Quantcast
Ads by Muslim Ad Network









al-Hijr Farsi:: Ghodratollah Bakhtiari Nejad 

Ayat
15:1الف، لام، را (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، یہ (برگزیدہ) کتاب اور روشن قرآن کی آیتیں ہیں،
15:2کفار (آخرت میں مومنوں پر اللہ کی رحمت کے مناظر دیکھ کر) بار بار آرزو کریں گے کہ کاش! وہ مسلمان ہوتے،
15:3آپ (غمگین نہ ہوں) انہیں چھوڑ دیجئے وہ کھاتے (پیتے) رہیں اور عیش کرتے رہیں اور (ان کی) جھوٹی امیدیں انہیں (آخرت سے) غافل رکھیں پھر وہ عنقریب (اپنا انجام) جان لیں گے،
15:4اور ہم نے کوئی بھی بستی ہلاک نہیں کی مگر یہ کہ اُس کے لئے ایک معلوم نوشتۂ (قانون) تھا (جس کی انہوں نے خلاف ورزی کی اور اپنے انجام کو جا پہنچے)،
15:5کوئی بھی قوم (قانونِ عروج و زوال کی) اپنی مقررہ مدت سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے،
15:6اور (کفار گستاخی کرتے ہوئے) کہتے ہیں: اے وہ شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے! بیشک تم دیوانے ہو،
15:7تم ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتے اگر تم سچے ہو،
15:8ہم فرشتوں کو نہیں اتارا کرتے مگر (فیصلۂ) حق کے ساتھ (یعنی جب عذاب کی گھڑی آپہنچے تو اس کے نفاذ کے لئے اتارتے ہیں) اور اس وقت انہیں مہلت نہیں دی جاتی،
15:9بیشک یہ ذکرِ عظیم (قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے،
15:10اور بیشک ہم نے آپ سے قبل پہلی امتوں میں بھی رسول بھیجے تھے،
15:11اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا تھا مگر یہ کہ وہ اس کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے،
15:12اسی طرح ہم اس (تمسخر اور استہزاء) کو مجرموں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں،
15:13یہ لوگ اِس (قرآن) پر ایمان نہیں لائیں گے اور بیشک پہلوں کی (یہی) روش گزر چکی ہے،
15:14اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ (بھی) کھول دیں (اور ان کے لئے یہ بھی ممکن بنا دیں کہ) وہ سارا دن اس میں (سے) اوپر چڑھتے رہیں،
15:15(تب بھی) یہ لوگ یقیناً (یہ) کہیں گے کہ ہماری آنکھیں (کسی حیلہ و فریب کے ذریعے) باندھ دی گئی ہیں بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے،
15:16اور بیشک ہم نے آسمان میں (کہکشاؤں کی صورت میں ستاروں کی حفاطت کے لئے) قلعے بنائے اور ہم نے اس (خلائی کائنات) کو دیکھنے والوں کے لئے آراستہ کر دیا،
15:17اور ہم نے اس (آسمانی کائنات کے نظام) کو ہر مردود شیطان (یعنی ہر سرکش قوت کے شرانگیز عمل) سے محفوظ کر دیا،
15:18مگر جو کوئی بھی چوری چھپے سننے کے لئے آگھسا تو اس کے پیچھے ایک (جلتا) چمکتا شہاب ہو جاتا ہے،
15:19اور زمین کو ہم نے (گولائی کے باوجود) پھیلا دیا اور ہم نے اس میں (مختلف مادوں کو باہم ملا کر) مضبوط پہاڑ بنا دیئے اور ہم نے اس میں ہر جنس کو (مطلوبہ) توازن کے مطابق نشو و نما دی،
15:20اور ہم نے اس میں تمہارے لئے اسبابِ معیشت پیدا کئے اور ان (انسانوں، جانوروں اور پرندوں) کے لئے بھی جنہیں تم رزق مہیا نہیں کرتے،
15:21اور (کائنات) کی کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے مگر یہ کہ ہمارے پاس اس کے خزانے ہیں اور ہم اسے صرف معیّن مقدار کے مطابق ہی اتارتے رہتے ہیں،
