Quantcast
Ads by Muslim Ad Network









al-Imran Farsi:: Ghodratollah Bakhtiari Nejad 

Ayat
3:1الف لام میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،
3:2اﷲ، اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں (وہ) ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے (سارے عالم کو اپنی تدبیر سے) قائم رکھنے والا ہے،
3:3(اے حبیب!) اسی نے (یہ) کتاب آپ پر حق کے ساتھ نازل فرمائی ہے (یہ) ان (سب کتابوں) کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے اتری ہیں اور اسی نے تورات اور انجیل نازل فرمائی ہے،
3:4(جیسے) اس سے قبل لوگوں کی رہنمائی کے لئے (کتابیں اتاری گئیں) اور (اب اسی طرح) اس نے حق اور باطل میں امتیاز کرنے والا (قرآن) نازل فرمایا ہے، بیشک جو لوگ اﷲ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کے لئے سنگین عذاب ہے، اور اﷲ بڑا غالب انتقام لینے والا ہے،
3:5یقینا اﷲ پر زمین اور آسمان کی کوئی بھی چیز مخفی نہیں،
3:6وہی ہے جو (ماؤں کے) رحموں میں تمہاری صورتیں جس طرح چاہتا ہے بناتا ہے، اس کے سوا کوئی لائقِ پرستش نہیں (وہ) بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے،
3:7وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی جس میں سے کچھ آیتیں محکم (یعنی ظاہراً بھی صاف اور واضح معنی رکھنے والی) ہیں وہی (احکام) کتاب کی بنیاد ہیں اور دوسری آیتیں متشابہ (یعنی معنی میں کئی احتمال اور اشتباہ رکھنے والی) ہیں، سو وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے اس میں سے صرف متشابہات کی پیروی کرتے ہیں (فقط) فتنہ پروری کی خواہش کے زیرِ اثر اور اصل مراد کی بجائے من پسند معنی مراد لینے کی غرض سے، اور اس کی اصل مراد کو اﷲ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور علم میں کامل پختگی رکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، ساری (کتاب) ہمارے رب کی طرف سے اتری ہے، اور نصیحت صرف اہلِ دانش کو ہی نصیب ہوتی ہے،
3:8(اور عرض کرتے ہیں:) اے ہمارے رب! ہمارے دلوں میں کجی پیدا نہ کر اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت سے سرفراز فرمایا ہے اور ہمیں خاص اپنی طرف سے رحمت عطا فرما، بیشک تو ہی بہت عطا فرمانے والا ہے،
3:9اے ہمارے رب! بیشک تو اس دن کہ جس میں کوئی شک نہیں سب لوگوں کو جمع فرمانے والا ہے، یقینا اﷲ (اپنے) وعدہ کے خلاف نہیں کرتا،
3:10بیشک جنہوں نے کفر کیا نہ ان کے مال انہیں اﷲ (کے عذاب) سے کچھ بھی بچا سکیں گے اور نہ ان کی اولاد، اور وہی لوگ دوزخ کا ایندھن ہیں،
3:11(ان کا بھی) قومِ فرعون اور ان سے پہلی قوموں جیسا طریقہ ہے، جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو اﷲ نے ان کے گناہوں کے باعث انہیں پکڑ لیا، اور اﷲ سخت عذاب دینے والا ہے،
3:12کافروں سے فرما دیں: تم عنقریب مغلوب ہو جاؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے،
3:13بیشک تمہارے لئے ان دو جماعتوں میں ایک نشانی ہے (جو میدانِ بدر میں) آپس میں مقابل ہوئیں، ایک جماعت نے اﷲ کی راہ میں جنگ کی اور دوسری کافر تھی وہ انہیں (اپنی) آنکھوں سے اپنے سے دوگنا دیکھ رہے تھے، اور اﷲ اپنی مدد کے ذریعے جسے چاہتا ہے تقویت دیتا ہے، یقینا اس واقعہ میں آنکھ والوں کے لئے (بڑی) عبرت ہے،
3:14لوگوں کے لئے ان خواہشات کی محبت (خوب) آراستہ کر دی گئی ہے (جن میں) عورتیں اور اولاد اور سونے اور چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشان کئے ہوئے خوبصورت گھوڑے اور مویشی اور کھیتی (شامل ہیں)، یہ (سب) دنیوی زندگی کا سامان ہے، اور اﷲ کے پاس بہتر ٹھکانا ہے،
3:15(اے حبیب!) آپ فرما دیں: کیا میں تمہیں ان سب سے بہترین چیز کی خبر دوں؟ (ہاں) پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس (ایسی) جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے (ان کے لئے) پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور (سب سے بڑی بات یہ کہ) اﷲ کی طرف سے خوشنودی نصیب ہوگی، اور اﷲ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے،
3:16(یہ وہ لوگ ہیں) جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم یقینا ایمان لے آئے ہیں سو ہمارے گناہ معاف فرما دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے،
3:17(یہ لوگ) صبر کرنے والے ہیں اور قول و عمل میں سچائی والے ہیں اور ادب و اطاعت میں جھکنے والے ہیں اور اﷲ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں اور رات کے پچھلے پہر (اٹھ کر) اﷲ سے معافی مانگنے والے ہیں،
3:18اﷲ نے اس بات پر گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی (اور ساتھ یہ بھی) کہ وہ ہر تدبیر عدل کے ساتھ فرمانے والا ہے، اس کے سوا کوئی لائقِ پرستش نہیں وہی غالب حکمت والا ہے،
3:19بیشک دین اﷲ کے نزدیک اسلام ہی ہے، اور اہلِ کتاب نے جو اپنے پاس علم آجانے کے بعد اختلاف کیا وہ صرف باہمی حسد و عناد کے باعث تھا، اور جو کوئی اﷲ کی آیتوں کا انکار کرے تو بیشک اﷲ حساب میں جلدی فرمانے والا ہے،
3:20(اے حبیب!) اگر پھر بھی آپ سے جھگڑا کریں تو فرما دیں کہ میں نے اور جس نے (بھی) میری پیروی کی اپنا روئے نیاز اﷲ کے حضور جھکا دیا ہے، اور آپ اہلِ کتاب اور اَن پڑھ لوگوں سے فرما دیں: کیا تم بھی اﷲ کے حضور جھکتے ہو (یعنی اسلام قبول کرتے ہو)؟ پھر اگر وہ فرمانبرداری اختیار کر لیں تو وہ حقیقتاً ہدایت پا گئے، اور اگر منہ پھیر لیں تو آپ کے ذمہ فقط حکم پہنچا دینا ہی ہے، اور اﷲ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے،
3:21یقینا جو لوگ اﷲ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور انبیاءکو ناحق قتل کرتے ہیں اور لوگوں میں سے بھی انہیں قتل کرتے ہیں جو عدل و انصاف کا حکم دیتے ہیں سو آپ انہیں دردناک عذاب کی خبر سنا دیں،
3:22یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت (دونوں) میں غارت ہوگئے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا،
3:23کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں (علمِ) کتاب میں سے ایک حصہ دیا گیا وہ کتابِ الٰہی کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ (کتاب) ان کے درمیان (نزاعات کا) فیصلہ کر دے تو پھر ان میں سے ایک طبقہ منہ پھیر لیتا ہے اور وہ روگردانی کرنے والے ہی ہیں،
3:24یہ (روگردانی کی جرأت) اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں گنتی کے چند دنوں کے سوا دوزخ کی آگ مَس نہیں کرے گی، اور وہ (اﷲ پر) جو بہتان باندھتے رہتے ہیں اس نے ان کو اپنے دین کے بارے میں فریب میں مبتلا کر دیا ہے،
3:25سو کیا حال ہو گا جب ہم ان کو اس دن جس (کے بپا ہونے) میں کوئی شک نہیں جمع کریں گے، اور جس جان نے جو کچھ بھی (اعمال میں سے) کمایا ہو گا اسے اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا،
