Quantcast
Ads by Muslim Ad Network









Saba` Farsi:: Ghodratollah Bakhtiari Nejad 

Ayat
34:1تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے اور آخرت میں بھی تعریف اسی کے لئے ہے، اور وہ بڑی حکمت والا، خبردار ہے،
34:2وہ اُن (سب) چیزوں کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہیں اور جو اس میں سے باہر نکلتی ہیں اور جو آسمان سے اترتی ہیں اور جو اس میں چڑھتی ہیں، اور وہ بہت رحم فرمانے والا بڑا بخشنے والا ہے،
34:3اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی، آپ فرما دیں: کیوں نہیں؟ میرے عالم الغیب رب کی قسم! وہ تم پر ضرور آئے گی، اس سے نہ آسمانوں میں ذرّہ بھر کوئی چیز غائب ہو سکتی ہے اور نہ زمین میں اور نہ اس سے کوئی چھوٹی (چیز ہے) اور نہ بڑی مگر روشن کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) میں (لکھی ہوئی) ہے،
34:4تاکہ اﷲ ان لوگوں کو پورا بدلہ عطا فرمائے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے بخشِش اور بزرگی والا (اخروی) رِزق ہے،
34:5اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں (مخالفانہ) کوشش کی (ہمیں) عاجز کرنے کے زعم میں انہی لوگوں کے لئے سخت دردناک عذاب کی سزا ہے،
34:6اور ایسے لوگ جنہیں علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو (کتاب) آپ کے رب کی طرف سے آپ کی جانب اتاری گئی ہے وہی حق ہے اور وہ (کتاب) عزت والے، سب خوبیوں والے (رب) کی راہ کی طرف ہدایت کرتی ہے،
34:7اور کافر لوگ (تعجب و استہزاء کی نیت سے) کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہیں ایسے شخص کا بتائیں جو تمہیں یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم (مَر کر) بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو یقیناً تمہیں (ایک) نئی پیدائش ملے گی،
34:8(یا تو) وہ اﷲ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے یا اسے جنون ہے، (ایسا کچھ بھی نہیں) بلکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ عذاب اور پرلے درجہ کی گمراہی میں (مبتلا) ہیں،
34:9سو کیا انہوں نے اُن (نشانیوں) کو نہیں دیکھا جو آسمان اور زمین سے اُن کے آگے اور اُن کے پیچھے (انہیں گھیرے ہوئے) ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا اُن پر آسمان سے کچھ ٹکڑے گرا دیں، بیشک اس میں ہر اس بندے کے لئے نشانی ہے جو اﷲ کی طرف رجوع کرنے والا ہے،
34:10اور بیشک ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو اپنی بارگاہ سے بڑا فضل عطا فرمایا، (اور حکم فرمایا:) اے پہاڑو! تم اِن کے ساتھ مل کر خوش اِلحانی سے (تسبیح) پڑھا کرو، اور پرندوں کو بھی (مسخّر کر کے یہی حکم دیا)، اور ہم نے اُن کے لئے لوہا نرم کر دیا،
34:11(اور ارشاد فرمایا) کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور (ان کے) حلقے جوڑنے میں اندازے کو ملحوظ رکھو اور (اے آلِ داوؤد!) تم لوگ نیک عمل کرتے رہو، میں اُن (کاموں) کو جو تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہوں،
34:12اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے (ہم نے) ہوا کو (مسخّر کر دیا) جس کی صبح کی مسافت ایک مہینہ کی (راہ) تھی اور اس کی شام کی مسافت (بھی) ایک ماہ کی راہ ہوتی، اور ہم نے اُن کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا، اور کچھ جنّات (ان کے تابع کردیئے) تھے جو اُن کے رب کے حکم سے اُن کے سامنے کام کرتے تھے، اور (فرما دیا تھا کہ) ان میں سے جو کوئی ہمارے حکم سے پھرے گا ہم اسے دوزخ کی بھڑکتی آگ کا عذاب چکھائیں گے،
