Quantcast
Ads by Muslim Ad Network









al-Qasas Farsi:: Ghodratollah Bakhtiari Nejad 

Ayat
28:1طٰسم
28:2یہ آیتیں ہیں روشن کتاب (ف۲)
28:3ہم تم پر پڑھیں موسیٰ اور فرعون کی سچی خبر ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں،
28:4بیشک فرعون نے زمین میں غلبہ پایا تھا (ف۳) اور اس کے لوگوں کو اپنا تابع بنایا ان میں ایک گروہ کو (ف۴) کمزور دیکھتا ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا (ف۵) بیشک وہ فسادی تھا،
28:5اور ہم چاہتے تھے کہ ان کمزوریوں پر احسان فرمائیں اور ان کو پیشوا بنائیں (ف۶) اور ان کے ملک و مال کا انہیں کو وارث بنائیں (ف۷)
28:6اور انہیں (ف۸) زمین میں قبضہ دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی دکھادیں جس کا انہیں ان کی طرف سے خطرہ ہے (ف۹)
28:7اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو الہام فرمایا (ف۱۰) کہ اسے دودھ پلا (ف۱۱) پھر جب تجھے اس سے اندیشہ ہو (ف۱۲) تو اسے دریا میں ڈال دے اور نہ ڈر (ف۱۳) اور نہ غم کر (ف۱۴) بیشک ہم اسے تیری طرف پھیر لائیں اور اسے رسول بنائیں گے (ف۱۵)
28:8تو اسے اٹھالیا فرعون کے گھر والوں نے (ف۱۶) کہ وہ ان کا دشمن اور ان پر غم ہو (ف۱۷) بیشک فرعون اور ہامان (ف۱۸) اور ان کے لشکر خطا کار تھے (ف۱۹)
28:9اور فرعون کی بی بی نے کہا (ف۲۰) یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، شاید یہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں (ف۲۱) اور وہ بے خبر تھے (ف۲۲)
28:10اور صبح کو موسیٰ کی ماں کا دل بے صبر ہوگیا (ف۲۳) ضرو ر قریب تھا کہ وہ اس کا حال کھول دیتی (ف۲۴) اگر ہم نہ ڈھارس بندھاتے اس کے دل پر کہ اسے ہمارے وعدہ پر یقین رہے (ف۲۵)
28:11اور اس کی ماں نے اس کی بہن سے کہا (ف۲۶) اس کے پیچھے چلی جا تو وہ اسے دور سے دیکھتی رہی اور ان کو خبر نہ تھی (ف۲۷)
28:12اور ہم نے پہلے ہی سب دائیاں اس پر حرام کردی تھیں (ف۲۸) تو بولی کیا میں تمہیں بتادوں ایسے گھر والے کہ تمہارے اس بچہ کو پال دیں اور وہ اس کے خیر خواہ ہیں (ف۲۹)
28:13تو ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف پھیرا کہ ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور غم نہ کھائے اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۳۰)
28:14اور جب اپنی جوانی کو پہنچا اور پورے زور پر آیا (ف۳۱) ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا (ف۳۲) اور ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
28:15اور اس شہر میں داخل ہوا (ف۳۳) جس وقت شہر والے دوپہر کے خواب میں بے خبر تھے (ف۳۴) تو اس میں دو مرد لڑتے پائے، ایک موسیٰ، کے گروہ سے تھا (ف۳۵) اور دوسرا اس کے دشمنوں سے (ف۳۶) تو وہ جو اس کے گروہ سے تھا (ف۳۸) اس نے موسیٰ سے مدد مانگی، اس پر جو اس کے دشمنوں سے تھا، تو موسیٰ نے اس کے گھونسا مارا (ف۳۸) تو اس کا کام تما م کردیا (ف۳۹) کہا یہ کام شیطان کی طرف سے ہوا (ف۴۰) بیشک وہ دشمن ہے کھلا گمراہ کرنے والا،
28:16عرض کی، اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر زیادتی کی (ف۴۱) تو مجھے بخش دے تو رب نے اسے بخش دیا، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے،