3:26(اے حبیب! یوں) عرض کیجئے: اے اﷲ، سلطنت کے مالک! تُو جسے چاہے سلطنت عطا فرما دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تُو جسے چاہے عزت عطا فرما دے اور جسے چاہے ذلّت دے، ساری بھلائی تیرے ہی دستِ قدرت میں ہے، بیشک تُو ہر چیز پر بڑی قدرت والا ہے،
3:27تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تُو ہی زندہ کو مُردہ سے نکالتا ہے اورمُردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے (اپنی نوازشات سے) بہرہ اندوز کرتا ہے،
3:28مسلمانوں کو چاہئے کہ اہلِ ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے گا اس کے لئے اﷲ (کی دوستی میں) سے کچھ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ تم ان (کے شر) سے بچنا چاہو، اور اﷲ تمہیں اپنی ذات (کے غضب) سے ڈراتا ہے، اور اﷲ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے،
3:29آپ فرما دیں کہ جو تمہارے سینوں میں ہے خواہ تم اسے چھپاؤ یا اسے ظاہر کر دو اﷲ اسے جانتا ہے، اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ خوب جانتا ہے، اور اﷲ ہر چیز پر بڑا قادر ہے،
3:30جس دن ہر جان ہر اس نیکی کو بھی (اپنے سامنے) حاضر پا لے گی جو اس نے کی تھی اور ہر برائی کو بھی جو اس نے کی تھی، تو وہ آرزو کرے گی: کاش! میرے اور اس برائی (یا اس دن) کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہوتا، اور اﷲ تمہیں اپنی ذات (کے غضب) سے ڈراتا ہے، اور اﷲ بندوں پر بہت مہربان ہے،
3:31(اے حبیب!) آپ فرما دیں: اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اﷲ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا اور تمہارے لئے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا، اور اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے،
3:32آپ فرما دیں کہ اﷲ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو پھر اگر وہ روگردانی کریں تو اﷲ کافروں کو پسند نہیں کرتا،
3:33بیشک اﷲ نے آدم (علیہ السلام) کو اور نوح (علیہ السلام) کو اور آلِ ابراہیم کو اور آلِ عمران کو سب جہان والوں پر (بزرگی میں) منتخب فرما لیا،
3:34یہ ایک ہی نسل ہے ان میں سے بعض بعض کی اولاد ہیں، اور اﷲ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے،
3:35اور (یاد کریں) جب عمران کی بیوی نے عرض کیا: اے میرے رب! جو میرے پیٹ میں ہے میں اسے (دیگر ذمہ داریوں سے) آزاد کر کے خالص تیری نذر کرتی ہوں سو تو میری طرف سے (یہ نذرانہ) قبول فرما لے، بیشک تو خوب سننے خوب جاننے والا ہے،
3:36پھر جب اس نے لڑکی جنی تو عرض کرنے لگی: مولا! میں نے تو یہ لڑکی جنی ہے، حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا اﷲ اسے خوب جانتا تھا، (وہ بولی:) اور لڑکا (جو میں نے مانگا تھا) ہرگز اس لڑکی جیسا نہیں (ہو سکتا) تھا (جو اﷲ نے عطا کی ہے)، اور میں نے اس کا نام ہی مریم (عبادت گزار) رکھ دیا ہے اور بیشک میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود (کے شر) سے تیری پناہ میں دیتی ہوں،
3:37سو اس کے رب نے اس (مریم) کو اچھی قبولیت کے ساتھ قبول فرما لیا اور اسے اچھی پرورش کے ساتھ پروان چڑھایا اور اس کی نگہبانی زکریا (علیہ السلام) کے سپرد کر دی، جب بھی زکریا (علیہ السلام) اس کے پاس عبادت گاہ میں داخل ہوتے تو وہ اس کے پاس (نئی سے نئی) کھانے کی چیزیں موجود پاتے، انہوں نے پوچھا: اے مریم! یہ چیزیں تمہارے لئے کہاں سے آتی ہیں؟ اس نے کہا: یہ (رزق) اﷲ کے پاس سے آتا ہے، بیشک اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا کرتا ہے،
3:38اسی جگہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی، عرض کیا: میرے مولا! مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بیشک تو ہی دعا کا سننے والا ہے،
3:39ابھی وہ حجرے میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے (یا دعا ہی کر رہے تھے) کہ انہیں فرشتوں نے آواز دی: بیشک اﷲ آپ کو (فرزند) یحیٰی (علیہ السلام) کی بشارت دیتا ہے جو کلمۃ اﷲ (یعنی عیسٰی علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والا ہو گا اور سردار ہو گا اور عورتوں (کی رغبت) سے بہت محفوظ ہو گا اور (ہمارے) خاص نیکوکار بندوں میں سے نبی ہو گا،
3:40(زکریاعلیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا؟ درآنحالیکہ مجھے بڑھاپا پہنچ چکا ہے اور میری بیوی (بھی) بانجھ ہے، فرمایا: اسی طرح اﷲ جو چاہتا ہے کرتا ہے،
3:41عرض کیا: اے میرے رب! میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما، فرمایا: تمہارے لئے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے سوائے اشارے کے بات نہیں کر سکو گے، اور اپنے رب کو کثرت سے یاد کرو اور شام اور صبح اس کی تسبیح کرتے رہو،
3:42اور جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بیشک اﷲ نے تمہیں منتخب کر لیا ہے اور تمہیں پاکیزگی عطا کی ہے اور تمہیں آج سارے جہان کی عورتوں پر برگزیدہ کر دیا ہے،
3:43اے مریم! تم اپنے رب کی بڑی عاجزی سے بندگی بجا لاتی رہو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کیا کرو،
3:44(اے محبوب!) یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی فرماتے ہیں، حالانکہ آپ (اس وقت) ان کے پاس نہ تھے جب وہ (قرعہ اندازی کے طور پر) اپنے قلم پھینک رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم (علیہا السلام) کی کفالت کرے اور نہ آپ اس وقت ان کے پاس تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے،
3:45جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بیشک اﷲ تمہیں اپنے پاس سے ایک کلمۂ (خاص) کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسٰی بن مریم (علیھما السلام) ہوگا وہ دنیا اور آخرت (دونوں) میں قدر و منزلت والا ہو گا اور اﷲ کے خاص قربت یافتہ بندوں میں سے ہوگا،
3:46اور وہ لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں (یکساں) گفتگو کرے گا اور وہ (اﷲ کے) نیکوکار بندوں میں سے ہو گا،
3:47(مریم علیہا السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا درآنحالیکہ مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا، ارشاد ہوا: اسی طرح اﷲ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے، جب کسی کام (کے کرنے) کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو اس سے فقط اتنا فرماتا ہے کہ ’ہو جا‘ وہ ہو جاتا ہے،
3:48اور اﷲ اسے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل (سب کچھ) سکھائے گا،
