Quantcast
Ads by Muslim Ad Network









al-Ahzab Farsi:: Ghodratollah Bakhtiari Nejad 

Ayat
33:1اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) (ف۲) اللہ کا یوں ہی خوف رکھنا اور کافروں اور منافقوں کی نہ سننا (ف۳) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے،
33:2اور اس کی پیروی رکھنا جو تمہارے رب کی طرف سے تمہیں وحی ہوتی ہے، اے لوگو! اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
33:3اور اے محبوب! تم اللہ پر بھروسہ رکھو، اور اللہ بس ہے کام بنانے والا،
33:4اللہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے (ف۴) اور تمہاری ان عورتوں کو جنہیں تم کے برابر کہہ دو تمہاری ماں نہ بنایا (ف۵) اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایا (ف۶) یہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے (ف۷) اور اللہ حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے (ف۸)
33:5انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو (ف۹) یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں (ف۱۰) تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور بشریت میں تمہارے چچا زاد (ف۱۱) اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو نا دانستہ تم سے صادر ہوا (ف۱۲) ہاں وہ گناہ ہے جو دل کے قصد سے کرو (ف۱۳) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
33:6یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے (ف۱۴) اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں (ف۱۵) اور رشتہ والے اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہیں (ف۱۶) بہ نسبت اور مسلمانوں اور مہاجروں کے (ف۱۷) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرو (ف۱۸) یہ کتاب میں لکھا ہے (ف۱۹)
33:7اور اے محبوب! یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہد لیا (ف۲۰) اور تم سے (ف۲۱) اور نوح اور ابراہیم اور موسی ٰ اور عیسیٰ بن مریم سے اور ہم نے ان سے گاڑھا عہد لیا،
33:8تاکہ سچوں سے (ف۲۲) ان کے سچ کا سوال کرے (ف۲۳) اور اس نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،
33:9اے ایمان والو! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو (ف۲۴) جب تم پر کچھ لشکر آئے (ف۲۵) تو ہم نے ان پر آندھی اور وہ لشکر بھیجے جو تمہیں نظر نہ آئے (ف۲۶) اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے (ف۲۷)
33:10جب کافر تم پر آئے تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے (ف۲۸) اور جبکہ ٹھٹک کر رہ گئیں نگاہیں (ف۲۹) اور دل گلوں کے پاس آگئے (ف۳۰) اور تم اللہ پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے امید و یاس کے (ف۳۱)
33:11وہ جگہ تھی کہ مسلمانوں کی جانچ ہوئی (ف۳۲) اور خوب سختی سے جھنجھوڑے گئے،
33:12اور جب کہنے لگے منافق اور جن کے دلوں میں روگ تھا (ف۳۳) ہمیں اللہ و رسول نے وعدہ نہ دیا تھا مگر فریب کا (ف۳۴)
33:13اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا (ف۳۵) اے مدینہ والو! (ف۳۶) یہاں تمہارے ٹھہرنے کی جگہ نہیں (ف۳۷) تم گھروں کو واپس چلو اور ان میں سے ایک گروہ (ف۳۸) نبی سے اذن مانگتا تھا یہ کہہ کر ہمارے گھر بے حفاظت ہیں، اور وہ بے حفاظت نہ تھے، وہ تو نہ چاہتے تھے مگر بھاگنا،
33:14اور اگر ان پر فوجیں مدینہ کے اطراف سے آئیں پھر ان سے کفر چاہتیں تو ضرور ان کا مانگا دے بیٹھتے (ف۳۹) اور اس میں دیر نہ کرتے مگر تھوڑی
33:15اور بیشک اس سے پہلے وہ اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ پیٹھ نہ پھیریں گے، اور اللہ کا وعدہ پوچھا جائے گا (ف۴۰)
33:16تم فرماؤ ہرگز تمہیں بھاگنا نفع نہ دے گا اگر موت یا قتل سے بھاگو (ف۴۱) اور جب بھی دنیا نہ برتنے دیے جاؤ گے مگر تھوڑی (ف۴۲)
33:17تم فرماؤ وہ کون ہے جو اللہ کا حکم تم پر سے ٹال دے اگر وہ تمہارا برا چاہے (ف۴۳) یا تم پر مہر (رحم) فرمانا چاہے (ف۴۴) اور وہ اللہ کے سوا کوئی حامی نہ پائیں گے نہ مددگار،
33:18بیشک اللہ جانتا ہے تمہارے ان کو جو اوروں کو جہاد سے روکتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں ہماری طرف چلے آؤ (ف۴۵) اور لڑائی میں نہیں آتے مگر تھوڑے (ف۴۶)