28:17عرض کی اے میرے رب جیسا تو نے مجھ پر احسان کیا تو اب (ف۴۲) ہرگز میں مجرموں کا مددگار نہ ہوں گا،
28:18تو صبح کی، اس شہر میں ڈرتے ہوئے اس انتظار میں کہ کیا ہوتا ہے (ف۴۳) جبھی دیکھا کہ وہ جس نے کل ان سے مدد چاہی تھی فریاد کررہا ہے (ف۴۴) موسیٰ نے اس سے فرمایا بیشک تو کھلا گمراہ ہے (ف۴۵)
28:19تو جب موسیٰ نے چاہا کہ اس پر گرفت کرے جو ان دونوں کا دشمن ہے (ف۴۶) وہ بولا اے موسیٰ کیا تم مجھے ویسا ہی قتل کرنا چاہتے ہو جیسا تم نے کل ایک شخص کو قتل کردیا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ زمین میں سخت گیر بنو اور اصلاح کرنا نہیں چاہتے (ف۴۷)
28:20اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص (ف۴۸) دوڑ تا آیا، کہا اے موسیٰ! بیشک دربار والے (ف۴۹) آپ کے قتل کا مشورہ کررہے ہیں تو نکل جایے (ف۵۰) میں آپ کا خیر خواہ ہوں (ف۵۱)
28:21تو اس شہر سے نکلا ڈرتا ہوا اس انتظار میں کہ اب کیا ہوتا ہے عرض کی، اے میرے رب! مجھے ستمگاروں سے بچالے (ف۵۲)
28:22اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوا (ف۵۳) کہا قریب ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راہ بتائے (ف۵۴)
28:23اور جب مدین کے پانی پر آیا (ف۵۵) وہاں لوگوں کے ایک گروہ کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو پانی پلارہے ہیں، اور ان سے اس طرف (ف۵۶) دو عورتیں دیکھیں کہ اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں (ف۵۷) موسیٰ نے فرمایا تم دونوں کا کیا حال ہے (ف۵۸) وہ بولیں ہم پانی نہیں پلاتے جب تک سب چرواہے پلاکر پھیر نہ لے جائیں (ف۵۹) اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں (ف۶۰)
28:24تو موسیٰ نے ان دونوں کے جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سایہ کی طرف پھرا (ف۶۱) عرض کی اے میرے رب! میں اس کھانے کا جو تو میرے لیے اتارے محتاج ہوں (ف۶۲)
28:25تو ان دونوں میں سے ایک اس کے پاس آئی شرم سے چلتی ہوئی (ف۶۳) بولی میرا باپ تمہیں بلاتا ہے کہ تمہیں مزدوری دے اس کی جو تم نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے (ف۶۴) جب موسیٰ اس کے پاس آیا اور اسے باتیں کہہ سنائیں (ف۶۵) اس نے کہا ڈریے نہیں، آپ بچ گئے ظالموں سے (ف۶۶)
28:26ان میں کی ایک بولی (ف۶۷) اے میرے باپ! ان کو نوکر رکھ لو (ف۶۸) بیشک بہتر نوکر وہ جو طاقتور اور امانتدار ہو (ف۶۹)
28:27کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک تمہیں بیاہ دوں (ف۷۰) اس مہر پر کہ تم آٹھ برس میری ملازمت کرو (ف۷۱) پھر اگر پورے دس برس کرلو تو تمہاری طرف سے ہے (ف۷۲) اور میں تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا (ف۷۳) قریب ہے انشاء اللہ تم مجھے نیکوں میں پاؤ گے (ف۷۴)
28:28موسیٰ نے کہا یہ میرے اور آپ کے درمیان اقرار ہوچکا، میں ان دونوں میں جو میعاد پوری کردوں (ف۷۵) تو مجھ پر کوئی مطالبہ نہیں، اور ہمارے اس کہے پر اللہ کا ذمہ ہے (ف۷۶)
