Quantcast
Ads by Muslim Ad Network









ash-Shu`ara` Farsi:: Ghodratollah Bakhtiari Nejad 

Ayat
26:1طا، سین، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،
26:2یہ (حق کو) واضح کرنے والی کتاب کی آیتیں ہیں،
26:3(اے حبیبِ مکرّم!) شاید آپ (اس غم میں) اپنی جانِ (عزیز) ہی دے بیٹھیں گے کہ وہ ایمان نہیں لاتے،
26:4اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے (ایسی) نشانی اتار دیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی رہ جائیں،
26:5اور ان کے پاس (خدائے) رحمان کی جانب سے کوئی نئی نصیحت نہیں آتی مگر وہ اس سے رُوگرداں ہو جاتے ہیں،
26:6سو بیشک وہ (حق کو) جھٹلا چکے پس عنقریب انہیں اس امر کی خبریں پہنچ جائیں گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے،
26:7اور کیا انہوں نے زمین کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس میں کتنی ہی نفیس چیزیں اگائی ہیں،
26:8بیشک اس میں ضرور (قدرتِ الٰہیہ کی) نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں،
26:9اور یقیناً آپ کا رب ہی تو غالب، مہربان ہے،
26:10اور (وہ واقعہ یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے موسٰی (علیہ السلام) کو نِدا دی کہ تم ظالموں کی قوم کے پاس جاؤ،
26:11(یعنی) قومِ فرعون کے پاس، کیا وہ (اللہ سے) نہیں ڈرتے،
26:12موسٰی (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے رب! میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے،
26:13اور (ایسے ناسازگار ماحول میں) میرا سینہ تنگ ہوجاتا ہے اور میری زبان (روانی سے) نہیں چلتی سو ہارون (علیہ السلام) کی طرف (بھی جبرائیل علیہ السلام کو وحی کے ساتھ) بھیج دے (تاکہ وہ میرا معاون بن جائے)،
26:14اور ان کا میرے اوپر (قبطی کو مار ڈالنے کا) ایک الزام بھی ہے سو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر ڈالیں گے،
26:15ارشاد ہوا: ہرگز نہیں، پس تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ بیشک ہم تمہارے ساتھ (ہر بات) سننے والے ہیں،
26:16پس تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو: ہم سارے جہانوں کے پروردگار کے (بھیجے ہوئے) رسول ہیں،
26:17(ہمارا مدعا یہ ہے) کہ تو بنی اسرائیل کو (آزادی دے کر) ہمارے ساتھ بھیج دے،
26:18(فرعون نے) کہا: کیا ہم نے تمہیں اپنے یہاں بچپن کی حالت میں پالا نہیں تھا اور تم نے اپنی عمر کے کتنے ہی سال ہمارے اندر بسر کئے تھے،
26:19اور (پھر) تم نے اپنا وہ کام کر ڈالا جو تم نے کیا تھا (یعنی ایک قبطی کو قتل کر دیا) اور تم ناشکر گزاروں میں سے ہو (ہماری پرورش اور احسانات کو بھول گئے ہو)،
26:20(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: جب میں نے وہ کام کیا میں بے خبر تھا (کہ کیا ایک گھونسے سے اس کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے)،
26:21پھر میں (اس وقت) تمہارے (دائرہ اختیار) سے نکل گیا جب میں تمہارے (ارادوں) سے خوفزدہ ہوا پھر میرے رب نے مجھے حکمِ (نبوت) بخشا اور (بالآخر) مجھے رسولوں میں شامل فرما دیا،
26:22اور کیا وہ (کوئی) بھلائی ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتا رہا ہے (اس کا سبب بھی یہ تھا) کہ تو نے (میری پوری قوم) بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا،
26:23فرعون نے کہا: سارے جہانوں کا پروردگار کیا چیز ہے،
26:24(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: (وہ) جملہ آسمانوں کا اور زمین کا اور اُس (ساری کائنات) کا رب ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو،