3:49اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہو گا (ان سے کہے گا) کہ بیشک میں تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے ایک نشانی لے کر آیا ہوں میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل جیسا (ایک پُتلا) بناتا ہوں پھر میں اس میں پھونک مارتا ہوں سو وہ اﷲ کے حکم سے فوراً اڑنے والا پرندہ ہو جاتا ہے، اور میں مادرزاد اندھے اور سفید داغ والے کو شفایاب کرتا ہوں اور میں اﷲ کے حکم سے مُردے کو زندہ کر دیتا ہوں، اور جو کچھ تم کھا کر آئے ہو اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو میں تمہیں (وہ سب کچھ) بتا دیتا ہوں، بیشک اس میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو،
3:50اور میں اپنے سے پہلے اتری ہوئی (کتاب) تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور یہ اس لئے کہ تمہاری خاطر بعض ایسی چیزیں حلال کر دوں جو تم پر حرام کر دی گئی تھیں اور تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں، سو اﷲ سے ڈرو اور میری اطاعت اختیار کر لو،
3:51بیشک اﷲ میرا رب ہے اور تمہارا بھی (وہی) رب ہے پس اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے،
3:52پھر جب عیسٰی (علیہ السلام) نے ان کا کفر محسوس کیا تو اس نے کہا: اﷲ کی طرف کون لوگ میرے مددگار ہیں؟ تو اس کے مخلص ساتھیوں نے عرض کیا: ہم اﷲ (کے دین) کے مددگار ہیں، ہم اﷲ پر ایمان لائے ہیں، اور آپ گواہ رہیں کہ ہم یقیناً مسلمان ہیں،
3:53اے ہمارے رب! ہم اس کتاب پر ایمان لائے جو تو نے نازل فرمائی اور ہم نے اس رسول کی اتباع کی سو ہمیں (حق کی) گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے،
3:54پھر (یہودی) کافروں نے (عیسٰی علیہ السلام کے قتل کے لئے) خفیہ سازش کی اور اﷲ نے (عیسٰی علیہ السلام کو بچانے کے لئے) مخفی تدبیر فرمائی، اور اﷲ سب سے بہتر مخفی تدبیر فرمانے والا ہے،
3:55جب اﷲ نے فرمایا: اے عیسٰی! بیشک میں تمہیں پوری عمر تک پہنچانے والا ہوں اور تمہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھانے والا ہوں اور تمہیں کافروں سے نجات دلانے والا ہوں اور تمہارے پیروکاروں کو (ان) کافروں پر قیامت تک برتری دینے والا ہوں، پھر تمہیں میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے سو جن باتوں میں تم جھگڑتے تھے میں تمہارے درمیان ان کا فیصلہ کر دوں گا،
3:56پھر جو لوگ کافر ہوئے انہیں دنیا اور آخرت (دونوں میں) سخت عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہو گا،
3:57اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے تو (اﷲ) انہیں ان کا بھرپور اجر دے گا، اور اﷲ ظالموں کو پسند نہیں کرتا،
3:58یہ جو ہم آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں (یہ) نشانیاں ہیں اور حکمت والی نصیحت ہے،
3:59بیشک عیسٰی (علیہ السلام) کی مثال اﷲ کے نزدیک آدم (علیہ السلام) کی سی ہے، جسے اس نے مٹی سے بنایا پھر (اسے) فرمایا ’ہو جا‘ وہ ہو گیا،
3:60(امت کی تنبیہ کے لئے فرمایا:) یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے پس شک کرنے والوں میں سے نہ ہو جانا،
3:61پس آپ کے پاس علم آجانے کے بعد جو شخص عیسٰی (علیہ السلام) کے معاملے میں آپ سے جھگڑا کرے تو آپ فرما دیں کہ آجاؤ ہم (مل کر) اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور اپنے آپ کو بھی اور تمہیں بھی (ایک جگہ پر) بلا لیتے ہیں، پھر ہم مباہلہ (یعنی گڑگڑا کر دعا) کرتے ہیں اور جھوٹوں پر اﷲ کی لعنت بھیجتے ہیں،
3:62بیشک یہی سچا بیان ہے، اور کوئی بھی اﷲ کے سوا لائقِ عبادت نہیں، اور بیشک اﷲ ہی تو بڑا غالب حکمت والا ہے،
3:63پھر اگر وہ لوگ روگردانی کریں تو یقینا اﷲ فساد کرنے والوں کو خوب جانتا ہے،
3:64آپ فرما دیں: اے اہلِ کتاب! تم اس بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے، (وہ یہ) کہ ہم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اﷲ کے سوا رب نہیں بنائے گا، پھر اگر وہ روگردانی کریں تو کہہ دو کہ گواہ ہو جاؤ کہ ہم تو اﷲ کے تابع فرمان (مسلمان) ہیں،
3:65اے اہلِ کتاب! تم ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو (یعنی انہیں یہودی یا نصرانی کیوں ٹھہراتے ہو) حالانکہ تورات اور انجیل (جن پر تمہارے دونوں مذہبوں کی بنیاد ہے) تو نازل ہی ان کے بعد کی گئی تھیں، کیا تم (اتنی بھی) عقل نہیں رکھتے،
3:66سن لو! تم وہی لوگ ہو جو ان باتوں میں بھی جھگڑتے رہے ہو جن کا تمہیں (کچھ نہ کچھ) علم تھا مگر ان باتوں میں کیوں تکرار کرتے ہو جن کا تمہیں (سرے سے) کوئی علم ہی نہیں، اور اﷲ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،
3:67ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی وہ ہر باطل سے جدا رہنے والے (سچے) مسلمان تھے، اور وہ مشرکوں میں سے بھی نہ تھے،
3:68بیشک سب لوگوں سے بڑھ کر ابراہیم (علیہ السلام) کے قریب (اور حق دار) تو وہی لوگ ہیں جنہوں نے ان (کے دین) کی پیروی کی ہے اور (وہ) یہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور (ان پر) ایمان لانے والے ہیں، اور اﷲ ایمان والوں کا مددگار ہے،
3:69(اے مسلمانو!) اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ تو (شدید) خواہش رکھتا ہے کہ کاش وہ تمہیں گمراہ کر سکیں، مگر وہ فقط اپنے آپ ہی کو گمراہی میں مبتلا کئے ہوئے ہیں اور انہیں (اس بات کا) شعور نہیں،
3:70اے اہلِ کتاب! تم اﷲ کی آیتوں کا انکار کیوں کر رہے ہو حالانکہ تم خود گواہ ہو (یعنی تم اپنی کتابوں میں سب کچھ پڑھ چکے ہو)،
3:71اے اہلِ کتاب! تم حق کو باطل کے ساتھ کیوں خلط ملط کرتے ہو اور حق کو کیوں چھپاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو،
3:72اور اہلِ کتاب کا ایک گروہ (لوگوں سے) کہتا ہے کہ تم اس کتاب (قرآن) پر جو مسلمانوں پر نازل کی گئی ہے دن چڑھے (یعنی صبح) ایمان لایا کرو اور شام کو انکار کر دیا کرو تاکہ (تمہیں دیکھ کر) وہ بھی برگشتہ ہو جائیں،
3:73اور کسی کی بات نہ مانو سوائے اس شخص کے جو تمہارے (ہی) دین کا پیرو ہو، فرما دیں کہ بیشک ہدایت تو (فقط) ہدایتِ الٰہی ہے (اور اپنے لوگوں سے مزید کہتے ہیں کہ یہ بھی ہرگز نہ ماننا) کہ جیسی کتاب (یا دِین) تمہیں دیا گیا اس جیسا کسی اور کو بھی دیا جائے گا یا یہ کہ کوئی تمہارے رب کے پاس تمہارے خلاف حجت لا سکے گا، فرما دیں: بیشک فضل تو اﷲ کے ہاتھ میں ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اﷲ وسعت والا بڑے علم والا ہے،
3:74وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص فرما لیتا ہے، اور اﷲ بڑے فضل والا ہے،
3:75اور اہلِ کتاب میں ایسے بھی ہیں کہ اگر آپ اس کے پاس مال کا ڈھیر امانت رکھ دیں تو وہ آپ کو لوٹا دے گا اور انہی میں ایسے بھی ہیں کہ اگر اس کے پاس ایک دینار امانت رکھ دیں تو آپ کو وہ بھی نہیں لوٹائے گا سوائے اس کے کہ آپ اس کے سر پر کھڑے رہیں، یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ اَن پڑھوں کے معاملہ میں ہم پر کوئی مؤاخذہ نہیں، اور اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور انہیں خود (بھی) معلوم ہے،