15:22اور ہم ہواؤں کو بادلوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے بھیجتے ہیں پھر ہم آسمان کی جانب سے پانی اتارتے ہیں پھر ہم اسے تم ہی کو پلاتے ہیں اور تم اس کے خزانے رکھنے والے نہیں ہو،
15:23اور بیشک ہم ہی جلاتے ہیں اور مارتے ہیں اور ہم ہی (سب کے) وارث (و مالک) ہیں،
15:24اور بیشک ہم اُن کو بھی جانتے ہیں جو تم سے پہلے گزر چکے اور بیشک ہم بعد میں آنے والوں کو بھی جانتے ہیں،
15:25اور بیشک آپ کا رب ہی تو انہیں (روزِ قیامت) جمع فرمائے گا۔ بیشک وہ بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہے،
15:26اور بیشک ہم نے انسان کی (کیمیائی) تخلیق ایسے خشک بجنے والے گارے سے کی جو (پہلے) سِن رسیدہ (اور دھوپ اور دیگر طبیعیاتی اور کیمیائی اثرات کے باعث تغیر پذیر ہو کر) سیاہ بو دار ہو چکا تھا،
15:27اور اِس سے پہلے ہم نے جنّوں کو شدید جلا دینے والی آگ سے پیدا کیا جس میں دھواں نہیں تھا،
15:28اور (وہ واقعہ یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں سِن رسیدہ (اور) سیاہ بودار، بجنے والے گارے سے ایک بشری پیکر پیدا کرنے والا ہوں،
15:29پھر جب میں اس کی (ظاہری) تشکیل کو کامل طور پر درست حالت میں لا چکوں اور اس پیکرِ (بشری کے باطن) میں اپنی (نورانی) روح پھونک دوں تو تم اس کے لئے سجدہ میں گر پڑنا،
15:30پس (اس پیکرِ بشری کے اندر نورِ ربانی کا چراغ جلتے ہی) سارے کے سارے فرشتوں نے سجدہ کیا،
15:31سوائے ابلیس کے، اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا،
15:32(اللہ نے) ارشاد فرمایا: اے ابلیس! تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا،
15:33(ابلیس نے) کہا: میں ہر گز ایسا نہیں (ہو سکتا) کہ بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سِن رسیدہ (اور) سیاہ بودار، بجنے والے گارے سے تخلیق کیا ہے،
15:34(اللہ نے) فرمایا: تو یہاں سے نکل جا پس بیشک تو مردود (راندۂ درگاہ) ہے،
15:35اور بیشک تجھ پر روزِ جزا تک لعنت (پڑتی) رہے گی،
15:36اُس نے کہا: اے پروردگار! پس تو مجھے اُس دن تک مہلت دے دے (جس دن) لوگ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے،
15:37اللہ نے فرمایا: سو بیشک تو مہلت یافتہ لوگوں میں سے ہے،
15:38وقتِ مقررہ کے دن (قیامت) تک،
15:39ابلیس نے کہا: اے پروردگار! اس سبب سے جو تو نے مجھے گمراہ کیا میں (بھی) یقیناً ان کے لئے زمین میں (گناہوں اور نافرمانیوں کو) خوب آراستہ و خوش نما بنا دوں گا اور ان سب کو ضرور گمراہ کر کے رہوں گا،
15:40سوائے تیرے ان برگزیدہ بندوں کے جو (میرے اور نفس کے فریبوں سے) خلاصی پا چکے ہیں،
15:41اللہ نے ارشاد فرمایا: یہ (اخلاص ہی) راستہ ہے جو سیدھا میرے در پر آتا ہے،
15:42بیشک میرے (اخلاص یافتہ) بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا سوائے ان بھٹکے ہوؤں کے جنہوں نے تیری راہ اختیار کی،
15:43اور بیشک ان سب کے لئے وعدہ کی جگہ جہنم ہے،
15:44جس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لئے ان میں سے الگ حصہ مخصوص کیا گیا ہے،
15:45بیشک متقی لوگ باغوں اور چشموں میں رہیں گے،
15:46(ان سے کہا جائے گا:) ان میں سلامتی کے ساتھ بے خوف ہو کر داخل ہو جاؤ،
15:47اور ہم وہ ساری کدورت باہر کھینچ لیں گے جو (دنیا میں) ان کے سینوں میں (مغالطہ کے باعث ایک دوسرے سے) تھی، وہ (جنت میں) بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے،