26:25اس نے ان (لوگوں) سے کہا جو اس کے گرد (بیٹھے) تھے: کیا تم سن نہیں رہے ہو،
26:26(موسٰی علیہ السلام نے مزید) کہا کہ (وہی) تمہارا (بھی) رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا (بھی) رب ہے،
26:27(فرعون نے) کہا: بیشک تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے،
26:28(موسٰی علیہ السلام نے) کہا: (وہ) مشرق اور مغرب اور اس (ساری کائنات) کا رب ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم (کچھ) عقل رکھتے ہو،
26:29(فرعون نے) کہا: (اے موسٰی!) اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تم کو ضرور (گرفتار کر کے) قیدیوں میں شامل کر دوں گا،
26:30(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: اگرچہ میں تیرے پاس کوئی واضح چیز (بطور معجزہ بھی) لے آؤں،
26:31(فرعون نے) کہا: تم اسے لے آؤ اگر تم سچے ہو،
26:32پس (موسیٰ علیہ السلام نے) اپنا عصا (زمین پر) ڈال دیا وہ اسی وقت واضح (طور پر) اژدھا بن گیا،
26:33اور (موسٰی علیہ السلام نے) اپنا ہاتھ (بغل میں ڈال کر) باہر نکالا تو وہ اسی وقت دیکھنے والوں کے لئے (چمک دار) سفید ہوگیا،
26:34(فرعون نے) اپنے ارد گرد (بیٹھے ہوئے) سرداروں سے کہا: بلاشبہ یہ بڑا دانا جادوگر ہے،
26:35یہ چاہتا ہے کہ تمہیں اپنے جادو (کے زور) سے تمہارے ملک سے باہر نکال دے پس تم (اب اس کے بارے میں) کیا رائے دیتے ہو،
26:36وہ بولے کہ تو اسے اور اس کے بھائی (ہارون کے حکمِ سزا سنانے) کو مؤخر کر دے اور (تمام) شہروں میں (جادوگروں کو بلانے کے لئے) ہرکارے بھیج دے،
26:37وہ تیرے پاس ہر بڑے ماہرِ فن جادوگر کو لے آئیں،
26:38پس سارے جادوگر مقررہ دن کے معینہ وقت پر جمع کر لئے گئے،
26:39اور (فرعون کی طرف سے) لوگوں کو کہا گیا کہ تم (اس موقع پر) جمع ہونے والے ہو،
26:40تاکہ ہم جادوگروں (کے دین) کی پیروی کر سکیں اگر وہ (موسٰی اور ہارون پر) غالب آگئے،
26:41پھر جب وہ جادوگر آگئے (تو) انہوں نے فرعون سے کہا: کیا ہمارے لئے کوئی اُجرت (بھی مقرر) ہے اگر ہم (مقابلہ میں) غالب ہو جائیں،
26:42(فرعون نے) کہا: ہاں بیشک تم اسی وقت (اجرت والوں کی بجائے میرے) قربت والوں میں شامل ہو جاؤ گے (اور قربت کا درجہ اُجرت سے کہیں بلند ہے)،
26:43موسٰی (علیہ السلام) نے ان (جادوگروں سے) فرمایا: تم وہ (جادو کی) چیزیں ڈال دو جو تم ڈالنے والے ہو،
26:44تو انہوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے: فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب ہوں گے،
26:45پھر موسٰی (علیہ السلام) نے اپنا ڈنڈا ڈال دیا تو وہ (اژدھا بن کر) فوراً ان چیزوں کو نگلنے لگا جو انہوں نے فریب کاری سے (اپنی اصل حقیقت سے) پھیر رکھی تھیں،
26:46پس سارے جادوگر سجدہ کرتے ہوئے گر پڑے،
26:47وہ کہنے لگے: ہم سارے جہانوں کے پروردگار پر ایمان لے آئے،
26:48(جو) موسٰی اور ہارون (علیہما السلام) کا رب ہے،
26:49(فرعون نے) کہا: تم اس پر ایمان لے آئے ہو قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا، بیشک یہ (موسٰی علیہ السلام) ہی تمہارا بڑا (استاد) ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے، تم جلد ہی (اپنا انجام) معلوم کر لو گے، میں ضرور ہی تمہارے ہاتھ اور تمہارے پاؤں الٹی طرف سے کاٹ ڈالوں گا اور تم سب کو یقیناً سولی پر چڑھا دوں گا،
26:50انہوں نے کہا: (اس میں) کوئی نقصان نہیں، بیشک ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں،
26:51ہم قوی امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری خطائیں معاف فرما دے گا، اس وجہ سے کہ (اب) ہم ہی سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں،
