Quantcast
Ads by Muslim Ad Network









al-`Ankabut Farsi:: Ghodratollah Bakhtiari Nejad 

Ayat
29:1الم
29:2کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ کہیں ہم ایمان لائے، اور ان کی آزمائش نہ ہوگی (ف۲)
29:3اور بیشک ہم نے ان سے اگلوں کو جانچا (ف۳) تو ضرور اللہ سچوں کو دیکھے گا اور ضرور جھوٹوں کو دیکھے گا (ف۴)
29:4یا یہ سمجھے ہوئے ہیں وہ جو برے کام کرتے ہیں (ف۵) کہ ہم سے کہیں نکل جائیں گے (ف۶) کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں،
29:5جسے اللہ سے ملنے کی امید ہو (ف۷) تو بیشک اللہ کی میعاد ضرور آنے والی ہے (ف۸) اور وہی سنتا جانتا ہے (ف۹)
29:6اور جو اللہ کی راہ میں کوشش کرے (ف۱۰) تو اپنے ہی بھلے کو کوشش کرتا ہے (ف۱۱) بیشک اللہ بے پرواہ ہے سارے جہان سے (ف۱۲)
29:7اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ہم ضرور ان کی برائیاں اتار دیں گے (ف۱۳) اور ضرور انہیں اس کام پر بدلہ دیں گے جو ان کے سب کاموں میں اچھا تھا (ف۱۴)
29:8اور ہم نے آدمی کو تاکید کی اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کی (ف۱۵) اور اگر تو وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو تُو ان کا کہا نہ مان (ف۱۶) میری ہی طرف تمہارا پھرنا ہے تو میں بتادوں گا تمہیں جو تم کرتے تھے (ف۱۷)
29:9اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ضرور ہم انہیں نیکوں میں شامل کریں گے (ف۱۸)
29:10اور بعض آدمی کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب اللہ کی راہ میں انہیں کوئی تکلیف دی جاتی ہے (ف۱۹) تو لوگوں کے فتنہ کو اللہ کے عذاب کے برابر سمجھتے ہیں (ف۲۰) اور اگر تمہارے رب کے پاس سے مدد آئے (ف۲۱) تو ضرور کہیں گے ہم تو تمہارے ہی ساتھ تھے (ف۲۲) کیا اللہ خوب نہیں جانتا جو کچھ جہاں بھر کے دلوں میں ہے (ف۲۳)
29:11اور ضرور اللہ ظاہر کردے گا ایمان والوں کو (ف۲۴) اور ضرور ظاہر کردے گا منافقوں کو (ف۲۵)
29:12اور کافر مسلمانوں سے بولے ہماری راہ پر چلو اور ہم تمہارے گناہ اٹھالیں گے (ف۲۶) حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ نہ اٹھائیں گے، بیشک وہ جھوٹے ہیں،
29:13اور بیشک ضرور اپنے (ف۲۷) بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ (ف۲۸) اور ضرور قیامت کے دن پوچھے جائیں گے جو کچھ بہتان اٹھاتے تھے (ف۲۹)
29:14اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس سال کم ہزار برس رہا (ف۳۰) تو انہیں طوفان نے ا ٓ لیا اور وہ ظالم تھے (ف۳۱)
29:15تو ہم نے اسے (ف۳۲) اور کشتی والوں کو (ف۳۳) بچالیا اور اس کشتی کو سارے جہاں کے لیے نشانی کیا (ف۳۴)
29:16اور ابراہیم کو (ف۳۵) جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ کو پوجو اور اس سے ڈرو، اس میں تمہارا بھلا ہے اگر تم جانتے،
29:17تم تو اللہ کے سوا بتوں کو پوجتے ہو اور نرا جھوٹ گڑ ھتے ہو (ف۳۶) بے شک وه جنھیں تم اللہ کے سوا پو جتے ہو تمہاری روزی کے کچھ مالک نہیں تو اللہ کے پاس رزق ڈھونڈو (ف۳۷) اور اس کی بندگی کرو اور اس کا احسان مانو، تمہیں اسی کی طرف پھرنا ہے (ف۲۸)
29:18اور اگر تم جھٹلاؤ (ف۳۹) تو تم سے پہلے کتنے ہی گروہ جھٹلا چکے ہیں (ف۴۰) اور رسول کے ذمہ نہیں مگر صاف پہنچا دینا،
29:19اور کیا انہوں نے نہ دیکھا اللہ کیونکر خلق کی ابتداء فرماتا ہے (ف۴۱) پھر اسے دوبارہ بنائے گا (ف۴۲) بیشک یہ اللہ کو آسان ہے (ف۴۳)