3:76ہاں جو اپنا وعدہ پورا کرے اور تقویٰ اختیار کرے (اس پر واقعی کوئی مؤاخذہ نہیں) سو بیشک اﷲ پرہیز گاروں سے محبت فرماتا ہے،
3:77بیشک جو لوگ اﷲ کے عہد اور اپنی قَسموں کا تھوڑی سی قیمت کے عوض سودا کر دیتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور نہ قیامت کے دن اﷲ ان سے کلام فرمائے گا اور نہ ہی ان کی طرف نگاہ فرمائے گا اور نہ انہیں پاکیزگی دے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہو گا،
3:78اور بیشک ان میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو کتاب پڑھتے ہوئے اپنی زبانوں کو مروڑ لیتے ہیں تاکہ تم ان کی الٹ پھیر کو بھی کتاب (کا حصّہ) سمجھو حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے، اور کہتے ہیں: یہ (سب) اﷲ کی طرف سے ہے، اور وہ (ہرگز) اﷲ کی طرف سے نہیں ہے، اور وہ اﷲ پر جھوٹ گھڑتے ہیں اور (یہ) انہیں خود بھی معلوم ہے،
3:79کسی بشر کو یہ حق نہیں کہ اﷲ اسے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا فرمائے پھر وہ لوگوں سے یہ کہنے لگے کہ تم اﷲ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ بلکہ (وہ تو یہ کہے گا) تم اﷲ والے بن جاؤ اس سبب سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس وجہ سے کہ تم خود اسے پڑھتے بھی ہو،
3:80اور وہ پیغمبر تمہیں یہ حکم کبھی نہیں دیتا کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو رب بنا لو، کیا وہ تمہارے مسلمان ہو جانے کے بعد (اب) تمہیں کفر کا حکم دے گا،
3:81اور (اے محبوب! وہ وقت یاد کریں) جب اﷲ نے انبیاءسے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کرو گے، فرمایا: کیا تم نے اِقرار کیا اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا؟ سب نے عرض کیا: ہم نے اِقرار کر لیا، فرمایا کہ تم گواہ ہو جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں،
3:82(اب پوری نسل آدم کے لئے تنبیہاً فرمایا:) پھر جس نے اس (اقرار) کے بعد روگردانی کی پس وہی لوگ نافرمان ہوں گے،
3:83کیا یہ اﷲ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں اور جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اس نے خوشی سے یا لاچاری سے (بہرحال) اسی کی فرمانبرداری اختیار کی ہے اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے،
3:84آپ فرمائیں: ہم اﷲ پر ایمان لائے ہیں اور جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب (علیھم السلام) اور ان کی اولاد پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ موسٰی اور عیسٰی اور جملہ انبیاء (علیھم السلام) کو ان کے رب کی طرف سے عطا کیا گیا ہے (سب پر ایمان لائے ہیں)، ہم ان میں سے کسی پر بھی ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے تابع فرمان ہیں،
3:85اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کو چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا،
3:86اﷲ ان لوگوں کو کیونکر ہدایت فرمائے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے حالانکہ وہ اس امر کی گواہی دے چکے تھے کہ یہ رسول سچا ہے اور ان کے پاس واضح نشانیاں بھی آچکی تھیں، اور اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا،
3:87ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اﷲ کی اور فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت پڑتی رہے،
3:88وہ اس پھٹکار میں ہمیشہ (گرفتار) رہیں گے اور ان سے اس عذاب میں کمی نہیں کی جائے گی اور نہ انہیں مہلت دی جائے گے،
3:89سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے بعد توبہ کر لی اور (اپنی) اصلاح کر لی، تو بیشک اﷲ بڑا بخشنے والا مہربان ہے،
3:90بیشک جن لوگوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا پھر وہ کفر میں بڑھتے گئے ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گے، اور وہی لوگ گمراہ ہیں،
3:91بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور حالتِ کفر میں ہی مر گئے سو ان میں سے کوئی شخص اگر زمین بھر سونا بھی (اپنی نجات کے لئے) معاوضہ میں دینا چاہے تو اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، انہی لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہو سکے گا،
3:92تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم (اللہ کی راہ میں) اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے،
3:93تورات کے اترنے سے پہلے بنی اسرائیل کے لئے ہر کھانے کی چیز حلال تھی سوائے ان (چیزوں) کے جو یعقوب (علیہ السلام) نے خود اپنے اوپر حرام کر لی تھیں، فرما دیں: تورات لاؤ اور اسے پڑھو اگر تم سچے ہو،
3:94پھر اس کے بعد بھی جو شخص اللہ پر جھوٹ گھڑے تو وہی لوگ ظالم ہیں،
3:95فرما دیں کہ اللہ نے سچ فرمایا ہے، سو تم ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی پیروی کرو جو ہر باطل سے منہ موڑ کر صرف اللہ کے ہوگئے تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے،
3:96بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا وہی ہے جو مکہّ میں ہے، برکت والا ہے اور سارے جہان والوں کے لئے (مرکزِ) ہدایت ہے،
3:97اس میں کھلی نشانیاں ہیں (ان میں سے ایک) ابراہیم (علیہ السلام) کی جائے قیام ہے، اور جو اس میں داخل ہوگیا امان پا گیا، اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اور جو (اس کا) منکر ہو تو بیشک اللہ سب جہانوں سے بے نیاز ہے،
3:98فرما دیں: اے اہلِ کتاب! تم اللہ کی آیتوں کا انکار کیوں کرتے ہو؟ اور اللہ تمہارے کاموں کا مشاہدہ فرما رہا ہے،
3:99فرما دیں: اے اہلِ کتاب! جو شخص ایمان لے آیا ہے تم اسے اللہ کی راہ سے کیوں روکتے ہو؟ تم ان کی راہ میں بھی کجی چاہتے ہو حالانکہ تم (اس کے حق ہونے پر) خود گواہ ہو، اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں،
3:100اے ایمان والو! اگر تم اہلِ کتاب میں سے کسی گروہ کا بھی کہنا مانو گے تو وہ تمہارے ایمان (لانے) کے بعد پھر تمہیں کفر کی طرف لوٹا دیں گے،
3:101اور تم (اب) کس طرح کفر کرو گے حالانکہ تم وہ (خوش نصیب) ہو کہ تم پر اللہ کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں اور تم میں (خود) اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں، اور جو شخص اللہ (کے دامن) کو مضبوط پکڑ لیتا ہے تو اسے ضرور سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی جاتی ہے،
3:102اے ایمان والو! اللہ سے ڈرا کرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہاری موت صرف اسی حال پر آئے کہ تم مسلمان ہو،