26:52اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ تم میرے بندوں کو راتوں رات (یہاں سے) لے جاؤ بیشک تمہارا تعاقب کیا جائے گا،
26:53پھر فرعون نے شہروں میں ہرکارے بھیج دئیے،
26:54(اور کہا:) بیشک یہ (بنی اسرائیل) تھوڑی سی جماعت ہے،
26:55اور بلاشبہ وہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں،
26:56اور یقیناً ہم سب (بھی) مستعد اور چوکس ہیں،
26:57پس ہم نے ان (فرعونیوں) کو باغوں اور چشموں سے نکال باہر کیا،
26:58اور خزانوں اور نفیس قیام گاہوں سے (بھی نکال دیا)،
26:59(ہم نے) اسی طرح (کیا) اور ہم نے بنی اسرائیل کو ان (سب چیزوں) کا وارث بنا دیا،
26:60پھر سورج نکلتے وقت ان (فرعونیوں) نے ان کا تعاقب کیا،
26:61پھر جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں (تو) موسٰی (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا: (اب) ہم ضرور پکڑے گئے،
26:62(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: ہرگز نہیں، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ابھی مجھے راہِ (نجات) دکھا دے گا،
26:63پھر ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اپنا عصا دریا پر مارو، پس دریا (بارہ حصوں میں) پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا زبردست پہاڑ کی مانند ہو گیا،
26:64اور ہم نے دوسروں (یعنی فرعون اور اس کے ساتھیوں) کو اس جگہ کے قریب کر دیا،
26:65اور ہم نے موسٰی علیہ السلام کو (بھی) نجات بخشی اور ان سب لوگوں کو (بھی) جو ان کے ساتھ تھے،
26:66پھر ہم نے دوسروں (یعنی فرعونیوں) کو غرق کر دیا،
26:67بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ) کی بڑی نشانی ہے، اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے،
26:68اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہے،
26:69اور آپ ان پر ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ (بھی) پڑھ کر سنا دیں،
26:70جب انہوں نے اپنے باپ ٭ اور اپنی قوم سے فرمایا: تم کس چیز کو پوجتے ہو،٭ (یہ حقیقی باپ نہ تھا، چچا تھا۔ اسی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پرورش کی تھی جس کی وجہ سے اسے باپ کہا کرتے تھے۔ اس کا نام آزر ہے جبکہ آپ کے حقیقی والد کا نام تارخ ہے۔)
26:71انہوں نے کہا: ہم بتوں کی پرستش کرتے ہیں اور ہم انہی (کی عبادت و خدمت) کے لئے جمے رہنے والے ہیں،
26:72(ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: کیا وہ تمہیں سنتے ہیں جب تم (ان کو) پکارتے ہو،
26:73یا وہ تمہیں نفع پہنچاتے ہیں یا نقصان پہنچاتے ہیں،
26:74وہ بولے: (یہ تو معلوم نہیں) لیکن ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا تھا،
26:75(ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا: کیا تم نے (کبھی ان کی حقیقت میں) غور کیا ہے جن کی تم پرستش کرتے ہو،
26:76تم اور تمہارے اگلے آباء و اجداد (الغرض کسی نے بھی سوچا)،
26:77پس وہ (سب بُت) میرے دشمن ہیں سوائے تمام جہانوں کے رب کے (وہی میرا معبود ہے)،
26:78وہ جس نے مجھے پیدا کیا سو وہی مجھے ہدایت فرماتا ہے،
26:79اور وہی ہے جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے،
26:80اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے،
26:81اور وہی مجھے موت دے گا پھر وہی مجھے (دوبارہ) زندہ فرمائے گا،
26:82اور اسی سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ قیامت وہ میری خطائیں معاف فرما دے گا،
26:83اے میرے رب! مجھے علم و عمل میں کمال عطا فرما اور مجھے اپنے قربِ خاص کے سزاواروں میں شامل فرما لے،
26:84اور میرے لئے بعد میں آنے والوں میں (بھی) ذکرِ خیر اور قبولیت جاری فرما،