29:20تم فرماؤ زمین میں سفر کرکے دیکھو (ف۴۴) اللہ کیونکر پہلے بناتا ہے (ف۴۵) پھر اللہ دوسری اٹھان اٹھاتا ہے (ف۴۶) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
29:21عذاب دیتا ہے جسے چاہے (ف۴۷) اور رحم فرماتا ہے جس پر چاہے (ف۴۸) اور تمہیں اسی کی طرف پھرنا ہے،
29:22اور نہ تم زمین میں (ف۴۹) قابو سے نکل سکو اور نہ آسمان میں(ف۵۰) اور تمہارے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی کام بنانے والا اور نہ مددگار،
29:23اور وہ جنہوں نے میری آیتوں اور میرے ملنے کو نہ مانا (ف۵۱) وہ ہیں جنہیں میری رحمت کی آس نہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (ف۵۲)
29:24تو اس کی قوم کو کچھ جواب بن نہ آیا مگر یہ بولے انہیں قتل کردو یا جلادو (ف۵۳) تو اللہ نے اسے (ف۵۴) آگ سے بچالیا (ف۵۵) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے (ف۵۶)
29:25اور ابراہیم نے (ف۵۷) فرمایا تم نے تو اللہ کے سوا یہ بت بنالیے ہیں جن سے تمہاری دوستی یہی دنیا کی زندگی تک ہے (ف۵۸) پھر قیامت کے دن تم میں ایک دوسرے کے ساتھ کفر کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت ڈالے گا (ف۵۹) اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے (ف۶۰) اور تمہارا کوئی مددگار نہیں (ف۶۱)
29:26تو لوط اس پر ایمان لایا (ف۶۲) اور ابراہیم نے کہا میں (ف۶۳) اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں (ف۶۴) بیشک وہی عزت و حکمت والا ہے،
29:27اور ہم نے اسے (ف۶۵) اسحاق اور یعقوب عطا فرمائے اور ہم نے اس کی اولاد میں نبوت (ف۶۶) اور کتاب رکھی (ف۶۷) اور ہم نے دنیا میں اس کا ثواب اسے عطا فرمایا (ف۶۸) اور بیشک آخرت میں وہ ہمارے قرب خاص کے سزاواروں میں ہے (ف۶۹)
29:28اور لوط کو نجات دی جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا تم بیشک بے حیائی کا کام کرتے ہو، کہ تم سے پہلے دنیا بھر میں کسی نے نہ کیا (ف۷۰)
29:29کیا تم مردوں سے بدفعلی کرتے ہو اور راہ مارتے ہو (ف۷۱) اور اپنی مجلس میں بری بات کرتے ہو (ف۷۲) تو اس کی قوم کا کچھ جواب نہ ہوا مگر یہ کہ بولے ہم پر اللہ کا عذاب لاؤ اگر تم سچے ہو (ف۷۳)
29:30عرض کی، اے میرے رب! میری مدد کر (ف۷۴) ان فسادی لوگوں پر (ف۷۵)
29:31اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس مژدہ لے کر آئے (ف۷۶) بولے ہم ضرور اس شہر والوں کو ہلاک کریں گے (ف۷۷) بیشک اس کے بسنے والے ستمگاروں ہیں،
29:32کہا (ف۷۸) اس میں تو لوط ہے (ف۷۹) فرشتے بولے ہمیں خوب معلوم ہے جو کوئی اس میں ہے، ضرور ہم اسے (ف۸۰) اور اس کے گھر والوں کو نجات دیں گے مگر اس کی عورت کو، وہ رہ جانے والوں میں ہے (ف۸۱)
29:33اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس (ف۸۲) آئے ان کا آنا اسے ناگوار ہوا اور ان کے سبب دل تنگ ہوا (ف۸۳) اور انہوں نے کہا نہ ڈریے (ف۸۴) اور نہ غم کیجئے (ف۸۵) بیشک ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو نجات دیں گے مگر آپ کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہے،
29:34بیشک ہم اس شہر والوں پر آسمان سے عذاب اتارنے والے ہیں بدلہ ان کی نافرمانیوں کا،
29:35اور بیشک ہم نے اس سے روشن نشانی باقی رکھی عقل والوں کے لیے (ف۸۶)
29:36مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو بھیجا تو اس نے فرمایا، اے میری قوم! اللہ کی بندگی کرو اور پچھلے دن کی امید رکھو (ف۸۷) اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو،