33:19تمہاری مدد میں گئی کرتے (کمی کرتے) ہیں پھر جب ڈر کا وقت آئے تم انہیں دیکھو گے تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گھوم رہی ہیں جیسے کسی پر موت چھائی ہو پھر جب ڈر کا وقت نکل جائے (ف۴۷) تمہیں طعنے دینے لگیں تیز زبانوں سے مال غنیمت کے لالچ میں (ف۴۸) یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں (ف۴۹) تو اللہ نے ان کے عمل اکارت کردیے (ف۵۰) اور یہ اللہ کو آسان ہے،
33:20وہ سمجھ رہے ہیں کہ کافروں کے لشکر ابھی نہ گئے (ف۵۱) اور اگر لشکر دوبارہ آئیں تو ان کی (ف۵۲) خواہش ہوگی کہ کسی طرح گا نؤں میں نکل کر (ف۵۳) تمہاری خبریں پوچھتے (ف۵۴) اور اگر وہ تم میں رہتے جب بھی نہ لڑتے مگر تھوڑے (ف۵۵)
33:21بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے (ف۵۶) اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرے (ف۵۷)
33:22اور جب مسلمانوں نے کافروں کے لشکر دیکھے بولے یہ ہے وہ جو ہمیں وعدہ دیا تھا اللہ اور اس کے رسول نے (ف۵۸) اور سچ فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے (ف۵۹) اور اس سے انہیں نہ بڑھا مگر ایمان اور اللہ کی رضا پر راضی ہونا،
33:23مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیا جو عہد اللہ سے کیا تھا (ف۶۰) تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا (ف۶۱) اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے (ف۶۲) اور وہ ذرا نہ بدلے (ف۶۳)
33:24تاکہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کا صلہ دے اور منافقوں کو عذاب کرے اگر چاہے، یا انہیں توبہ دے، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
33:25اور اللہ نے کافروں کو (ف۶۴) ان کے دلوں کی جلن کے ساتھ پلٹایا کہ کچھ بھلا نہ پایا (ف۶۵) اور اللہ نے مسلمانوں کو لڑائی کی کفایت فرمادی (ف۶۶) اور اللہ زبردست عزت والا ہے،
33:26اور جن اہلِ کتاب نے ان کی مدد کی تھی (ف۶۷) انہیں ان کے قلعوں سے اتارا (ف۶۸) اور ان کے دلوں میں رُعب ڈالا ان میں ایک گروہ کو تم قتل کرتے ہو (ف۶۹) اور ایک گروہ کو قید (ف۷۰)
33:27اور ہم نے تمہارے ہاتھ لگائے ان کی زمین اور ان کی زمین اور ان کے مکان اور ان کے مال (ف۷۱) اور وہ زمین جس پر تم نے ابھی قدم نہیں رکھا ہے (ف۷۲) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
33:28اے غیب بتانے والے (نبی)! اپنی بیبیوں سے فرمادے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو (ف۷۳) تو آؤ میں تمہیں مال دُوں (ف۷۴) اور اچھی طرح چھوڑ دُوں (ف۷۵)
33:29اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو بیشک اللہ نے تمہاری نیکی والیوں کے لیے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے،
33:30اے نبی کی بیبیو! جو تم میں صریح حیا کے خلاف کوئی جرأت کرے (ف۷۶) اس پر اوروں سے دُونا عذاب ہوگا (ف۷۷) اور یہ اللہ کو آسان ہے،
33:31اور (ف۷۸) جو تم میں فرمانبردار رہے اللہ اور رسول کی اور اچھا کام کرے ہم اسے اوروں سے دُونا ثواب دیں گے (ف۷۹) اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے (ف۸۰)
33:32اے نبی کی بیبیو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو (ف۸۱) اگر اللہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے (ف۸۲) ہاں اچھی بات کہو (ف۸۳)
33:33اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی (ف۸۴) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو ا لله تو یہی چاہتا ہے، اے نبی کے گھر والو! کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے (ف۸۵)
33:34اور یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں اللہ کی آیتیں اور حکمت (ف۸۶) بیشک اللہ ہر باریکی جانتا خبردار ہے،
33:35بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں (ف۸۷) اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرمانبردار اور فرمانبرداریں اور سچے اور سچیاں (ف۸۸) اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اس نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے،