26:85اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا دے،
26:86اور میرے باپ کو بخش دے بیشک وہ گمراہوں میں سے تھا،
26:87اور مجھے (اُس دن) رسوا نہ کرنا جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے،
26:88جس دن نہ کوئی مال نفع دے گا اور نہ اولاد،
26:89مگر وہی شخص (نفع مند ہوگا) جو اللہ کی بارگاہ میں سلامتی والے بے عیب دل کے ساتھ حاضر ہوا،
26:90اور (اس دن) جنت پرہیزگاروں کے قریب کر دی جائے گے،
26:91اور دوزخ گمراہوں کے سامنے ظاہر کر دی جائے گی،
26:92اور ان سے کہا جائے گا: وہ (بت) کہاں ہیں جنہیں تم پوجتے تھے،
26:93اللہ کے سوا، کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا خود اپنی مدد کرسکتے ہیں؟ (کہ اپنے آپ کو دوزخ سے بچالیں)،
26:94سو وہ (بت بھی) اس (دوزخ) میں اوندھے منہ گرا دیئے جائیں گے اور گمراہ لوگ (بھی)،
26:95اور ابلیس کی ساری فوجیں (بھی واصل جہنم ہوں گی)،
26:96وہ (گمراہ لوگ) اس (دوزخ) میں باہم جھگڑا کرتے ہوئے کہیں گے،
26:97اللہ کی قسم! ہم کھلی گمراہی میں تھے،
26:98جب ہم تمہیں سب جہانوں کے رب کے برابر ٹھہراتے تھے،
26:99اور ہم کو (ان) مجرموں کے سوا کسی نے گمراہ نہیں کیا،
26:100سو (آج) نہ کوئی ہماری سفارش کرنے والا ہے،
26:101اور نہ کوئی گرم جوش دوست ہے،
26:102سو کاش ہمیں ایک بار (دنیا میں) پلٹنا (نصیب) ہو جاتا تو ہم مومن ہوجاتے،
26:103بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ کی) بڑی نشانی ہے، اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے،
26:104اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہے،
26:105نوح (علیہ السلام) کی قوم نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا،
26:106جب ان سے ان کے (قومی) بھائی نوح (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو،
26:107بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں،
26:108سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو،
26:109اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف سب جہانوں کے رب کے ذمہ ہے،
26:110پس تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرادری کرو،
26:111وہ بولے: کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں حالانکہ تمہاری پیروی (معاشرے کے) انتہائی نچلے اور حقیر (طبقات کے) لوگ کر رہے ہیں،
26:112(نوح علیہ السلام نے) فرمایا: میرے علم کو ان کے (پیشہ وارانہ) کاموں سے کیا سروکار،
26:113ان کا حساب تو صرف میرے رب ہی کے ذمہ ہے۔ کاش! تم سمجھتے (کہ حقیقی عزت و ذلت کیا ہے)،
26:114اور میں مومنوں کو دھتکارنے والا نہیں ہوں،
26:115میں تو فقط کھلا ڈر سنانے والا ہوں،
26:116وہ بولے: اے نوح! اگر تم (ان باتوں سے) باز نہ آئے تو تمہیں یقیناً سنگ سار کر دیا جائے گا،
26:117(نوح علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا،
26:118پس تو میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے اور مجھے اور ان مومنوں کو جو میرے ساتھ ہیں نجات دے دے،
26:119پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ بھری ہوئی کشتی میں (سوار) تھے نجات دے دی،
26:120پھر اس کے بعد ہم نے باقی ماندہ لوگوں کو غرق کر دیا،
26:121بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ کی) بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے،
26:122اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہے،
26:123(قومِ) عاد نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا،
26:124جب اُن سے اُن کے (قومی) بھائی ھود (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو،