15:48انہیں وہاں کوئی تکلیف نہ پہنچے گی اور نہ ہی وہ وہاں سے نکالے جائیں گے،
15:49(اے حبیب!) آپ میرے بندوں کو بتا دیجئے کہ میں ہی بیشک بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہوں،
15:50اور (اس بات سے بھی آگاہ کر دیجئے) کہ میرا ہی عذاب بڑا دردناک عذاب ہے،
15:51اور انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کی خبر (بھی) سنائیے،
15:52جب وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تو انہوں نے (آپ کو) سلام کہا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ ہم آپ سے کچھ ڈر محسوس کر رہے ہیں،
15:53(مہمان فرشتوں نے) کہا: آپ خائف نہ ہوں ہم آپ کو ایک دانش مند لڑکے (کی پیدائش) کی خوشخبری سناتے ہیں،
15:54ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: تم مجھے اس حال میں خوشخبری سنا رہے ہو جبکہ مجھے بڑھاپا لاحق ہو چکا ہے سو اب تم کس چیز کی خوشخبری سناتے ہو؟،
15:55انہوں نے کہا: ہم آپ کو سچی بشارت دے رہے ہیں سو آپ نا امید نہ ہوں،
15:56ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: اپنے رب کی رحمت سے گمراہوں کے سوا اور کون مایوس ہو سکتا ہے،
15:57ابراہیم (علیہ السلام) نے دریافت کیا: اے (اللہ کے) بھیجے ہوئے فرشتو! (اس بشارت کے علاوہ) اور تمہارا کیا کام ہے (جس کے لئے آئے ہو)،
15:58انہوں نے کہا: ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں،
15:59سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھرانے کے، بیشک ہم ان سب کو ضرور بچا لیں گے،
15:60بجز ان کی بیوی کے، ہم (یہ) طے کر چکے ہیں کہ وہ ضرور (عذاب کے لئے) پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے،
15:61پھر جب لوط (علیہ السلام) کے خاندان کے پاس وہ فرستادہ (فرشتے) آئے،
15:62لوط (علیہ السلام) نے کہا: بیشک تم اجنبی لوگ (معلوم ہوتے) ہو،
15:63انہوں نے کہا: (ایسا نہیں) بلکہ ہم آپ کے پاس وہ (عذاب) لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کرتے رہے ہیں،
15:64اور ہم آپ کے پاس حق (کا فیصلہ) لے کر آئے ہیں اور ہم یقیناً سچے ہیں،
15:65پس آپ اپنے اہلِ خانہ کو رات کے کسی حصہ میں لے کر نکل جائیے اور آپ خود ان کے پیچھے پیچھے چلئے اور آپ میں سے کوئی مڑ کر (بھی) پیچھے نہ دیکھے اور آپ کو جہاں جانے کا حکم دیا گیا ہے (وہاں) چلے جائیے،
15:66اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اس فیصلہ سے بذریعہ وحی آگاہ کر دیا کہ بیشک اُن کے صبح کرتے ہی اُن لوگوں کی جڑ کٹ جائے گی،
15:67اور اہلِ شہر (اپنی بد مستی میں) خوشیاں مناتے ہوئے (لوط علیہ السلام کے پاس) آپہنچے،
15:68لوط (علیہ السلام) نے کہا: بیشک یہ لوگ میرے مہمان ہیں پس تم مجھے (اِن کے بارے میں) شرم سار نہ کرو،
15:69اور اللہ (کے غضب) سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو،
15:70وہ (بد مست لوگ) بولے: (اے لوط!) کیا ہم نے تمہیں دنیا بھر کے لوگوں (کی حمایت) سے منع نہیں کیا تھا،
15:71لوط (علیہ السلام) نے کہا: یہ میری (قوم کی) بیٹیاں ہیں اگر تم کچھ کرنا چاہتے ہو (تو بجائے بدکرداری کے ان سے نکاح کر لو)،
15:72(اے حبیبِ مکرّم!) آپ کی عمرِ مبارک کی قَسم، بیشک یہ لوگ (بھی قومِ لوط کی طرح) اپنی بدمستی میں سرگرداں پھر رہے ہیں،