29:37تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں زلزلے نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے (ف۸۸)
29:38اور عاد اور ثمود کو ہلاک فرمایا اور تمہیں (ف۸۹) ان کی بستیاں معلوم ہوچکی ہیں (ف۹۰) اور شیطان نے ان کے کوتک (ف۹۱) ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے اور انہیں راہ سے روکا اور انہیں سوجھتا تھا (ف۹۲)
29:39اور قارون اور فرعون اور ہامان کو (ف۹۳) اور بیشک ان کے پاس موسیٰ روشن نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے زمین میں تکبر کیا اور وہ ہم سے نکل کر جانے والے نہ تھے (ف۹۴)
29:40تو ان میں ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ پر پکڑا تو ان میں کسی پر ہم نے پتھراؤ بھیجا (ف۹۵) اور ان میں کسی کو چنگھاڑ نے آلیا (ف۹۶) اور ان میں کسی کو زمین میں دھنسادیا (ف۹۷) اور ان میں کسی کو ڈبو دیا (ف۹۸) اور اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرے (ف۹۹) ہاں وہ خود ہی (ف۱۰۰) اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے،
29:41ان کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا اور مالک بنالیے ہیں (ف۱۰۱) مکڑی کی طرح ہے، اس نے جالے کا گھر بنایا (ف۱۰۲) اور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھر (ف۱۰۳) کیا اچھا ہوتا اگر جانتے (ف۱۰۴)
29:42اللہ جانتا ہے جس چیز کی اس کے سوا پوجا کرتے ہیں (ف۱۰۵) اور وہی عزت و حکمت والا ہے (ف۱۰۶)
29:43اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں، اور انہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے (ف۱۰۷)
29:44اللہ نے آسمان اور زمین حق بنائے، بیشک اس میں نشانی ہے (ف۱۰۸) مسلمانوں کے لیے،
29:45اے محبوب! پڑھو جو کتاب تمہاری طرف وحی کی گئی (ف۱۰۹) اور نماز قائم فرماؤ، بیشک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بری بات سے (ف۱۱۰) اور بیشک اللہ کا ذکر سب سے بڑا (ف۱۱۱) اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو،
29:46اور اے مسلمانو! کتابیوں سے نہ جھگڑو مگر بہتر طریقہ پر (ف۱۱۲) مگر وہ جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا (ف۱۱۳) اور کہو (ف۱۱۴) ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو تمہاری طرف اترا اور ہمارا تمہارا ایک معبود ہے اور ہم اس کے حضور گردن رکھتے ہیں (ف۱۱۵)
29:47اور اے محبوب! یونہی تمہاری طرف کتاب اتاری (ف۱۱۶) تو وہ جنہیں ہم نے کتا ب عطا فرمائی (ف۱۱۷) اس پر ایمان لاتے ہیں، اور کچھ ان میں سے ہیں (ف۱۱۸) جو اس پر ایمان لاتے ہیں، اور ہماری آیتوں سے منکر نہیں ہوتے مگر (ف۱۱۹)
29:48اور اس (ف۱۲۰) سے پہلے تم کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے یوں ہوتا (ف۱۲۱) تو باطل ضرور شک لاتے (ف۱۲۲)
29:49بلکہ وہ روشن آیتیں ہیں ان کے سینوں میں جن کو علم دیا گیا (ف۱۲۳) اور ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر ظالم (ف۱۲۴)
29:50اور بولے (ف۱۲۵) کیوں نہ اتریں کچھ نشانیاں ان پر ان کے رب کی طرف سے (ف۱۲۶) تم فرماؤ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں (ف۱۲۷) اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں (ف۱۲۸)