34:13وہ (جنّات) ان کے لئے جو وہ چاہتے تھے بنا دیتے تھے۔ اُن میں بلند و بالا قلعے اور مجسّمے اور بڑے بڑے لگن تھے جو تالاب اور لنگر انداز دیگوں کی مانند تھے۔ اے آلِ داؤد! (اﷲ کا) شکر بجا لاتے رہو، اور میرے بندوں میں شکرگزار کم ہی ہوئے ہیں،
34:14پھر جب ہم نے سلیمان (علیہ السلام) پر موت کا حکم صادر فرما دیا تو اُن (جنّات) کو ان کی موت پر کسی نے آگاہی نہ کی سوائے زمین کی دیمک کے جو اُن کے عصا کو کھاتی رہی، پھر جب آپ کا جسم زمین پر آگیا تو جنّات پر ظاہر ہوگیا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلّت انگیز عذاب میں نہ پڑے رہتے،
34:15درحقیقت (قومِ) سبا کے لئے ان کے وطن ہی میں نشانی موجود تھی۔ (وہ) دو باغ تھے، دائیں طرف اور بائیں طرف۔ (اُن سے ارشاد ہوا:) تم اپنے رب کے رزق سے کھایا کرو اور اس کا شکر بجا لایا کرو۔ (تمہارا) شہر (کتنا) پاکیزہ ہے اور رب بڑا بخشنے والا ہے،
34:16پھر انہوں نے (طاعت سے) مُنہ پھیر لیا تو ہم نے ان پر زور دار سیلاب بھیج دیا اور ہم نے اُن کے دونوں باغوں کو دو (ایسے) باغوں سے بدل دیا جن میں بدمزہ پھل اور کچھ جھاؤ اور کچھ تھوڑے سے بیری کے درخت رہ گئے تھے،
34:17یہ ہم نے انہیں ان کے کفر و ناشکری کا بدلہ دیا، اور ہم بڑے ناشکرگزار کے سوا (کسی کو ایسی) سزا نہیں دیتے،
34:18اور ہم نے ان باشندوں کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دے رکھی تھی، (یمن سے شام تک) نمایاں (اور) متصل بستیاں آباد کر دی تھیں، اور ہم نے ان میں آمد و رفت (کے دوران آرام کرنے) کی منزلیں مقرر کر رکھی تھیں کہ تم لوگ ان میں راتوں کو (بھی) اور دنوں کو (بھی) بے خوف ہو کر چلتے پھرتے رہو،
34:19تو وہ کہنے لگے: اے ہمارے رب! ہماری منازلِ سفر کے درمیان فاصلے پیدا کر دے، اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تو ہم نے انہیں (عبرت کے) فسانے بنا دیا اور ہم نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے منتشر کر دیا۔ بیشک اس میں بہت صابر اور نہایت شکر گزار شخص کے لئے نشانیاں ہیں،
34:20بیشک ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا خیال سچ کر دکھایا تو ان لوگوں نے اس کی پیروی کی بجز ایک گروہ کے جو (صحیح) مومنین کا تھا،
34:21اور شیطان کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر یہ اس لئے (ہوا) کہ ہم ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ان لوگوں سے ممتاز کر دیں جو اس کے بارے میں شک میں ہیں، اور آپ کا رب ہر چیز پر نگہبان ہے،
34:22فرما دیجئے: تم انہیں بلا لو جنہیں تم اللہ کے سوا (معبود) سمجھتے ہو، وہ آسمانوں میں ذرّہ بھر کے مالک نہیں ہیں اور نہ زمین میں، اور نہ ان کی دونوں (زمین و آسمان) میں کوئی شراکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے،
34:23اور اس کی بارگاہ میں شفاعت نفع نہ دے گی سوائے جس کے حق میں اس نے اِذن دیا ہوگا، یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جائے گی تو وہ (سوالاً) کہیں گے کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ (جواباً) کہیں گے: 'حق فرمایا' (یعنی اذن دے دیا)، وہی نہایت بلند، بہت بڑا ہے،
34:24آپ فرمائیے: تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی کون دیتا ہے، آپ (خود ہی) فرما دیجئے کہ اللہ (دیتا ہے)، اور بیشک ہم یا تم ضرور ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں،
34:25فرما دیجئے: تم سے اس جرم کی باز پرس نہ ہوگی جو (تمہارے گمان میں) ہم سے سرزد ہوا اور نہ ہم سے اس کا پوچھا جائے گا جو تم کرتے ہو،