28:29پھر جب موسیٰ نے اپنی میعاد پوری کردی (ف۷۷) اور اپنی بی بی کو لے کر چلا (ف۷۸) طُور کی طرف سے ایک آگ دیکھی (ف۷۹) اپنی گھر والی سے کہا تم ٹھہرو مجھے طُور کی طرف سے ایک آگ نظر پڑی ہے شاید میں وہاں سے کچھ خبر لاؤ ں (ف۸۰) یا تمہارے لیے کوئی آ گ کی چنگاری لاؤں کہ تم تاپو،
28:30پھر جب آگ کے پاس حاضر ہوا ندا کی گئی میدان کے دہنے کنارے سے (ف۸۱) برکت والے مقام میں پیڑ سے (ف۸۲) کہ اے موسیٰ! بیشک میں ہی ہوں اللہ رب سارے جہان کا (ف۵۳)
28:31اور یہ کہ ڈال دے اپنا عصا (ف۸۴) پھر جب موسیٰ نے اسے دیکھا لہراتا ہوا گویا سانپ ہے پیٹھ پھیر کر چلا اور مڑ کر نہ دیکھا (ف۸۵) اے موسیٰ سامنے آ اور ڈر نہیں، بیشک تجھے امان ہے (ف۸۶)
28:32اپنا ہاتھ (ف۸۷) گریبان میں ڈال نکلے گا سفید چمکتا بے عیب (ف۸۸) اور اپنا ہاتھ سینے پر رکھ لے خوف دور کرنے کو (ف۸۹) تو یہ دو حُجتیں ہیں تیرے رب کی (ف۹۰) فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، بیشک وہ بے حکم لوگ ہیں،
28:33عرض کی اے میرے رب! میں نے ان میں ایک جان مار ڈالی ہے (ف۹۱) تو ڈرتا ہوں کہ مجھے قتل کردیں،
28:34اور میرا بھائی ہارون اس کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے تو اسے میری مدد کے لیے رسول بنا، کہ میری تصدیق کرے مجھے ڈر ہے کہ وہ (ف۹۲) مجھے جھٹلائیں گے،
28:35فرمایا، قریب ہے کہ ہم تیرے بازو کو تیرے بھائی سے قوت دیں گے اور تم دونوں کو غلبہ عطا فرمائیں گے تو وہ تم دونوں کا کچھ نقصان نہ کرسکیں گے، ہماری نشانیوں کے سبب تم دونوں اور جو تمہاری پیروی کریں گے غالب آؤ گے (ف۹۳)
28:36پھر جب موسیٰ ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں لایا بولے یہ تو نہیں مگر بناوٹ کا جادو (ف۹۴) اور ہم نے اپنے اگلے باپ داداؤں میں ایسا نہ سنا (ف۹۵)
28:37اور موسیٰ نے فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لایا (ف۹۶) اور جس کے لیے آخرت کا گھر ہوگا (ف۹۷) بیشک ظالم مراد کو نہیں پہنچتے (ف۹۸)
28:38اور فرعون بولا، اے درباریو! میں تمہارے لیے اپنے سوا کوئی خدا نہیں جانتا تو اے ہامان! میرے لیے گارا پکا کر (ف۹۹) ایک محل بنا (ف۱۰۰) کہ شاید میں موسیٰ کے خدا کو جھانک آؤں (ف۱۰۱) اور بیشک میرے گمان میں تو وہ (ف۱۰۲) جھوٹا ہے (ف۱۰۳)
28:39اور اس نے اور اس کے لشکریوں نے زمین میں بے جا بڑائی چاہی (ف۱۰۴) اور سمجھے کہ انہیں ہماری طرف پھرنا نہیں،
28:40تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا (ف۱۰۵) تو دیکھو کیسا انجام ہوا ستمگاروں کا،
28:41اور انہیں ہم نے (ف۱۰۶) دوزخیوں کا پیشوا بنایا کہ آگ کی طرف بلاتے ہیں (ف۱۰۷) اور قیامت کے دن ان کی مدد نہ ہوگی،
28:42اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگائی (ف۱۰۸) اور قیامت کے دن ان کا برا ہے،
28:43اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی (ف۱۰۹) بعد اس کے کہ اگلی سنگتیں (قومیں) (ف۱۱۰) ہلاک فرمادیں جس میں لوگوں کے دل کی آنکھیں کھولنے والی باتیں اور ہدایت اور رحمت تاکہ وہ نصیحت مانیں،
28:44اور تم (ف۱۱۱) طور کی جانت مغرب میں نہ تھے (ف۱۱۲) جبکہ ہم نے موسیٰ کو رسالت کا حکم بھیجا (ف۱۱۳) اور اس وقت تم حاضر نہ تھے،