29:51اور کیا یہ انہیں بس نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب اتاری جو ان پر پڑھی جاتی ہے (ف۱۲۹) بیشک اس میں رحمت اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لیے،
29:52تم فرماؤ اللہ بس ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ (ف۱۳۰) جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ جو باطل پر یقین لائے اور اللہ کے منکر ہوئے وہی گھاٹے میں ہیں،
29:53اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں (ف۱۳۱) اور اگر ایک ٹھہرائی مدت نہ ہوتی (ف۱۳۲) تو ضرور ان پر عذاب آجاتا (ف۱۳۳) اور ضرور ان پر اچانک آئے گا جب وہ بے خبر ہوں گے،
29:54تم سے عذاب کی جلدی مچاتے ہیں، اور بیشک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو (ف۱۳۴)
29:55جس دن انہیں ڈھانپے گا عذاب ان کے اوپر اور ان کے پاؤں کے نیچے سے اور فرمائے گا چکھو اپنے کیے کا مزہ (ف۱۳۵)
29:56اے میرے بندو! جو ایمان لائے بیشک میری زمین وسیع ہے تو میری ہی بندگی کرو (ف۱۳۶)
29:57ہر جان کو موت کا مز ہ چکھنا ہے (ف۱۳۷) پھر ہماری ہی طرف پھروگے (ف۱۳۸)
29:58اور بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ضرور ہم انہیں جنت کے بالا خانوں پر جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ہمیشہ ان میں رہیں گے، کیا ہی اچھا اجر کام والوں کا (ف۱۳۹)
29:59وہ جنہوں نے صبر کیا (ف۱۴۰) اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں (ف۱۴۱)
29:60اور زمین پر کتنے ہی چلنے والے ہیں کہ اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے (ف۱۴۲) اللہ روزی دیتا ہے انہیں اور تمہیں (ف۱۴۳) اور وہی سنتا جانتا ہے (ف۱۴۴)
29:61اور اگر تم ان سے پوچھو (ف۱۴۵) کس نے بنائے آسمان اور زمین اور کام میں لگائے سورج اور چاند تو ضرور کہیں گے اللہ نے، تو کہاں اوندھے جاتے ہیں (ف۱۴۶)
29:62اللہ کشادہ کرتا ہے رزق اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
29:63اور جو تم ان سے پوچھو کس نے اتارا آسمان سے پانی تو اس کے سبب زمین زندہ کردی مَرے پیچھے ضرور کہیں گے اللہ نے (ف۱۴۷) تم فرماؤ سب خوبیاں اللہ کو، بلکہ ان میں اکثر بے عقل ہیں (ف۱۴۸)
29:64اور یہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود (ف۱۴۹) اور بیشک آخرت کا گھر ضرور وہی سچی زندگی ہے (ف۱۵۰) کیا اچھا تھا اگر جانتے (ف۱۵۱)
29:65پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں (ف۱۵۲) اللہ کو پکارتے ہیں ایک اسی عقیدہ لاکر (ف۱۵۳) پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے (ف۱۵۴) جبھی شرک کرنے لگتے ہیں (ف۱۵۵)
29:66کہ ناشکری کریں ہماری دی ہوئی نعمت کی (ف۱۵۶) اور برتیں۔ (ف۱۵۷) تو اب جانا چاہتے ہیں، (ف۱۵۸)
29:67اور کیا انہوں نے (ف۱۵۹) یہ نہ دیکھا کہ ہم نے (ف۱۶۰) حرمت والی زمین پناہ بنائی (ف۱۶۱) اور ان کے آس پاس والے لوگ اچک لیے جاتے ہیں (ف۱۶۲) تو کیا باطل پر یقین لاتے ہیں (ف۱۶۳) اور اللہ کی دی ہوئی نعمت سے (ف۱۶۴) ناشکری کرتے ہیں،
29:68اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۶۵) یا حق کو جھٹلائے (ف۱۶۶) جب وہ اس کے پاس آئے، کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں (ف۱۶۷)
29:69اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے (ف۱۶۸) اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے (ف۱۶۹)



Share this Surah Translation on Facebook...