26:125بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں،
26:126سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو،
26:127اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا ، میرا اجر تو فقط تمام جہانوں کے رب کے ذمہ ہے،
26:128کیا تم ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار تعمیر کرتے ہو (محض) تفاخر اور فضول مشغلوں کے لئے،
26:129اور تم (تالابوں والے) مضبوط محلات بناتے ہو اس امید پر کہ تم (دنیا میں) ہمیشہ رہو گے،
26:130اور جب تم کسی کی گرفت کرتے ہو تو سخت ظالم و جابر بن کر گرفت کرتے ہو،
26:131سو تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری اختیار کرو،
26:132اور اس (اللہ) سے ڈرو جس نے تمہاری ان چیزوں سے مدد کی جو تم جانتے ہو،
26:133اس نے تمہاری چوپایہ جانوروں اور اولاد سے مدد فرمائی،
26:134اور باغات اور چشموں سے (بھی)،
26:135بیشک میں تم پر ایک زبردست دن کے عذاب کا خوف رکھتا ہوں،
26:136وہ بولے: ہمارے حق میں برابر ہے خواہ تم نصیحت کرو یا نصیحت کرنے والوں میں نہ بنو (ہم نہیں مانیں گے)،
26:137یہ (اور) کچھ نہیں مگر صرف پہلے لوگوں کی عادات (و اطوار) ہیں (جنہیں ہم چھوڑ نہیں سکتے)،
26:138اور ہم پر عذاب نہیں کیا جائے گا،
26:139سو انہوں نے اس کو (یعنی ھود علیہ السلام کو) جھٹلا دیا پس ہم نے انہیں ہلاک کر ڈالا، بیشک اس (قصہ) میں (قدرتِ الٰہیہ کی) بڑی نشانی ہے، اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے،
26:140اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہے،
26:141(قومِ) ثمود نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا،
26:142جب ان سے ان کے (قومی) بھائی صالح (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو،
26:143بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں،
26:144پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو،
26:145اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کچھ معاوضہ طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف سارے جہانوں کے پروردگار کے ذمہ ہے،
26:146کیا تم ان (نعمتوں) میں جو یہاں (تمہیں میسر) ہیں (ہمیشہ کے لئے) امن و اطمینان سے چھوڑ دیئے جاؤ گے،
26:147(یعنی یہاں کے) باغوں اور چشموں میں،
26:148اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کے خوشے نرم و نازک ہوتے ہیں،
26:149اور تم (سنگ تراشی کی) مہارت کے ساتھ پہاڑوں میں تراش (تراش) کر مکانات بناتے ہو،
26:150پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو،
26:151اور حد سے تجاوز کرنے والوں کا کہنا نہ مانو،
26:152جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور (معاشرہ کی) اصلاح نہیں کرتے،
26:153وہ بولے کہ تم تو فقط جادو زدہ لوگوں میں سے ہو،
26:154تم تو محض ہمارے جیسے بشر ہو، پس تم کوئی نشانی لے آؤ اگر تم سچے ہو،
26:155(صالح علیہ السلام نے) فرمایا: (وہ نشانی) یہ اونٹنی ہے پانی کا ایک وقت اس کے لئے (مقرر) ہے اور ایک مقررہ دن تمہارے پانی کی باری ہے،
26:156اور اِسے برائی (کے ارادہ) سے ہاتھ مت لگانا ورنہ بڑے (سخت) دن کا عذاب تمہیں آپکڑے گا،
26:157پھر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں (سو اسے ہلاک کر دیا) پھر وہ (اپنے کئے پر) پشیمان ہو گئے،
26:158سو انہیں عذاب نے آپکڑا، بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے، اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے،
26:159اور بیشک آپ کا رب ہی بڑا غالب رحمت والا ہے،
26:160قومِ لوط نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا،