28:45مگر ہوا یہ کہ ہم نے سنگتیں پیدا کیں (ف۱۱۴) کہ ان پر زمانہ دراز گزرا (ف۱۱۵) اور نہ تم اہلِ مدین میں مقیم تھے ان پر ہماری آیتیں پڑھتے ہوئے، ہاں ہم رسول بنانے والے ہوئے (ف۱۱۶)
28:46اور نہ تم طور کے کنارے تھے جب ہم نے ندا فرمائی (ف۱۱۷) ہاں تمہارے رب کی مہر ہے (کہ تمہیں غیب کے علم دیے) (ف۱۱۸) کہ تم ایسی قوم کو ڈر سناؤ جس کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا (ف۱۱۹) یہ امید کرتے ہوئے کہ ان کو نصیحت ہو،
28:47اور اگر نہ ہوتا کہ کبھی پہنچتی انہیں کوئی مصیبت (ف۱۲۰) اس کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۲۱) تو کہتے، اے ہمارے رب! تو نے کیوں نہ بھیجا ہماری طرف کوئی رسول کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان لاتے (ف۱۲۲)
28:48پھر جب ان کے پاس حق آیا (ف۱۲۳) ہماری طرف سے بولے (ف۱۲۴) انہیں کیوں نہ دیا گیا جو موسیٰ کو دیا گیا (ف۱۲۵) کیا اس کے منکر نہ ہوئے تھے جو پہلے موسیٰ کو دیا گیا (ف۱۲۶) بولے دو جادو ہیں ایک دوسرے کی پشتی (امداد) پر، اور بولے ہم ان دونوں کے منکر ہیں (ف۱۲۷)
28:49تم فرماؤ تو اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت کی ہو (ف۱۲۸) میں اس کی پیروی کروں گا اگر تم سچے ہو (ف۱۲۹)
28:50پھر اگر وہ یہ تمہارا فرمانا قبول نہ کریں (ف۱۳۰) تو جان لو کہ (ف۱۳۱) بس وہ اپنی خواہشو ں ہی کے پیچھے ہیں، اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اپنی خواہش کی پیروی کرے اللہ کی ہدایت سے جدا، بیشک اللہ ہدایت ہیں فرماتا ظالم لوگوں کو،
28:51اور بیشک ہم نے ان کے لیے بات مسلسل اتاری (ف۱۳۲) کہ وہ دھیان کریں،
28:52جن کو ہم نے اس سے پہلے (ف۱۳۳) کتاب دی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں،
28:53اور جب ان پر یہ آیتیں پڑھی جاتی ہیں کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، بیشک یہی حق ہے ہمارے رب کے پا س سے ہم اس سے پہلے ہی گردن رکھ چکے تھے (ف۱۳۴)
28:54ان کو ان کا اجر دوبالا دیا جائے گا (ف۱۳۵) بدلہ ان کے صبر کا (ف۱۳۶) اور وہ بھلائی سے برائی کو ٹالتے ہیں (ف۱۳۷) اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں (ف۱۳۸)
28:55اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں اس سے تغافل کرتے ہیں (ف۱۳۹) اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے عمل اور تمہارے لیے تمہارے عمل، بس تم پر سلام (ف۱۴۰) ہم جاہلوں کے غرضی (چاہنے والے) نہیں (ف۱۴۱)
28:56بیشک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کردو ہاں اللہ ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت والوں کو (ف۱۴۲)
28:57اور کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو لوگ ہمارے ملک سے ہمیں اچک لے جائیں گے (ف۱۴۳) کیا ہم نے انہیں جگہ نہ دی امان والی حرم میں (ف۱۴۴) جس کی طرف ہر چیز کے پھل لائے جاتے ہیں ہمارے پاس کی روزی لیکن ان میں اکثر کو علم نہیں (ف۱۴۵)
28:58اور کتنے شہر ہم نے ہلاک کردیے جو اپنے عیش پر اترا گئے تھے (ف۱۴۶) تو یہ ہیں ان کے مکان (ف۱۴۷) کہ ان کے بعد ان میں سکونت نہ ہوئی مگر کم (ف۱۴۸) اور ہمیں وارث ہیں (ف۱۴۹)
