاؤں اُن اعمال کی گواہی دیں گے جو وہ کمایا کرتے تھے،
36:66اور اگر ہم چاہتے تو اُن کی آنکھوں کے نشان تک مِٹا دیتے پھر وہ راستے پر دوڑتے تو کہاں دیکھ سکتے،
36:67اور اگر ہم چاہتے تو اُن کی رہائش گاہوں پر ہی ہم ان کی صورتیں بگاڑ دیتے پھر نہ وہ آگے جانے کی قدرت رکھتے اور نہ ہی واپس لوٹ سکتے،
36:68اور ہم جسے طویل عمر دیتے ہیں اسے قوت و طبیعت میں واپس (بچپن یا کمزوری کی طرف) پلٹا دیتے ہیں، پھر کیا وہ عقل نہیں رکھتے،
36:69اور ہم نے اُن کو (یعنی نبیِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) شعر کہنا نہیں سکھایا اور نہ ہی یہ اُن کے شایانِ شان ہے۔ یہ (کتاب) تو فقط نصیحت اور روشن قرآن ہے،
36:70تاکہ وہ اس شخص کو ڈر سنائیں جو زندہ ہو اور کافروں پر فرمانِ حجت ثابت ہو جائے،
36:71کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اپنے دستِ قدرت سے بنائی ہوئی (مخلوق) میں سے اُن کے لئے چوپائے پیدا کیے تو وہ ان کے مالک ہیں،
36:72اور ہم نے اُن (چوپایوں) کو ان کے تابع کر دیا سو ان میں سے کچھ تو اُن کی سواریاں ہیں اور ان میں سے بعض کو وہ کھاتے ہیں،
36:73اور ان میں ان کے لئے اور بھی فوائد ہیں اور مشروب ہیں، تو پھر وہ شکر ادا کیوں نہیں کرتے،
36:74اور انہوں نے اللہ کے سوا بتوں کو معبود بنا لیا ہے اس امید پر کہ ان کی مدد کی جائے گی،
36:75وہ بت اُن کی مدد کی قدرت نہیں رکھتے اور یہ (کفار و مشرکین) اُن (بتوں) کے لشکر ہوں گے جو (اکٹھے دوزخ میں) حاضر کر دیئے جائیں گے،
36:76پس اُن کی باتیں آپ کو رنجیدہ خاطر نہ کریں، بیشک ہم جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں،
36:77کیا انسان نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے ایک تولیدی قطرہ سے پیدا کیا، پھر بھی وہ کھلے طور پر سخت جھگڑالو بن گیا،
36:78اور (خود) ہمارے لئے مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش (کی حقیقت) کو بھول گیا۔ کہنے لگا: ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جبکہ وہ بوسیدہ ہوچکی ہوں گی؟،
36:79فرما دیجئے: انہیں وہی زندہ فرمائے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور وہ ہر مخلوق کو خوب جاننے والا ہے،
36:80جس نے تمہارے لئے سرسبز درخت سے آگ پیدا کی پھر اب تم اسی سے آگ سلگاتے ہو،
36:81اور کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے اس بات پر قادر نہیں کہ ان جیسی تخلیق (دوبارہ) کردے، کیوں نہیں، اور وہ بڑا پیدا کرنے والا خوب جاننے والا ہے،
36:82اس کا امرِ (تخلیق) فقط یہ ہے کہ جب وہ کسی شے کو (پیدا فرمانا) چاہتا ہے تو اسے فرماتا ہے: ہو جا، پس وہ فوراً (موجود یا ظاہر) ہو جاتی ہے (اور ہوتی چلی جاتی ہے)،
36:83پس وہ ذات پاک ہے جس کے دستِ (قدرت) میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے،



Share this Surah Translation on Facebook...