33:36اور نہ کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللہ و رسول کچھ حکم فرمادیں تو انہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے (ف۸۹) اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول کا وہ بیشک صر یح گمراہی بہکا،
33:37اور اے محبوب! یاد کرو جب تم فرماتے تھے اس سے جسے اللہ نے اسے نعمت دی (ف۹۰) اور تم نے اسے نعمت دی (ف۹۱) کہ اپنی بی بی اپنے پاس رہنے دے (ف۹۲) اور اللہ سے ڈر (ف۹۳) اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللہ کو ظاہر کرنا منظور تھا (ف۹۴) اور تمہیں لوگوں کے طعنہ کا اندیشہ تھا (ف۹۵) اور اللہ زیادہ سزاوار ہے کہ اس کا خوف رکھو (ف۹۶) پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی (ف۹۷) تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی (ف۹۸) کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں (منہ بولے بیٹوں) کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے (ف۹۹) اور اللہ کا حکم ہوکر رہنا،
33:38نبی پر کوئی حرج نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمائی (ف۱۰۰) اللہ کا دستور چلا آرہا ہے اس میں جو پہلے گزر چکے (ف۱۰۱) اور اللہ کا کام مقرر تقدیر ہے
33:39وہ جو اللہ کے پیام پہنچاتے اور اس سے ڈرتے اور اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ کرے، اور اللہ بس ہے حساب لینے والا (ف۱۰۲)
33:40محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں (ف۱۰۳) ہاں اللہ کے رسول ہیں (ف۱۰۴) اور سب نبیوں کے پچھلے (ف۱۰۵) اور اللہ سب کچھ جانتا ہے،
33:41اے ایمان والو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو،
33:42اور صبح و شام اس کی پاکی بولو (ف۱۰۶)
33:43وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فرشتے (ف۱۰۷) کہ تمہیں اندھیریوں سے اجالے کی طرف نکالے (ف۱۰۸) اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے،
33:44ان کے لیے ملتے وقت کی دعا سلام ہے (ف۱۰۹) اور ان کے لیے عزت کا ثواب تیار کر رکھا ہے،
33:45(اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر (ف۱۱۰) اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا (ف۱۱۱)
33:46اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا (ف۱۱۲) او ر چمکادینے دینے والا ا ٓ فتاب (ف۱۱۳)
33:47اور ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لیے اللہ کا بڑا فضل ہے،
33:48اور کافروں اور منافقوں کی خوشی نہ کرو اور ان کی ایذا پر درگزر فرماؤ (ف۱۱۴) اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اور اللہ بس ہے کارساز،
33:49اے ایمان والو! جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں بے ہاتھ لگائے چھوڑ دو تو تمہارے لیے کچھ عدت نہیں جسے گنو (ف۱۱۵) تو انہیں کچھ فائدہ دو (ف۱۱۶) اور اچھی طرح سے چھوڑ دو (ف۱۱۷)
33:50اے غیب بتانے والے (نبی)! ہم نے تمہارے لیے حلال فرمائیں تمہاری وہ بیبیاں جن کو تم مہر دو (ف۱۱۸) اور تمہارے ہاتھ کا مال کنیزیں جو اللہ نے تمہیں غنیمت میں دیں (ف۱۱۹) اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور پھپیوں کی بیٹیاں اور ماموں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی (ف۱۲۰) اور ایمان والی عورت اگر وہ اپنی جان نبی کی نذر کرے اگر نبی اسے نکاح میں لانا چاہے (ف۱۲۱) یہ خاص تمہارے لیے ہہے امت کے لیے نہیں (ف۱۲۲) ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مسلمانوں پر مقرر کیا ہے ان کی بیبیوں اور ان کے ہاتھ کی مال کنیزوں میں (ف۱۲۳) یہ خصوصیت تمہاری (ف۱۲۴) اس لیے کہ تم پر کوئی تنگی نہ ہو، اور اللہ بخشنے والا مہربان،
33:51پیچھے ہٹاؤ ان میں سے جسے چاہو اور اپنے پاس جگہ دو جسے چاہو (ف۱۲۵) اور جسے تم نے کنارے کردیا تھا اسے تمہارا جی چاہے تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں (ف۱۲۶) یہ امر اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور غم نہ کریں اور تم انہیں جو کچھ عطا فرماؤ اس پر وہ سب کی سب راضی رہیں (ف۱۲۷) اور اللہ جانتا ہے جو تم سب کے دلوں میں ہے، اور اللہ علم و حلم والا ہے،
33:52ان کے بعد (ف۱۲۸) اور عورتیں تمہیں حلال نہیں (ف۱۲۹) اور نہ یہ کہ ان کے عوض اور بیبیاں بدلو (ف۱۳۰) اگرچہ تمہیں ان کا حسن بھائے مگر کنیز تمہارے ہاتھ کا مالک (ف۱۳۱) اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے،