3:103اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو، اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی اور تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہوگئے، اور تم (دوزخ کی) آگ کے گڑھے کے کنارے پر(پہنچ چکے) تھے پھر اس نے تمہیں اس گڑھے سے بچا لیا، یوں ہی اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ،
3:104اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں،
3:105اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے تھے اور جب ان کے پاس واضح نشانیاں آچکیں اس کے بعد بھی اختلاف کرنے لگے، اور انہی لوگوں کے لئے سخت عذاب ہے،
3:106جس دن کئی چہرے سفید ہوں گے اور کئی چہرے سیاہ ہوں گے، تو جن کے چہرے سیاہ ہو جائیں گے (ان سے کہا جائے گا:) کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ تو جو کفر تم کرتے رہے تھے سواس کے عذاب (کا مزہ) چکھ لو،
3:107اور جن لوگوں کے چہرے سفید (روشن) ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،
3:108یہ اللہ کی آیتیں ہیں جنہیں ہم آپ پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، اور اللہ جہان والوں پر ظلم نہیں چاہتا،
3:109اور اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور سب کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے،
3:110تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو یقیناً ان کے لئے بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ ایمان والے بھی ہیں اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں،
3:111یہ لوگ ستانے کے سوا تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، اور اگر یہ تم سے جنگ کریں تو تمہارے سامنے پیٹھ پھیر جائیں گے، پھر ان کی مدد (بھی) نہیں کی جائے گے،
3:112وہ جہاں کہیں بھی پائے جائیں ان پر ذلّت مسلط کر دی گئی ہے سوائے اس کے کہ انہیں کہیں اللہ کے عہد سے یا لوگوں کے عہد سے (پناہ دے دی جائے) اور وہ اللہ کے غضب کے سزاوار ہوئے ہیں اور ان پر محتاجی مسلط کی گئی ہے، یہ اس لئے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے تھے، کیونکہ وہ نافرمان ہو گئے تھے اور (سرکشی میں) حد سے بڑھ گئے تھے،
3:113یہ سب برابر نہیں ہیں، اہلِ کتاب میں سے کچھ لوگ حق پر (بھی) قائم ہیں وہ رات کی ساعتوں میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور سر بسجود رہتے ہیں،
3:114وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک کاموں میں تیزی سے بڑھتے ہیں، اور یہی لوگ نیکوکاروں میں سے ہیں،
3:115اور یہ لوگ جو نیک کام بھی کریں اس کی ناقدری نہیں کی جائے گے اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جاننے والا ہے،
3:116یقینا جن لوگوں نے کفر کیا ہے نہ ان کے مال انہیں اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی بچا سکیں گے اور نہ ان کی اولاد، اور وہی لوگ جہنمی ہیں، جو اس میں ہمیشہ رہیں گے،
3:117(یہ لوگ) جو مال (بھی) اس دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ہوا جیسی ہے جس میں سخت پالا ہو (اور) وہ ایسی قوم کی کھیتی پر جا پڑے جو اپنی جانوں پر ظلم کرتی ہو اور وہ اسے تباہ کر دے، اور اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں،
3:118اے ایمان والو! تم غیروں کو (اپنا) راز دار نہ بناؤ وہ تمہاری نسبت فتنہ انگیزی میں (کبھی) کمی نہیں کریں گے، وہ تمہیں سخت تکلیف پہنچنے کی خواہش رکھتے ہیں، بغض تو ان کی زبانوں سے خود ظاہر ہو چکا ہے، اور جو (عداوت) ان کے سینوں نے چھپا رکھی ہے وہ اس سے (بھی) بڑھ کر ہے۔ ہم نے تمہارے لئے نشانیاں واضح کر دی ہیں اگر تمہیں عقل ہو ،
3:119آگاہ ہو جاؤ! تم وہ لوگ ہو کہ ان سے محبت رکھتے ہو اور وہ تمہیں پسند (تک) نہیں کرتے حالانکہ تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو، اور جب وہ تم سے ملتے ہیں (تو) کہتے ہیں: ہم ایمان لے آئے ہیں، اور جب اکیلے ہوتے ہیں تو تم پر غصے سے انگلیاں چباتے ہیں، فرما دیں: مر جاؤ اپنی گھٹن میں، بیشک اللہ دلوں کی (پوشیدہ) باتوں کو خوب جاننے والا ہے،
3:120اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں بری لگتی ہے اور تمہیں کوئی رنج پہنچے تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں، اور اگر تم صبر کرتے رہو اور تقوٰی اختیار کئے رکھو تو ان کا فریب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، جو کچھ وہ کر رہے ہیں بیشک اللہ اس پر احاطہ فرمائے ہوئے ہے،
3:121اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب آپ صبح سویرے اپنے درِ دولت سے روانہ ہو کر مسلمانوں کو (غزوۂ احد کے موقع پر) جنگ کے لئے مورچوں پر ٹھہرا رہے تھے، اور اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے،
3:122جب تم میں سے (بنو سلمہ خزرج اور بنوحارثہ اوس) دو گروہوں کا ارادہ ہوا کہ بزدلی کر جائیں، حالانکہ اللہ ان دونوں کا مدد گار تھا، اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے،
3:123اور اللہ نے بدر میں تمہاری مدد فرمائی حالانکہ تم (اس وقت) بالکل بے سرو سامان تھے پس اللہ سے ڈرا کرو تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ،
3:124جب آپ مسلمانوں سے فرما رہے تھے کہ کیا تمہارے لئے یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار اتارے ہوئے فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد فرمائے،
3:125ہاں اگر تم صبر کرتے رہو اور پرہیزگاری قائم رکھو اور وہ (کفّار) تم پر اسی وقت (پورے) جوش سے حملہ آور ہو جائیں تو تمہارا رب پانچ ہزار نشان والے فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد فرمائے گا،
3:126اور اللہ نے اس (مدد) کو محض تمہارے لئے خوشخبری بنایا اور اس لئے کہ اس سے تمہارے دل مطمئن ہو جائیں، اور مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے جو بڑا غالب حکمت والا ہے،
3:127(مزید) اس لئے کہ (اللہ) کافروں کے ایک گروہ کو ہلاک کر دے یا انہیں ذلیل کر دے سو وہ ناکام ہو کر واپس پلٹ جائیں،
3:128(اے حبیب! اب) آپ کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں چاہے تو اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں،
3:129اور اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے۔ وہ جسے چاہے بخش دے جسے چاہے عذاب دے، اور اللہ نہایت بخشنے والا مہربان ہے،
3:130اے ایمان والو! دو گنا اور چوگنا کر کے سود مت کھایا کرو، اور اللہ سے ڈرا کرو تاکہ تم فلاح پاؤ،
3:131اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے،
3:132اور اللہ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرمانبرداری کرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے،
3:133اور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف تیزی سے بڑھو جس کی وسعت میں سب آسمان اور زمین آجاتے ہیں، جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے،