28:59اور تمہارا رب شہروں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک ان کے اصل مرجع میں رسول نہ بھیجے (ف۱۵۰) جو ان پر ہماری آیتیں پڑھے (ف۱۵۱) اور ہم شہروں کو ہلاک نہیں کرتے مگر جبکہ ان کے ساکن ستمگار ہوں (ف۱۵۲)
28:60اور جو کچھ چیز تمہیں دی گئی ہے اور دنیوی زندگی کا برتاوا اور اس کا سنگھارہے (ف۱۵۳) اور جواللہ کے پاس ہے (ف۱۵۴) اور وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا (ف۱۵۵) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۵۶)
28:61تو کیا وہ جسے ہم نے اچھا وعدہ دیا (ف۱۵۷) تو وہ اس سے ملے گا اس جیسا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کا برتاؤ برتنے دیا پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کرکے حاضر لایا جائے گا (ف۱۵۸)
28:62اور جس دن انہیں ندا کرے گا (ف۱۵۹) تو فرمائے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جنہیں تم (ف۱۶۰) گمان کرتے تھے،
28:63کہیں گے وہ جن پر بات ثابت ہوچکی (ف۱۶۱) اے ہمارے رب یہ ہیں وہ جنہیں ہم نے گمراہ کیا، ہم نے انہیں گمراہ کیا جیسے خود گمراہ ہوئے تھے (ف۱۶۲) ہم ان سے بیزار ہوکر تیری طرف رجوع لاتے ہیں وہ ہم کو نہ پوجتے تھے (ف۱۶۳)
28:64اور ان سے فرمایا جائے گا اپنے شریکوں کو پکارو (ف۱۶۴) تو وہ پکاریں گے تو وہ ان کی نہ سنیں گے اور دیکھیں گے عذاب، کیا اچھا ہوتا اگر وہ راہ پاتے (ف۱۶۵)
28:65اور جس دن انہیں ندا کرتے گا تو فرمائے گا (ف۱۶۶) تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا (ف۱۶۷)
28:66تو اس دن ان پر خبریں اندھی ہوجائیں گی (ف۱۶۸) تو وہ کچھ پوجھ گچھ نہ کریں گے (ف۱۶۹)
28:67تو وہ جس نے توبہ کی (ف۱۷۰) اور ایمان لایا (ف۱۷۱) اور اچھا کام کیا قریب ہے کہ وہ راہ یاب ہو،
28:68اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہے اور پسند فرماتا ہے (ف۱۷۲) ان کا (ف۱۷۳) کچھ اختیار نہیں، پاکی اور برتری ہے اللہ کو ان کے شرک سے،
28:69اور تمہارا رب جانتا ہے جو ان کے سینوں میں چھپا ہے (ف۱۷۴) اور جو ظاہر کرتے ہیں (ف۱۷۵)
28:70اور وہی ہے اللہ کہ کوئی خدا نہیں اس کے سوا اسی کی تعریف ہے دنیا (ف۱۷۶) اور آخرت میں اور اسی کا حکم ہے (ف۱۷۷) اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے،
28:71تم فرماؤ (ف۱۷۸) بھلا دیکھو تو اگر اللہ ہمیشہ تم پر قیامت تک رات رکھے (ف۱۷۹) تو اللہ کے سوا کون خدا ہے جو تمہیں روشنی لادے (ف۱۸۰) تو کیا تم سنتے نہیں (ف۱۸۱)
28:72تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر اللہ قیامت تک ہمیشہ دن رکھے (ف۱۸۲) تو اللہ کے سوا کون خدا ہے جو تمہیں رات لادے جس میں آرام کرو (ف۱۸۳) تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں (ف۱۸۴)
28:73اور اس نے اپنی مہر سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈو (ف۱۸۵) اور اس لیے کہ تم حق مانو (ف۱۸۶)
28:74اور جس دن انہیں ندا کرتے گا تو فرمائے گا، کہاں ہیں؟ میرے وہ شریک جو تم بکتے تھے،
28:75اور ہر گروہ میں سے ایک گواہ نکال کر (ف۱۸۷) فرمائیں گے اپنی دلیل لاؤ (ف۱۸۸) تو جان لیں گے کہ (ف۱۸۹) حق اللہ کا ہے اور ان سے کھوئی جائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے (ف۱۹۰)