34:26فرما دیجئے: ہم سب کو ہمارا رب (روزِ قیامت) جمع فرمائے گا پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا، اور وہ خوب فیصلہ فرمانے والا خوب جاننے والا ہے،
34:27فرما دیجئے: مجھے وہ شریک دکھاؤ جنہیں تم نے اللہ کے ساتھ ملا رکھا ہے، ہرگز (کوئی شریک) نہیں ہے! بلکہ وہی اللہ بڑی عزت والا، بڑی حکمت والا ہے،
34:28اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر اس طرح کہ (آپ) پوری انسانیت کے لئے خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے ہیں لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،
34:29اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدۂ (آخرت) کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو،
34:30فرما دیجئے: تمہارے لئے وعدہ کا دن مقرر ہے نہ تم اس سے ایک گھڑی پیچھے رہو گے اور نہ آگے بڑھ سکو گے،
34:31اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس قرآن پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اور نہ اس (وحی) پر جو اس سے پہلے اتر چکی، اور اگر آپ دیکھیں جب ظالم لوگ اپنے رب کے حضور کھڑے کئے جائیں گے (تو کیا منظر ہوگا) کہ ان میں سے ہر ایک (اپنی) بات پھیر کر دوسرے پر ڈال رہا ہوگا، کمزور لوگ متکبّروں سے کہیں گے: اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لے آتے،
34:32متکبرّ لوگ کمزوروں سے کہیں گے: کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا اس کے بعد کہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی، بلکہ تم خود ہی مُجرم تھے،
34:33پھر کمزور لوگ متکبرّوں سے کہیں گے: بلکہ (تمہارے) رات دن کے مَکر ہی نے (ہمیں روکا تھا) جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور ہم اس کے لئے شریک ٹھہرائیں، اور وہ (ایک دوسرے سے) ندامت چھپائیں گے جب وہ عذاب دیکھ لیں گے اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے، اور انہیں اُن کے کئے کا ہی بدلہ دیا جائے گا،
34:34اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈر سنانے والا نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہاں کے خوشحال لوگوں نے (ہمیشہ یہی) کہا کہ تم جو (ہدایت) دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کے مُنکِر ہیں،
34:35اور انہوں نے کہا کہ ہم مال و اولاد میں بہت زیادہ ہیں اور ہم پر عذاب نہیں کیا جائے گا،
34:36فرما دیجئے: میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے رِزق کشادہ فرما دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،
34:37اور نہ تمہارے مال اس قابل ہیں اور نہ تمہاری اولاد کہ تمہیں ہمارے حضور قرب اور نزدیکی دلا سکیں مگر جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کئے، پس ایسے ہی لوگوں کے لئے دوگنا اجر ہے ان کے عمل کے بدلے میں اور وہ (جنت کے) بالاخانوں میں امن و امان سے ہوں گے،
34:38اور جو لوگ ہماری آیتوں میں (مخالفانہ) کوشش کرتے ہیں (ہمیں) عاجز کرنے کے گمان میں، وہی لوگ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے،
34:39فرما دیجئے: بیشک میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رِزق کشادہ فرما دیتا ہے اور جس کے لئے (چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے، اور تم (اﷲ کی راہ میں) جو کچھ بھی خرچ کرو گے تو وہ اس کے بدلہ میں اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رِزق دینے والا ہے،