3:134یہ وہ لوگ ہیں جو فراخی اور تنگی (دونوں حالتوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے،
3:135اور (یہ) ایسے لوگ ہیں کہ جب کوئی برائی کر بیٹھتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ کا ذکر کرتے ہیں پھر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور اللہ کے سوا گناہوں کی بخشش کون کرتا ہے، اور پھر جو گناہ وہ کر بیٹھے تھے ان پر جان بوجھ کر اصرار بھی نہیں کرتے،
3:136یہ وہ لوگ ہیں جن کی جزا ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اور (نیک) عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا صلہ ہے،
3:137تم سے پہلے (گذشتہ امتوں کے لئے قانونِ قدرت کے) بہت سے ضابطے گزر چکے ہیں سو تم زمین میں چلا پھرا کرو اور دیکھا کرو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا،
3:138یہ قرآن لوگوں کے لئے واضح بیان ہے اور ہدایت ہے اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہے،
3:139اور تم ہمت نہ ہارو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب آؤ گے اگر تم (کامل) ایمان رکھتے ہو،
3:140اگر تمہیں (اب) کوئی زخم لگا ہے تو (یاد رکھو کہ) ان لوگوں کو بھی اسی طرح کا زخم لگ چکا ہے، اور یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں، اور یہ (گردشِ ا یّام) اس لئے ہے کہ اللہ اہلِ ایمان کی پہچان کرا دے اور تم میں سے بعض کو شہادت کا رتبہ عطا کرے، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا،
3:141اور یہ اس لئے (بھی) ہے کہ اللہ ایمان والوں کو (مزید) نکھار دے (یعنی پاک و صاف کر دے) اور کافروں کو مٹا دے،
3:142کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ تم (یونہی) جنت میں چلے جاؤ گے؟ حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو پرکھا ہی نہیں ہے اور نہ ہی صبر کرنے والوں کو جانچا ہے،
3:143اور تم تو اس کا سامنا کرنے سے پہلے (شہادت کی) موت کی تمنا کیا کرتے تھے، سو اب تم نے اسے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیا ہے،
3:144اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تو) رسول ہی ہیں (نہ کہ خدا)، آپ سے پہلے بھی کئی پیغمبر (مصائب اور تکلیفیں جھیلتے ہوئے اس دنیا سے) گزر چکے ہیں، پھر اگر وہ وفات فرما جائیں یا شہید کر دیئے جائیں تو کیا تم اپنے (پچھلے مذہب کی طرف) الٹے پاؤں پھر جاؤ گے (یعنی کیا ان کی وفات یا شہادت کو معاذ اللہ دینِ اسلام کے حق نہ ہونے پر یا ان کے سچے رسول نہ ہونے پر محمول کرو گے)، اور جو کوئی اپنے الٹے پاؤں پھرے گا تو وہ اللہ کا ہرگز کچھ نہیں بگاڑے گا، اور اللہ عنقریب (مصائب پر ثابت قدم رہ کر) شکر کرنے والوں کو جزا عطا فرمائے گا،
3:145اور کوئی شخص اللہ کے حکم کے بغیر نہیں مر سکتا (اس کا) وقت لکھا ہوا ہے، اور جو شخص دنیا کا انعام چاہتا ہے ہم اسے اس میں سے دے دیتے ہیں، اور جو آخرت کا انعام چاہتا ہے ہم اسے اس میں سے دے دیتے ہیں، اور ہم عنقریب شکر گزاروں کو (خوب) صلہ دیں گے،
3:146اور کتنے ہی انبیاءایسے ہوئے جنہوں نے جہاد کیا ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے (اولیاء) بھی شریک ہوئے، تو نہ انہوں نے ان مصیبتوں کے باعث جو انہیں اللہ کی راہ میں پہنچیں ہمت ہاری اور نہ وہ کمزور پڑے اور نہ وہ جھکے، اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے،
3:147اور ان کا کہنا کچھ نہ تھا سوائے اس التجا کے کہ اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے کام میں ہم سے ہونے والی زیادتیوں سے درگزر فرما اور ہمیں (اپنی راہ میں) ثابت قدم رکھ اور ہمیں کافروں پر غلبہ عطا فرما،
3:148پس اللہ نے انہیں دنیا کا بھی انعام عطا فرمایا اور آخرت کے بھی عمدہ اجر سے نوازا، اور اللہ (ان) نیکو کاروں سے پیار کرتا ہے (جو صرف اسی کو چاہتے ہیں)،
3:149اے ایمان والو! اگر تم نے کافروں کا کہا مانا تو وہ تمہیں الٹے پاؤں (کفر کی جانب) پھیر دیں گے پھر تم نقصان اٹھاتے ہوئے پلٹو گے،
3:150بلکہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے اور وہ سب سے بہتر مدد فرمانے والا ہے،
3:151ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں (تمہارا) رعب ڈال دیں گے اس وجہ سے کہ انہوں نے اس چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرایا ہے جس کے لئے اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا (وہ) ٹھکانا بہت ہی برا ہے،
3:152اور بیشک اللہ نے تمہیں اپنا وعدہ سچ کر دکھایا جب تم اس کے حکم سے انہیں قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ تم نے بزدلی کی اور (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) حکم کے بارے میں جھگڑنے لگے اور تم نے اس کے بعد (ان کی) نافرمانی کی جب کہ اللہ نے تمہیں وہ (فتح) دکھا دی تھی جو تم چاہتے تھے، تم میں سے کوئی دنیا کا خواہش مند تھا اور تم میں سے کوئی آخرت کا طلب گار تھا، پھر اس نے تمہیں ان سے (مغلوب کر کے) پھیر دیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے، (بعد ازاں) اس نے تمہیں معاف کر دیا، اور اللہ اہلِ ایمان پر بڑے فضل والا ہے،
3:153جب تم (افراتفری کی حالت میں) بھاگے جا رہے تھے اور کسی کو مڑ کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس جماعت میں (کھڑے) جو تمہارے پیچھے (ثابت قدم) رہی تھی تمہیں پکار رہے تھے پھر اس نے تمہیں غم پر غم دیا (یہ نصیحت و تربیت تھی) تاکہ تم اس پر جو تمہارے ہاتھ سے جاتا رہا اور اس مصیبت پر جو تم پر آن پڑی رنج نہ کرو، اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
3:154پھر اس نے غم کے بعد تم پر (تسکین کے لئے) غنودگی کی صورت میں امان اتاری جو تم میں سے ایک جماعت پر چھا گئی اور ایک گروہ کو (جو منافقوں کا تھا) صرف اپنی جانوں کی فکر پڑی ہوئی تھی وہ اللہ کے ساتھ ناحق گمان کرتے تھے جو (محض) جاہلیت کے گمان تھے، وہ کہتے ہیں: کیا اس کام میں ہمارے لئے بھی کچھ (اختیار) ہے؟ فرما دیں کہ سب کام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے، وہ اپنے دلوں میں وہ باتیں چھپائے ہوئے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ کہتے ہیں کہ اگر اس کام میں کچھ ہمارا اختیار ہوتا تو ہم اس جگہ قتل نہ کئے جاتے۔ فرما دیں: اگر تم اپنے گھروں میں (بھی) ہوتے تب بھی جن کا مارا جانا لکھا جا چکا تھا وہ ضرور اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل کر آجاتے، اور یہ اس لئے (کیا گیا) ہے کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اللہ اسے آزمائے اور جو (وسوسے) تمہارے دلوں میں ہیں انہیں خوب صاف کر دے، اور اللہ سینوں کی بات خوب جانتا ہے،