28:76بیشک قارون موسیٰ کی قوم سے تھا (ف۱۹۱) پھر اس نے ان پر زیادتی کی اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیے جن کی کنجیاں ایک زور آور جماعت پر بھاری تھیں، جب اس سے اس کی قوم (ف۱۹۲) نے کہا اِترا نہیں (ف۱۹۳) بیشک اللہ اِترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا،
28:77اور جو مال تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر (ف۱۹۴) اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول (ف۱۹۵) اور احسان کر (ف۱۹۶) جیسا اللہ نے تجھ پر احسان کیا اور (ف۱۹۷) زمیں میں فساد نہ چاه بے شک اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا،
28:78بو لا یہ (ف۱۹۸) تو مجھے ایک علم سے ملا ہے جو میرے پاس ہے (ف۱۹۹) اور کیا اسے یہ نہیں معلوم کہ اللہ نے اس سے پہلے وہ سنگتیں (قومیں) ہلاک فرمادیں جن کی قوتیں اس سے سخت تھیں اور جمع اس سے زیادہ (ف۲۰۰) اور مجرموں سے ان کے گناہوں کی پوچھ نہیں (ف۲۰۱)
28:79تو اپنی قومی پر نکلا اپنی آرائش میں (ف۲۰۲) بولے وہ جو دنیا کی زندگی چاہتے ہیں کسی طرح ہم کو بھی ایسا ملتا جیسا قارون کو ملا بیشک اس کا بڑا نصیب ہے،
28:80اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا (ف۲۰۳) خرابی ہو تمہاری، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے (ف۲۰۴) اور یہ انہیں کو ملتا ہے جو صبر والے ہیں (ف۲۰۵)
28:81تو ہم نے اسے (ف۲۰۶) اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسایا تو اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ سے بچانے میں اس کی مدد کرتی (ف۲۰۷) اور نہ وہ بدلہ لے سکا (ف۲۰۸)
28:82اور کل جس نے اس کے مرتبہ کی آرزو کی تھی صبح (ف۲۰۹) کہنے لگے عجب بات ہے اللہ رزق وسیع کرتا ہے اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے (ف۲۱۰) اگر اللہ ہم پر احسان فرماتا تو ہمیں بھی دھنسادیتا، اے عجب، کافروں کا بھلا نہیں،
28:83یہ آخرت کا گھر (ف۲۱۱) ہم ان کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد، اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی (ف۲۱۲) ہے،
28:84جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر ہے (ف۲۱۳) اور جو بدی لائے بدکام والوں کو بدلہ نہ ملے گا مگر جتنا کیا تھا،
28:85بیشک جس نے تم پر قرآن فرض کیا (ف۲۱۴) وہ تمہیں پھیر لے جائے گا جہاں پھرنا چاہتے ہو (ف۲۱۵) تم فرماؤ، میرا رب خوب جانتا ہے اسے جو ہدایت لایا اور جو کھلی گمراہی میں ہے (ف۲۱۶)
28:86اور تم امید نہ رکھتے تھے کہ کتاب تم پر بھیجی جائے گی (ف۲۱۷) ہاں تمہارے رب نے رحمت فرمائی تو تم ہرگز کافروں کی پشتی (مدد) نہ کرنا (ف۲۱۸)
28:87اور ہرگز وہ تمہیں اللہ کی آیتوں سے نہ روکیں بعد اس کے کہ وہ تمہاری طرف اتاری گئیں (ف۲۱۹) اور اپنے رب کی طرف بلاؤ (ف۲۲۰) اور ہرگز شرک والوں میں سے نہ ہونا (ف۲۲۱)
28:88اور اللہ کے ساتھ دوسرے خدا کو نہ پوج اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہر چیز فانی ہے، سوا اس کی ذات کے، اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے،



Share this Surah Translation on Facebook...