33:53اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں (ف۱۳۲) نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ (ف۱۳۳) مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو (ف۱۳۴) ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہوجاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ (ف۱۳۵) بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے (ف۱۳۶) اور اللہ حق فرمانے میں نہیں شرماتا، اور جب تم ان سے (ف۱۳۷) برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر مانگو، اس میں زیادہ ستھرائی ہے تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی (ف۱۳۸) اور تمہیں نہیں پہنچتا کہ رسول اللہ کو ایذا دو (ف۱۳۹) اور نہ یہ کہ ان کے بعد کبھی ان کی بیبیوں سے نکاح کرو (ف۱۴۰) بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے (ف۱۴۱)
33:54اگر تم کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ تو بیشک سب کچھ جانتا ہے،
33:55ان پر مضائقہ نہیں (ف۱۴۲) ان کے باپ اور بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنے دین کی عورتوں (ف۱۴۴) اور اپنی کنیزوں میں (ف۱۴۵) اور اللہ سے ڈرتی ہو، بیشک اللہ ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،
33:56بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر، اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو (ف۱۴۶)
33:57بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں (ف۱۴۷) اور اللہ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے (ف۱۴۸)
33:58اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا (ف۱۴۹)
33:59اے نبی! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں (ف۱۵۰) یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو (ف۱۵۱) تو ستائی نہ جائیں (ف۱۵۲) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
33:60اگر باز نہ آئے منافق (ف۱۵۳) اور جن کے دلوں میں روگ ہے (ف۱۵۴) اور مدینہ میں جھوٹ اڑانے والے (ف۱۵۵) تو ضرور ہم تمہیں ان پر شہ دیں گے (ف۱۵۶) پھر وہ مدینہ میں تمہارے پاس نہ رہیں گے مگر تھوڑے دن (ف۱۵۷)
33:61پھٹکارے ہوئے، جہاں کہیں ملیں پکڑے جائیں اور گن گن کر قتل کیے جائیں،
33:62اللہ کا دستور چلا آتا ہے ان لوگوں میں جو پہلے گزر گئے (ف۱۵۸) اور تم اللہ کا دستور ہرگز بدلتا نہ پاؤ گے،
33:63لوگ تم سے قیامت کا پوچھتے ہیں (ف۱۵۹) تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور تم کیا جانو شاید قیامت پاس ہی ہو (ف۱۶۰)
33:64بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت فرمائی اور ان کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے،
33:65اس میں ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار (ف۱۶۱)
33:66جس دن ان کے منہ الٹ الٹ کر آگ میں تلے جائیں گے کہتے ہوں گے ہائے کسی طرح ہم نے اللہ کا حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم مانا (ف۱۶۲)
33:67اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کے کہنے پر چلے (ف۱۶۳) تو انہوں نے ہمیں راہ سے بہکادیا،
33:68اے ہمارے رب! انہیں آگ کا دُونا عذاب دے (ف۱۶۴) اور ان پر بڑی لعنت کر،
33:69اے ایمان والو! ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو ستایا (ف۱۶۶) تو اللہ نے اسے بَری فرمادیا اس بات سے جو انہوں نے کہی (ف۱۶۷) اور موسیٰ اللہ کے یہاں آبرو والا ہے (ف۱۶۸)
33:70اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو (ف۱۶۹)
33:71تمہارے اعمال تمہارے لیے سنواردے گا (ف۱۷۰) اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی،
33:72بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی (ف۱۷۱) آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے (ف۱۷۲) اور آدمی نے اٹھالی، بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے،
33:73تاکہ اللہ عذاب منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو (ف۱۷۳) اور اللہ توبہ قبول فرمائے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،



Share this Surah Translation on Facebook...