26:161جب ان سے ان کے (قومی) بھائی لوط (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو،
26:162بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں،
26:163پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت اختیار کرو،
26:164اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف تمام جہانوں کے رب کے ذمہ ہے،
26:165کیا تم سارے جہان والوں میں سے صرف مَردوں ہی کے پاس (اپنی شہوانی خواہشات پوری کرنے کے لئے) آتے ہو،
26:166اور اپنی بیویوں کو چھوڑ دیتے ہو جو تمہارے رب نے تمہارے لئے پیدا کی ہیں، بلکہ تم (سرکشی میں) حد سے نکل جانے والے لوگ ہو،
26:167وہ بولے: اے لوط! اگر تم (ان باتوں سے) باز نہ آئے تو تم ضرور شہر بدر کئے جانے والوں میں سے ہو جاؤ گے،
26:168(لوط علیہ السلام نے) فرمایا: بیشک میں تمہارے عمل سے بیزار ہونے والوں میں سے ہوں،
26:169اے رب! تو مجھے اور میرے گھر والوں کو اس (کام کے وبال) سے نجات عطا فرما جو یہ کر رہے ہیں،
26:170پس ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات عطا فرما دی،
26:171سوائے ایک بوڑھی عورت کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی،
26:172پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا،
26:173اور ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش برسائی سو ڈرائے ہوئے لوگوں کی بارش کتنی تباہ کن تھی،
26:174بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے،
26:175اور بیشک آپ کا رب ہی بڑا غالب رحمت والا ہے،
26:176باشندگانِ ایکہ (یعنی جنگل کے رہنے والوں) نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا،
26:177جب ان سے شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا: کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو،
26:178بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول (بن کر آیا) ہوں،
26:179پس تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری اختیار کرو،
26:180اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف تمام جہانوں کے رب کے ذمہ ہے،
26:181تم پیمانہ پورا بھرا کرو اور (لوگوں کے حقوق کو) نقصان پہنچانے والے نہ بنو،
26:182اور سیدھی ترازو سے تولا کرو،
26:183اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم (تول کے ساتھ) مت دیا کرو اور ملک میں (ایسی اخلاقی، مالی اور سماجی خیانتوں کے ذریعے) فساد انگیزی مت کرتے پھرو،
26:184اور اس (اللہ) سے ڈرو جس نے تم کو اور پہلی امتوں کو پیدا فرمایا،
26:185وہ کہنے لگے: (اے شعیب!) تم تو محض جادو زدہ لوگوں میں سے ہو،
26:186اور تم فقط ہمارے جیسے بشر ہی تو ہو اور ہم تمہیں یقیناً جھوٹے لوگوں میں سے خیال کرتے ہیں،
26:187پس تم ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو اگر تم سچے ہو،
26:188(شعیب علیہ السلام نے) فرمایا: میرا رب ان (کارستانیوں) کو خوب جاننے والا ہے جو تم انجام دے رہے ہو،
26:189سو انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا پس انہیں سائبان کے دن کے عذاب نے آپکڑا، بیشک وہ زبردست دن کا عذاب تھا،
26:190بیشک اس (واقعہ) میں بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مومن نہ تھے۔،
26:191اور بیشک آپ کا رب ہی بڑا غالب رحمت والا ہے،
26:192اور بیشک یہ (قرآن) سارے جہانوں کے رب کا نازل کردہ ہے،
26:193اسے روح الامین (جبرائیل علیہ السلام) لے کر اترا ہے،
26:194آپ کے قلبِ (انور) پر تاکہ آپ (نافرمانوں کو) ڈر سنانے والوں میں سے ہو جائیں،
26:195(اس کا نزول) فصیح عربی زبان میں (ہوا) ہے،