34:40اور جس دن وہ سب کو ایک ساتھ جمع کرے گا پھر فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا: کیا یہی لوگ ہیں جو تمہاری عبادت کیا کرتے تھے،
34:41وہ عرض کریں گے: تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے نہ کہ یہ لوگ، بلکہ یہ لوگ جنات کی پوجا کیا کرتے تھے، ان میں سے اکثر اُنہی پر ایمان رکھنے والے ہیں،
34:42پس آج کے دن تم میں سے کوئی نہ ایک دوسرے کے نفع کا مالک ہے اور نہ نقصان کا، اور ہم ظالموں سے کہیں گے: دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے،
34:43اور جب اُن پر ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں: یہ (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ایک ایسا شخص ہے جو تمہیں صرف اُن (بتوں) سے روکنا چاہتا ہے جن کی تمہارے باپ دادا پوجا کیا کرتے تھے، اور یہ (بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض من گھڑت بہتان ہے، اور کافر لوگ اس حق (یعنی قرآن) سے متعلق جبکہ وہ اِن کے پاس آچکا ہے، یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تو محض کھلا جادو ہے،
34:44اور ہم نے ان (اہلِ مکہّ) کو نہ آسمانی کتابیں عطا کی تھیں جنہیں یہ لوگ پڑھتے ہوں اور نہ ہی آپ سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈر سنانے والا بھیجا تھا،
34:45اور اِن سے پہلے لوگوں نے بھی (حق کو) جھٹلایا تھا اور یہ اس کے دسویں حصّے کو بھی نہیں پہنچے جو کچھ ہم نے اُن (پہلے گزرے ہوؤں) کو دیا تھا پھر انہوں نے (بھی) میرے رسولوں کو جھٹلایا، سو میرا انکار کیسا (عبرت ناک ثابت) ہوا،
34:46فرما دیجئے: میں تمہیں بس ایک ہی (بات کی) نصیحت کرتا ہوں کہ تم اﷲ کے لئے (روحانی بیداری اور انتباہ کے حال میں) قیام کرو، دو دو اور ایک ایک، پھر تفکّر کرو (یعنی حقیقت کا معاینہ اور مراقبہ کرو تو تمہیں مشاہدہ ہو جائے گا) کہ تمہیں شرفِ صحبت سے نوازنے والے (رسولِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہرگز جنون زدہ نہیں ہیں وہ تو سخت عذاب (کے آنے) سے پہلے تمہیں (بروقت) ڈر سنانے والے ہیں (تاکہ تم غفلت سے جاگ اٹھو)،
34:47فرما دیجئے: میں نے (اس اِحسان کا) جو صلہ تم سے مانگا ہو وہ بھی تم ہی کو دے دیا، میرا اجر صرف اﷲ ہی کے ذمّہ ہے، اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے،
34:48فرما دیجئے: میرا رب (انبیاء کی طرف) حق کا القاء فرماتا ہے (وہ) سب غیبوں کو خوب جاننے والا ہے،
34:49فرما دیجئے: حق آگیا ہے اور باطل نہ (کچھ) پہلی بار پیدا کر سکتا ہے اور نہ دوبارہ پلٹا سکتا ہے،
34:50فرما دیجئے: اگر میں بہک جاؤں تو میرے بہکنے کا گناہ (یا نقصان) میری اپنی ہی ذات پر ہے، اور اگر میں نے ہدایت پا لی ہے تو اس وجہ سے (پائی ہے) کہ میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے۔ بیشک وہ سننے والا ہے قریب ہے،
34:51اور اگر آپ (ان کا حال) دیکھیں جب یہ لوگ بڑے مضطرب ہوں گے، پھر بچ نہ سکیں گے اور نزدیکی جگہ سے ہی پکڑ لئے جائیں گے،
34:52اور کہیں گے: ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، مگر اب وہ (ایمان کو اتنی) دُور کی جگہ سے کہاں پا سکتے ہیں،
34:53حالانکہ وہ اس سے پہلے کفر کر چکے، اور وہ بِن دیکھے دور کی جگہ سے باطل گمان کے تیر پھینکتے رہے ہیں،
34:54اور ان کے اور ان کی خواہشات کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی جیسا کہ پہلے اُن کے مثل گروہوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ بیشک وہ دھوکہ میں ڈالنے والے شک میں مبتلا تھے،



Share this Surah Translation on Facebook...