15:73پس انہیں طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہی سخت آتشیں کڑک نے آلیا،
15:74سو ہم نے ان کی بستی کو زِیر و زَبر کر دیا اور ہم نے ان پر پتھر کی طرح سخت مٹی کے کنکر برسائے،
15:75بیشک اس (واقعہ) میں اہلِ فراست کے لئے نشانیاں ہیں،
15:76اور بیشک وہ بستی ایک آباد راستہ پر واقع ہے،
15:77بیشک اس (واقعۂ قومِ لوط) میں اہلِ ایمان کے لئے نشانی (عبرت) ہے،
15:78اور بیشک باشندگانِ اَیکہ (یعنی گھنی جھاڑیوں کے رہنے والے) بھی بڑے ظالم تھے،
15:79پس ہم نے ان سے (بھی) انتقام لیا، اور یہ دونوں (بستیاں) کھلے راستہ پر (موجود) ہیں،
15:80اور بیشک وادئ حجر کے باشندوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا،
15:81اور ہم نے انہیں (بھی) اپنی نشانیاں دیں مگر وہ ان سے رُوگردانی کرتے رہے،
15:82اور وہ لوگ بے خوف و خطر پہاڑوں میں گھر تراشتے تھے،
15:83تو انہیں (بھی) صبح کرتے ہی خوفناک کڑک نے آپکڑا،
15:84سو جو (مال) وہ کمایا کرتے تھے وہ ان سے (اللہ کے عذاب) کو دفع نہ کر سکا،
15:85اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے عبث پیدا نہیں کیا، اور یقیناً قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، سو (اے اخلاقِ مجسّم!) آپ بڑے حسن و خوبی کے ساتھ درگزر کرتے رہئے،
15:86بیشک آپ کا رب ہی سب کو پیدا فرمانے والا خوب جاننے والا ہے،
15:87اور بیشک ہم نے آپ کو بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں (یعنی سورۂ فاتحہ) اور بڑی عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے،
15:88آپ ان چیزوں کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے جن سے ہم نے کافروں کے گروہوں کو (چند روزہ) عیش کے لئے بہرہ مند کیا ہے، اور ان (کی گمراہی) پر رنجیدہ خاطر بھی نہ ہوں اور اہلِ ایمان (کی دل جوئی) کے لئے اپنے (شفقت و التفات کے) بازو جھکائے رکھئے،
15:89اور فرما دیجئے کہ بیشک (اب) میں ہی (عذابِ الٰہی کا) واضح و صریح ڈر سنانے والا ہوں،
15:90جیسا (عذاب) کہ ہم نے تقسیم کرنے والوں (یعنی یہود و نصارٰی) پر اتارا تھا،
15:91جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (کر کے تقسیم) کر ڈالا (یعنی موافق آیتوں کو مان لیا اور غیر موافق کو نہ مانا)،
15:92سو آپ کے رب کی قسم! ہم ان سب سے ضرور پرسش کریں گے،
15:93ان اعمال سے متعلق جو وہ کرتے رہے تھے،
15:94پس آپ وہ (باتیں) اعلانیہ کہہ ڈالیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اور آپ مشرکوں سے منہ پھیر لیجئے،
15:95بیشک مذاق کرنے والوں (کو انجام تک پہنچانے) کے لئے ہم آپ کو کافی ہیں،
15:96جو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود بناتے ہیں سو وہ عنقریب (اپنا انجام) جان لیں گے،
15:97اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینۂ (اقدس) ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں،
15:98سو آپ حمد کے ساتھ اپنے رب کی تسبیح کیا کریں اور سجود کرنے والوں میں (شامل) رہا کریں،
15:99اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو (آپ کی شان کے لائق) مقامِ یقین مل جائے (یعنی انشراحِ کامل نصیب ہو جائے یا لمحۂ وصالِ حق)،



Share this Surah Translation on Facebook...