3:155بیشک جو لوگ تم میں سے اس دن بھاگ کھڑے ہوئے تھے جب دونوں فوجیں آپس میں گتھم گتھا ہو گئی تھیں تو انہیں محض شیطان نے پھسلا دیا تھا، ان کے کسی عمل کے باعث جس کے وہ مرتکب ہوئے، بیشک اللہ نے انہیں معاف فرما دیا، یقینا اللہ بہت بخشنے والا بڑے حلم والا ہے،
3:156اے ایمان والو! تم ان کافروں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اپنے ان بھائیوں کے بارے میں یہ کہتے ہیں جو (کہیں) سفر پر گئے ہوں یا جہاد کر رہے ہوں (اور وہاں مر جائیں) کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل کئے جاتے، تاکہ اللہ اس (گمان) کو ان کے دلوں میں حسرت بنائے رکھے، اور اللہ ہی زندہ رکھتا اور مارتا ہے، اور اللہ تمہارے اعمال خوب دیکھ رہا ہے،
3:157اور اگر تم اللہ کی راہ میں قتل کر دئیے جاؤ یا تمہیں موت آجائے تو اللہ کی مغفرت اور رحمت اس (مال و متاع) سے بہت بہتر ہے جو تم جمع کرتے ہو،
3:158اور اگر تم مر جاؤ یا مارے جاؤ تو تم (سب) اللہ ہی کے حضور جمع کئے جاؤ گے،
3:159(اے حبیبِ والا صفات!) پس اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ آپ ان کے لئے نرم طبع ہیں، اور اگر آپ تُندخُو (اور) سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے چھٹ کر بھاگ جاتے، سو آپ ان سے درگزر فرمایا کریں اور ان کے لئے بخشش مانگا کریں اور (اہم) کاموں میں ان سے مشورہ کیا کریں، پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کیا کریں، بیشک اللہ توکّل والوں سے محبت کرتا ہے،
3:160اگر اللہ تمہاری مدد فرمائے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا، اور اگر وہ تمہیں بے سہارا چھوڑ دے تو پھر کون ایسا ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کر سکے، اور مؤمنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے،
3:161اور کسی نبی کی نسبت یہ گمان ہی ممکن نہیں کہ وہ کچھ چھپائے گا، اور جو کوئی (کسی کا حق) چھپاتا ہے تو قیامت کے دن اسے وہ لانا پڑے گا جو اس نے چھپایا تھا، پھر ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا،
3:162بھلا وہ شخص جو اللہ کی مرضی کے تابع ہو گیا اس شخص کی طرح کیسے ہو سکتا ہے جو اللہ کے غضب کا سزاوار ہوا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے،
3:163اللہ کے حضور ان کے مختلف درجات ہیں، اور اللہ ان کے اعمال کو خوب دیکھتا ہے،
3:164بیشک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے (عظمت والا) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے،
3:165کیا جب تمہیں ایک مصیبت آپہنچی حالانکہ تم اس سے دو چند (دشمن کو) پہنچا چکے تھے تو تم کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آپڑی؟ فرما دیں: یہ تمہاری اپنی ہی طرف سے ہے بیشک اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے،
3:166اور اُس دن جو تکلیف تمہیں پہنچی جب دونوں لشکر باہم مقابل ہو گئے تھے سو وہ اللہ کے حکم (ہی) سے تھے اور یہ اس لئے کہ اللہ ایمان والوں کی پہچان کرا دے،
3:167اور ایسے لوگوں کی بھی پہچان کرا دے جو منافق ہیں، اور جب ان سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا (دشمن کے حملے کا) دفاع کرو، تو کہنے لگے: اگر ہم جانتے کہ (واقعۃً کسی ڈھب کی) لڑائی ہوگی (یا ہم اسے اللہ کی راہ میں جنگ جانتے) تو ضرور تمہاری پیروی کرتے، اس دن وہ (ظاہری) ایمان کی نسبت کھلے کفر سے زیادہ قریب تھے، وہ اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں، اور اللہ (ان باتوں) کو خوب جانتا ہے جو وہ چھپا رہے ہیں،
3:168(یہ) وہی لوگ ہیں جنہوں نے باوجود اس کے کہ خود (گھروں میں) بیٹھے رہے اپنے بھائیوں کی نسبت کہا کہ اگر وہ ہمارا کہا مانتے تو نہ مارے جاتے، فرما دیں: تم اپنے آپ کو موت سے بچا لینا اگر تم سچے ہو،
3:169اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں انہیں ہرگز مردہ خیال (بھی) نہ کرنا، بلکہ وہ اپنے ربّ کے حضور زندہ ہیں انہیں (جنت کی نعمتوں کا) رزق دیا جاتا ہے،
3:170وہ (حیاتِ جاودانی کی) ان (نعمتوں) پر فرحاں و شاداں رہتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرما رکھی ہیں اور اپنے ان پچھلوں سے بھی جو (تاحال) ان سے نہیں مل سکے (انہیں ایمان اور طاعت کی راہ پر دیکھ کر) خوش ہوتے ہیں کہ ان پر بھی نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے،
3:171وہ اللہ کی (تجلیّاتِ قُرب کی) نعمت اور (لذّاتِ وصال کے) فضل سے مسرور رہتے ہیں اور اس پر (بھی) کہ اللہ ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتا،
3:172جن لوگوں نے زخم کھا چکنے کے بعد بھی اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر لبیک کہا، اُن میں جو صاحبانِ اِحسان ہیں اور پرہیزگار ہیں، ان کے لئے بڑا اَجر ہے،
3:173(یہ) وہ لوگ (ہیں) جن سے لوگوں نے کہا کہ مخالف لوگ تمہارے مقابلے کے لئے (بڑی کثرت سے) جمع ہو چکے ہیں سو ان سے ڈرو، تو (اس بات نے) ان کے ایمان کو اور بڑھا دیا اور وہ کہنے لگے: ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ کیا اچھا کارساز ہے،
3:174پھر وہ (مسلمان) اللہ کے انعام اور فضل کے ساتھ واپس پلٹے انہیں کوئی گزند نہ پہنچی اور انہوں نے رضائے الٰہی کی پیروی کی اور اللہ بڑے فضل والا ہے،
3:175بیشک یہ (مخبر) شیطان ہی ہے جو (تمہیں) اپنے دوستوں سے دھمکاتا ہے، پس ان سے مت ڈرا کرو اور مجھ ہی سے ڈرا کرو اگر تم مومن ہو،
3:176(اے غمگسارِ عالم!) جو لوگ کفر (کی مدد کرنے) میں بہت تیزی کرتے ہیں وہ آپ کو غمزدہ نہ کریں، وہ اللہ (کے دین) کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اللہ چاہتا ہے کہ ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے اور ان کے لئے زبردست عذاب ہے،
3:177بیشک جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر خرید لیا ہے وہ اللہ کا کچھ نقصان نہیں کر سکتے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے،
3:178اور کافر یہ گمان ہرگز نہ کریں کہ ہم جو انہیں مہلت دے رہے ہیں (یہ) ان کی جانوں کے لئے بہتر ہے، ہم تو (یہ) مہلت انہیں صرف اس لئے دے رہے ہیں کہ وہ گناہ میں اور بڑھ جائیں، اور ان کے لئے (بالآخر) ذلّت انگیز عذاب ہے،
3:179اور اللہ مسلمانوں کو ہرگز اس حال پر نہیں چھوڑے گا جس پر تم (اس وقت) ہو جب تک وہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کر دے، اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ (اے عامۃ الناس!) تمہیں غیب پر مطلع فرما دے لیکن اللہ اپنے رسولوں سے جسے چاہے (غیب کے علم کے لئے) چن لیتا ہے، سو تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ، اور اگر تم ایمان لے آؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے،