26:196اور بیشک یہ پہلی امتوں کے صحیفوں میں (بھی مذکور) ہے،
26:197اور کیا ان کے لئے (صداقتِ قرآن اور صداقتِ نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) یہ دلیل (کافی) نہیں ہے کہ اسے بنی اسرائیل کے علماء (بھی) جانتے ہیں،
26:198اور اگر ہم اسے غیر عربی لوگوں (یعنی عجمیوں) میں سے کسی پر نازل کرتے،
26:199سو وہ اس کو ان لوگوں پر پڑھتا تو (بھی) یہ لوگ اس پر ایمان لانے والے نہ ہوتے،
26:200اس طرح ہم نے اس (کے انکار) کو مجرموں کے دلوں میں پختگی سے داخل کر دیا ہے،
26:201وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھ لیں،
26:202پس وہ (عذاب) انہیں اچانک آپہنچے گا اور انہیں شعور (بھی) نہ ہوگا،
26:203تب وہ کہیں گے: کیا ہمیں مہلت دی جائے گی،
26:204کیا یہ ہمارے عذاب میں جلدی کے طلب گار ہیں،
26:205بھلا بتائیے اگر ہم انہیں برسوں فائدہ پہنچاتے رہیں،
26:206پھر ان کے پاس وہ (عذاب) آپہنچے جس کا ان سے وعدہ کیا جار ہا ہے،
26:207(تو) وہ چیزیں (ان سے عذاب کو دفع کرنے میں) کیا کام آئیں گی جن سے وہ فائدہ اٹھاتے رہے تھے،
26:208اور ہم نے سوائے ان (بستیوں) کے جن کے لئے ڈرانے والے (آچکے) تھے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا،
26:209(اور یہ بھی) نصیحت کے لئے اور ہم ظالم نہ تھے،
26:210اور شیطان اس (قرآن) کو لے کرنہیں اترے،
26:211نہ (یہ) ان کے لئے سزاوار ہے اور نہ وہ (اس کی) طاقت رکھتے ہیں،
26:212بیشک وہ (اس کلام کے) سننے سے روک دیئے گئے ہیں،
26:213پس (اے بندے!) تو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پوجا کر ورنہ تو عذاب یافتہ لوگوں میں سے ہو جائے گا،
26:214اور (اے حبیبِ مکرّم!) آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو (ہمارے عذاب سے) ڈرائیے،
26:215اور آپ اپنا بازوئے (رحمت و شفقت) ان مومنوں کے لئے بچھا دیجئے جنہوں نے آپ کی پیروی اختیار کر لی ہے،
26:216پھر اگر وہ آپ کی نافرمانی کریں تو آپ فرما دیجئے کہ میں ان اعمالِ (بد) سے بیزار ہوں جو تم انجام دے رہے ہو،
26:217اور بڑے غالب مہربان (رب) پر بھروسہ رکھیے،
26:218جو آپ کو (رات کی تنہائیوں میں بھی) دیکھتا ہے جب آپ (نمازِ تہجد کے لئے) قیام کرتے ہیں،
26:219اور سجدہ گزاروں میں (بھی) آپ کا پلٹنا دیکھتا (رہتا) ہے،
26:220بیشک وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے،
26:221کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں،
26:222وہ ہر جھوٹے (بہتان طراز) گناہگار پر اترا کرتے ہیں،
26:223جو سنی سنائی باتیں (ان کے کانوں میں) ڈال دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں،
26:224اور شاعروں کی پیروی بہکے ہوئے لوگ ہی کرتے ہیں،
26:225کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ (شعراء) ہر وادئ (خیال) میں (یونہی) سرگرداں پھرتے رہتے ہیں (انہیں حق میں سچی دلچسپی اور سنجیدگی نہیں ہوتی بلکہ فقط لفظی و فکری جولانیوں میں مست اور خوش رہتے ہیں)،
26:226اور یہ کہ وہ (ایسی باتیں) کہتے ہیں جنہیں (خود) کرتے نہیں ہیں،
26:227سوائے ان (شعراء) کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہے (یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدح خواں بن گئے) اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد (ظالموں سے بزبانِ شعر) انتقام لیا (اور اپنے کلام کے ذریعے اسلام اور مظلوموں کا دفاع کیا بلکہ ان کاجوش بڑھایا تو یہ شاعری مذموم نہیں)، اور وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا عنقریب جان لیں گے کہ وہ (مرنے کے بعد) کونسی پلٹنے کی جگہ پلٹ کر جاتے ہیں،



Share this Surah Translation on Facebook...