3:180اور جو لوگ اس (مال و دولت) میں سے دینے میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کیا ہے وہ ہرگز اس بخل کو اپنے حق میں بہتر خیال نہ کریں، بلکہ یہ ان کے حق میں برا ہے، عنقریب روزِ قیامت انہیں (گلے میں) اس مال کا طوق پہنایا جائے گا جس میں وہ بخل کرتے رہے ہوں گے، اور اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا وارث ہے (یعنی جیسے اب مالک ہے ایسے ہی تمہارے سب کے مر جانے کے بعد بھی وہی مالک رہے گا)، اور اللہ تمہارے سب کاموں سے آگاہ ہے،
3:181بیشک اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی جو کہتے ہیں کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی ہیں، اب ہم ان کی ساری باتیں اور ان کا انبیاءکو ناحق قتل کرنا (بھی) لکھ رکھیں گے، اور (روزِ قیامت) فرمائیں گے کہ (اب تم) جلا ڈالنے والے عذاب کا مزہ چکھو،
3:182یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو تمہارے ہاتھ خود آگے بھیج چکے ہیں اور بیشک اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے،
3:183جو لوگ (یعنی یہود حیلہ جوئی کے طور پر) یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں یہ حکم بھیجا تھا کہ ہم کسی پیغمبر پر ایمان نہ لائیں جب تک وہ (اپنی رسالت کے ثبوت میں) ایسی قربانی نہ لائے جسے آگ (آکر) کھا جائے، آپ (ان سے) فرما دیں: بیشک مجھ سے پہلے بہت سے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے اور اس نشانی کے ساتھ بھی (آئے) جو تم کہہ رہے ہو تو (اس کے باوجود) تم نے انہیں شہید کیوں کیا اگر تم (اتنے ہی) سچے ہو،
3:184پھر بھی اگر آپ کو جھٹلائیں تو (محبوب آپ رنجیدہ خاطر نہ ہوں) آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو جھٹلایا گیا جو واضح نشانیاں (یعنی معجزات) اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے،
3:185ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، اور تمہارے اجر پورے کے پورے تو قیامت کے دن ہی دئیے جائیں گے، پس جو کوئی دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ واقعۃً کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی دھوکے کے مال کے سوا کچھ بھی نہیں،
3:186(اے مسلمانو!) تمہیں ضرور بالضرور تمہارے اموال اور تمہاری جانوں میں آزمایا جائے گا، اور تمہیں بہر صورت ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں بہت سے اذیت ناک (طعنے) سننے ہوں گے، اور اگر تم صبر کرتے رہو اور تقوٰی اختیار کئے رکھو تو یہ بڑی ہمت کے کاموں سے ہے،
3:187اور جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ وعدہ لیا جنہیں کتاب عطا کی گئی تھی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے صاف صاف بیان کرو گے اور (جو کچھ اس میں بیان ہوا ہے) اسے نہیں چھپاؤ گے تو انہوں نے اس عہد کو پسِ پشت ڈال دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت وصول کر لی، سو یہ ان کی بہت ہی بُری خریداری ہے،
3:188آپ ایسے لوگوں کو ہرگز (نجات پانے والا) خیال نہ کریں جو اپنی کارستانیوں پر خوش ہو رہے ہیں اور ناکردہ اعمال پر بھی اپنی تعریف کے خواہش مند ہیں، (دوبارہ تاکید کے لئے فرمایا:) پس آپ انہیں ہرگز عذاب سے نجات پانے والا نہ سمجھیں، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے،
3:189اور سب آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے (سو تم اپنا دھیان اور توکّل اسی پر رکھو)،
3:190بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور شب و روز کی گردش میں عقلِ سلیم والوں کے لئے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں،
3:191یہ وہ لوگ ہیں جو (سراپا نیاز بن کر) کھڑے اور (سراپا ادب بن کر) بیٹھے اور (ہجر میں تڑپتے ہوئے) اپنی کروٹوں پر (بھی) اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق (میں کارفرما اس کی عظمت اور حُسن کے جلووں) میں فکر کرتے رہتے ہیں، (پھر اس کی معرفت سے لذت آشنا ہو کر پکار اٹھتے ہیں:) اے ہمارے رب! تو نے یہ (سب کچھ) بے حکمت اور بے تدبیر نہیں بنایا، تو (سب کوتاہیوں اور مجبوریوں سے) پاک ہے پس ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے،
3:192اے ہمارے رب! بیشک تو جسے دوزخ میں ڈال دے تو تُو نے اسے واقعۃً رسوا کر دیا، اور ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں ہے،
3:193اے ہمارے رب! (ہم تجھے بھولے ہوئے تھے) سو ہم نے ایک ندا دینے والے کو سنا جو ایمان کی ندا دے رہا تھا کہ (لوگو!) اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے۔ اے ہمارے رب! اب ہمارے گناہ بخش دے اور ہماری خطاؤں کو ہمارے (نوشتۂ اعمال) سے محو فرما دے اور ہمیں نیک لوگوں کی سنگت میں موت دے،
3:194اے ہمارے رب! اور ہمیں وہ سب کچھ عطا فرما جس کا تو نے ہم سے اپنے رسولوں کے ذریعے وعدہ فرمایا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر، بیشک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا،
3:195پھر ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی (اور فرمایا:) یقیناً میں تم میں سے کسی محنت والے کی مزدوری ضائع نہیں کرتا خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے میں سے (ہی) ہو، پس جن لوگوں نے (اللہ کے لئے) وطن چھوڑ دیئے اور (اسی کے باعث) اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور (میری خاطر) لڑے اور مارے گئے تو میں ضرور ان کے گناہ ان (کے نامۂ اعمال) سے مٹا دوں گا اور انہیں یقیناً ان جنتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ اللہ کے حضور سے اجر ہے، اور اللہ ہی کے پاس (اس سے بھی) بہتر اجر ہے،
3:196(اے اللہ کے بندے!) کافروں کا شہروں میں (عیش و عشرت کے ساتھ) گھومنا پھرنا تجھے کسی دھوکہ میں نہ ڈال دے،
3:197یہ تھوڑی سی (چند دنوں کی) متاع ہے، پھر ان کا ٹھکانا دوزخ ہوگا، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے،
3:198لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے بہشتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ کے ہاں سے (ان کی) مہمانی ہے اور (پھر اس کا حریمِ قُرب، جلوۂ حُسن اور نعمتِ وصال، الغرض) جو کچھ بھی اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لئے بہت ہی اچھا ہے،
3:199اور بیشک کچھ اہلِ کتاب ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کتاب پر بھی (ایمان لاتے ہیں) جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور جو ان کی طرف نازل کی گئی اور ان کے دل اللہ کے حضور جھکے رہتے ہیں اور اللہ کی آیتوں کے عوض قلیل دام وصول نہیں کرتے، یہ وہ لوگ ہیں جن کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، بیشک اللہ حساب میں جلدی فرمانے والا ہے،
3:200اے ایمان والو! صبر کرو اور ثابت قدمی میں (دشمن سے بھی) زیادہ محنت کرو اور (جہاد کے لئے) خوب مستعد رہو، اور (ہمیشہ) اللہ کا تقوٰی قائم رکھو تاکہ تم کامیاب ہو سکو،



Share this Surah Translation on Facebook...